جی 20 سربراہی کانفرنس میں مودی کی ہرزہ سرائی

سنجیدہ سربراہی کانفرنس میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا خبث باطن دنیا سے چھپ نہ سکا

سنجیدہ سربراہی کانفرنس میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا خبث باطن دنیا سے چھپ نہ سکا . فوٹو:فائل

چین کے شہر ہانگ ژو میں11 ویں جی 20 سربراہی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی، جی ٹونٹی سمٹ میں شرکا نے پناہ گزینوں کا مسئلہ بین الاقوامی قرار دینے پر اتفاق کیا، رکن اور مہمان ممالک سمیت بین الاقوامی اداروں کے سربراہوں نے شراکت داری، معیشت کوتقویت دینے، اختراعات اور عالمی اقتصادیات کی تعمیر جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا، ہانگ جو سمٹ میں طے پانے والے تمام اتفاق رائے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔

تاہم اسی سنجیدہ سربراہی کانفرنس میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا خبث باطن دنیا سے چھپ نہ سکا اور وہ پاکستان کا نام لیے بغیر ہرزہ سرائی سے باز نہیں آئے اور الزام لگایا کہ وہ خطے میں دہشت گردی اور بد امنی کا ذمے دار ہے، مودی نے اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ جنوبی ایشیا کا یہ ملک دہشتگردوں کی مالی سرپرستی کررہا ہے جب کہ تشدد اور دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی قوتیں ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہیں، جب کہ کچھ ملک اب بات کو اپنی ریاستی پالیسی میں آلہ کار کے طور پر استعمال کررہے ہیں، غالباً مودی اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ظلم وستم کا جو بازار گرم کررکھا ہے اس سے وہ اپنی گمراہ کن باتوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے میں کامیاب ہوجائیں گے مگر یہ ان کی بھول ہے ۔


وقت بھارتی عزائم کے خلاف اور کشمیر میں انصاف اور کشمیری حریت پسندوں کے حق میں ہے۔وزیراعظم نوازشریف نے6ستمبر کے تاریخی دن پر مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والی بھارتی بربریت کی مذمت کی اور کہاکہ اس مسئلے کا حل صرف اورصرف اقوام متحدہ کی قراردادوںاورکشمیریوںکی امنگوںکے مطابق ہوگا، ادھر مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کے خلاف نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پاکستان کے انسانی حقوق کے وزیر کامران مائیکل نے مظاہرے کی قیادت کی۔ مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہاکہ پیلٹ گن نہ صرف نہتے کشمیریوں کو بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کو زخمی کر رہی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ جی 20 ممالک کے سربراہوں کو بھارتی عزائم سے بھی خبردار رہنا چاہیے، دنیا کی ایک نام نہاد سیکولر جمہوریت کے دعویداروں کی طرف سے کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کو دہشتگردی قرار دینا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔صدر اوباما چین کو سرزنش کرنے کے بجائے بھارت کومطعون کرے جو عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے، عالمی برادری بھی بھارت کی دو عملی اور وادی کشمیر میں جبر واستبداد کے واقعات کا فوری نوٹس لے۔
Load Next Story