اقتدار زیادہ اہم ہے یا زندگی
شہریارخان علالت اور طویل العمری کے باوجود کیوں چیئرمین بنے رہنے پر بضد ہیں
شہریارخان علالت اور طویل العمری کے باوجود کیوں چیئرمین بنے رہنے پر بضد ہیں. فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
''اچھا یہ بتاؤ حال ہی میں ذمہ داریاں چھوڑنے پر مجبور کیے جانے والے سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کی عمر کتنی ہے''
اعلیٰ عہدے پر فائز ایک دوست نے جب مجھ سے یہ سوال کیا تو میں چونک گیا، میں نے کہا آپ تو جانتے ہیں کہ مجھے سیاست میں دلچسپی نہیں مگر اخبارات سے حاصل شدہ معلومات کے لحاظ سے کہہ سکتا ہوں 80،85 سال کے تو ہوں گے۔
''غلط، ان کی عمر88 سال ہے، تم کیا سمجھتے ہو کیا وہ ارب پتی نہیں ہوں گے، ان کے پاس زمینیں، ملازمین کی فوج، فائیو اسٹار لائف اسٹائل موجود نہیں تھا، وہ چاہتے تو سکون سے زندگی بسر کر سکتے تھے مگر اس کے باوجود مخالفین کے طعنے سنتے رہے کہ ''کوئی کام نہ کیا''، ''سندھ کا یہ حال بنا دیا''، سوشل میڈیا پر جتنے لطائف ان کے بارے میں ہیں شاید ہی کسی اور سیاستدان کے ہوں، یقیناً وہ بے انتہا دباؤ میں رہتے ہوں گے مگراس کے باوجود کبھی خود سے یہ نہیں کہا کہ عہدہ چھوڑ رہا ہوں، پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے کہنے پر بادل نخواستہ گھر جانا پڑا، اسی طرح وزیر اعظم نواز شریف کی مثال سامنے ہے، دل کا آپریشن کرانے کے باوجود کبھی کسی ایک لمحے کیلیے کیا ان کے دل میں یہ خیال آیا ہو گا کہ سیاست چھوڑ کر اب صحت پر توجہ دوں گا۔
نہیں ناں، اقتدار کا نشہ ہی ایسا ہوتا ہے، تم جیسے مڈل کلاس عام لوگوں کو نہیں پتا کہ کسی بڑی کرسی پر بیٹھ کر حکم چلانے کا کیا مزہ ہے،اور ہاں اب تو تم مجھ سے یہ سوال نہیں پوچھو گے نہ کہ شہریارخان علالت اور طویل العمری کے باوجود کیوں چیئرمین بنے رہنے پر بضد ہیں'' یہ کہہ کر میرے وہ ''دانشور نما'' دوست چلے گئے اور میں گہری سوچ میں گم ہو گیا کہ کیا واقعی مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا، اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب میں نے ان کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا کہ شہریارخان 82 سال کے ہو چکے، فارن سروس و دیگر ملازمتوں سے انھوں نے اچھی خاصی دولت کمائی ہو گی، نواب خاندان سے تعلق ہے، ہمیشہ روپے پیسے کی ریل پیل رہی، ان کے تمام بیٹے بھی اچھی پوسٹ پر فائز ہیں، ایسے میں انھیں کسی چیز کی کوئی کمی بھی نہیں، پھر بھی وہ ان دنوں شدید دباؤ میں ہیں،ٹیم ون ڈے سیریز ہار گئی، رینکنگ میں نویں پوزیشن ہے۔
ورلڈکپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ نہ کھیلنا پڑے، جب ایک عام پاکستانی کو ان باتوں پر تشویش ہے تو آپ سوچیے بورڈ کے سربراہ کا کیا حال ہو گا، یقیناً اب شہریارخان کی عمر اجازت نہیں دیتی کہ وہ اتنا پریشربرداشت کر سکیں لیکن پھر بھی کئی بار ٹیم رسوائی کا شکار ہوئی مگر عہدہ نہ چھوڑا، چیئرمین دل کے امراض کا شکار ہو چکے مگر جانے کا ارادہ نہیں رکھتے،جتنا میں نے ان کے بارے میں سنا ہے وہ ایماندار شخص ہیں البتہ ہر انسان کی طرح ان میں بھی کمزوریاں ہیں، ان کو غیرملکی دوروں اور میڈیا میں ''ان'' رہنے کا بڑا شوق ہے، اس نے انھیں نقصان بھی پہنچایا، گوکہ کہنے کو چیئرمین کا عہدہ اعزازی ہے مگر الاؤنسز وغیرہ کا حساب لگائیں تو کسی بڑی کمپنی کے ایم ڈی کی تنخواہ جتنی رقم باآسانی بن جائے گی۔
پھر ہر وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہنا، وی آئی پی پروٹوکول کسے اچھا نہیں لگتا،کل ہی ایک دوست نے واٹس ایپ پر شہریارخان کی تازہ تصویر ارسال کی جس میں وہ خاصے کمزور دکھائی دے رہے تھے، حالانکہ لارڈز ٹیسٹ کے دوران جب ہماری ملاقات ہوئی تو وہ خود خاصی دور تک واک کرتے ہوئے گئے تھے مگر اب چلنے پھرنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے،اس کے باوجود وہ بورڈ کا سربراہ بنے رہنا چاہتے ہیں یا ان کے بعض قریبی لوگ چاہتے ہیں کہ وہ نہ جائیں لیکن یہ شہریارخان کے ساتھ ظلم ہے ، اب ان کی صحت اس کی اجازت نہیں دیتی، انھیں گھر پر پوتے پوتیوں کے ساتھ دل بہلانا چاہیے نہ کہ ان مسائل میں الجھے رہیں،شاید وہ ایسا چاہتے بھی ہوں لیکن بعض شخصیات ایسا نہیں کرنے دے رہیں،اس وقت اگر شہریارخان نے عہدہ چھوڑا تو نجم سیٹھی کے آنے کا امکان روشن ہے، اس صورت میں بورڈ کے چند آفیشلز کو اپنے زیرعتاب آنے کا خطرہ ہوگا،شہریارخان کی ایک قریبی شخصیت ویسے ہی انکوائری بھگتا رہی ہے،ایک غیرملکی نیوز ایجنسی سے منسلک سینئر صحافی سے بدتمیزی پر ان کی نوکری داؤپر لگ چکی۔
انتخاب عالم کا بورڈ میں بچنا بھی اب دشوار ہے، ذاکرخان کو عمران خان کے ڈر سے گھر بٹھا کر تنخواہ تو دی جا رہی ہے مگر یہ سلسلہ زیادہ عرصے نہیں چل سکتا، سبحان احمد بھی شہریارخان سے خاصی قربت رکھتے ہیں، یقیناً اگروہ گئے تو ان تمام افراد کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسی لیے ان کی کوشش ہے کہ ایسا نہ ہو، شہریارخان کی ایک انتہائی قریبی شخصیت ان دنوں معاملات سنبھال رہی ہیں ، قریبی میڈیا کو بھی وہی ڈیل کرتی ہیں، ان کی علالت کی خبریں بھی پوشیدہ رکھی گئیں،اب بھی سوشل میڈیا پر لوگ یہ ثابت کرنے پر تلے ہیں کہ شہریارخان بالکل فٹ ہیں ہاں دل میں اسٹنٹ ضرور ڈالا جا سکتا ہے، اب کوئی یہ پوچھے کہ بھائی کسی صحتمند انسان کے اسٹنٹ کیسے ڈالیں گے۔
