راہداری منصوبہچین نے مودی کا اعتراض مسترد کر دیا

چین نے ہمیشہ بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ راہداری منصوبہ ہر صورت مکمل ہو گا۔

چین میں دنیا کی 20بڑی معاشی طاقتوں پر مشتمل جی 20گروپ کا سربراہی اجلاس اتوار کو شروع ہو گیا' اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا معاملہ اٹھایا۔ چینی صدر نے بھارتی وزیراعظم سے کہا کہ باہمی اختلافات کو تعمیری انداز میں دور کرنا چاہیے۔ جی 20گروپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے واضح کر دیا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ اور میری ٹائم سلک روڈ کی ایک ساتھ تعمیر اہم پیشرفت ہے۔

جب سے اقتصادی راہداری منصوبے کا اعلان ہوا ہے بھارت اس پر مسلسل اعتراضات اٹھا رہا ہے تاہم چین نے ہمیشہ بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ راہداری منصوبہ ہر صورت مکمل ہو گا۔ اب جب چین میں جی 20گروپ کا سربراہی اجلاس ہو رہا ہے تو اس موقع پر بھی چینی صدر سے ملاقات کے دوران بھارتی وزیراعظم اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف اپنے بغض کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکے' نریندر مودی نے یہ موقف اختیار کیا کہ سی پیک منصوبہ ان کے علاقے سے گزر رہا ہے۔ پاکستان یہ بارہا واضح کر چکا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ گیم چینجر ہے اس سے نہ صرف اسے بلکہ پورے خطے کے ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔

اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کی صورت میں تجارتی راہداری معاہدہ تشکیل پاتا ہے تو ایسی صورت میں سی پیک سے بھارت کو بھی خاطر خواہ فائدہ ہو گا۔ مگر حیرت انگیز امر ہے کہ بھارت پاکستان میں ہونے والے اس اہم منصوبے کی بلاجواز مخالفت پر کمربستہ ہے جب کہ اسے اس منصوبے سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا۔ اس وقت چین نہ صرف ایشیا بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑی معاشی اور عسکری قوت کے طور پر ابھر رہا ہے' امریکا کو خدشہ ہے کہ آنے والے چند برسوں بعد چین اس کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے' پہلے ہی بڑی مشکل سے اس نے اپنی حریف روس کی قوت کو کمزور کیا ہے اب وہ اپنے مقابل چین کی قوت کو کیسے برداشت کر سکتا ہے۔


یہی سبب ہے کہ امریکا بھارت کو خطے کی ایک بڑی قوت بنانے کے لیے اس کی ہر ممکن امداد کر رہا ہے۔ مبصرین کے ایک گروپ کا خیال ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو چین اور بھارت نئی جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں جب کہ دوسرا گروپ یہ سمجھتا ہے کہ چین بخوبی جانتا ہے کہ جنگ سے اس کی معاشی ترقی کو شدید نقصان پہنچے گا لہٰذا وہ براہ راست جنگ کے بجائے معاشی میدان میں اپنے حریف کو پچھاڑنے کی کوشش کرے گا' اس امر کا اظہار چینی صدر شی جن پنگ کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے موقع پر ہونے والی گفتگو سے بھی ہوتا ہے جس میں انھوں نے بھارتی حکمران پر واضح کر دیا کہ چین دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے اور باہمی اختلافات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اپنایا جائے۔

اس وقت چین کی بھارت میں اربوں ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے اور وہ کسی بھی صورت وہاں اپنے معاشی مفادات کو نقصان پہنچنے نہیں دے گا۔ چینی حکومت یہ واضح کر چکی ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات اپنی جگہ لیکن وہ پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی اور تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ملکوں کے درمیان تعلقات مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ ادھر بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے نیا حربہ آزماتے ہوئے اپنے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی قیادت میں پارلیمان کا 28رکنی وفد اتوار کو سری نگر بھیجا تاکہ وہ حریت رہنماؤں سے ملاقات کر کے انھیں اپنے حق میں رام کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن حریت رہنماؤں نے اس بھارتی چال کو ناکام بناتے ہوئے وفد سے ملنے سے انکار کر دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 5رکنی آل پارٹی وفد حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کے گھر گیا جہاں وہ گزشتہ 60روز سے نظر بند ہیں' وفد کافی دیر ان کے گھر کے دروازے پر کھڑا رہا لیکن سید علی گیلانی نے دروازہ نہ کھولا اور ملاقات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کا سلسلہ بند نہیں ہوتا وہ ملاقات نہیں کریں گے۔ بھارت کے ساتھ اختلافات اپنی جگہ پر لیکن دیکھنا یہ ہے کہ دنیا میں ہونے والی ترقی اور معاشی میدان میں پاکستان کا کیا مقام ہے۔ جی20گروپ کی معاشی ترقی سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان نے کیا منصوبہ بندی کی ہے' اس کے اشارے حکومتی سطح پر دور دور تک نہیں ملتے۔ اب راہداری منصوبہ بھی چین ہی مکمل کر رہا ہے۔ اگر پاکستان یہ چاہتا ہے عالمی سطح پر اس کی شنوائی ہو تو اسے عالمی سطح پر معاشی میدان میں اپنا مقام بنانا ہو گا۔
Load Next Story