اس وقت قومی کرکٹ بڑے بحران کا شکار ہے، ورلڈکپ کا کوالیفائنگ راؤنڈکھیلنا پڑا تواس سے بڑی شرمندگی کی بات کوئی اور نہ ہو گی، قیادت میں تبدیلی کی بھی بازگشت چل رہی ہے،ایسے میں چیئرمین کو آرام کا موقع دینا مناسب ہوگا،اگر کسی کو نجم سیٹھی پسند نہیں ہیں توگورننگ بورڈ کی میٹنگ طلب کر کے اس مسئلے کا بھی حل نکالا جا سکتا ہے، چند ماہ بعد الیکشن بھی کرا دیں، اس سے بحران حل کرنے میں مدد ملے گی، اپنی کرسیاں بچانے کیلیے شہریارخان کی جان خطرے میں ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، اگر حالات جوں کے توں چلتے رہے تو ملکی کرکٹ تو مزید تباہ ہو گی ساتھ ہی مزید بڑے مسائل میں سامنے آ سکتے ہیں، دیکھتے ہیں ارباب اختیار کے ذہن میں کیا ہے،شہریارصاحب کیلیے بھی اب اپنی صحت پر توجہ دینا مناسب ہو گا کرکٹ تو چلتی ہی رہے گی، انھوں نے اپنے طور پر ملکی کرکٹ کو بلندیوں پر لے جانے کی ہرممکن کوشش کی، ان کے اعزاز میں تقریب سجا کر شاندار انداز سے رخصت کہنا چاہیے۔
''اچھا یہ بتاؤ حال ہی میں ذمہ داریاں چھوڑنے پر مجبور کیے جانے والے سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کی عمر کتنی ہے''
اعلیٰ عہدے پر فائز ایک دوست نے جب مجھ سے یہ سوال کیا تو میں چونک گیا، میں نے کہا آپ تو جانتے ہیں کہ مجھے سیاست میں دلچسپی نہیں مگر اخبارات سے حاصل شدہ معلومات کے لحاظ سے کہہ سکتا ہوں 80،85 سال کے تو ہوں گے۔
''غلط، ان کی عمر88 سال ہے، تم کیا سمجھتے ہو کیا وہ ارب پتی نہیں ہوں گے، ان کے پاس زمینیں، ملازمین کی فوج، فائیو اسٹار لائف اسٹائل موجود نہیں تھا، وہ چاہتے تو سکون سے زندگی بسر کر سکتے تھے مگر اس کے باوجود مخالفین کے طعنے سنتے رہے کہ ''کوئی کام نہ کیا''، ''سندھ کا یہ حال بنا دیا''، سوشل میڈیا پر جتنے لطائف ان کے بارے میں ہیں شاید ہی کسی اور سیاستدان کے ہوں، یقیناً وہ بے انتہا دباؤ میں رہتے ہوں گے مگراس کے باوجود کبھی خود سے یہ نہیں کہا کہ عہدہ چھوڑ رہا ہوں، پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے کہنے پر بادل نخواستہ گھر جانا پڑا، اسی طرح وزیر اعظم نواز شریف کی مثال سامنے ہے، دل کا آپریشن کرانے کے باوجود کبھی کسی ایک لمحے کیلیے کیا ان کے دل میں یہ خیال آیا ہو گا کہ سیاست چھوڑ کر اب صحت پر توجہ دوں گا۔
نہیں ناں، اقتدار کا نشہ ہی ایسا ہوتا ہے، تم جیسے مڈل کلاس عام لوگوں کو نہیں پتا کہ کسی بڑی کرسی پر بیٹھ کر حکم چلانے کا کیا مزہ ہے،اور ہاں اب تو تم مجھ سے یہ سوال نہیں پوچھو گے نہ کہ شہریارخان علالت اور طویل العمری کے باوجود کیوں چیئرمین بنے رہنے پر بضد ہیں'' یہ کہہ کر میرے وہ ''دانشور نما'' دوست چلے گئے اور میں گہری سوچ میں گم ہو گیا کہ کیا واقعی مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا، اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب میں نے ان کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا کہ شہریارخان 82 سال کے ہو چکے، فارن سروس و دیگر ملازمتوں سے انھوں نے اچھی خاصی دولت کمائی ہو گی، نواب خاندان سے تعلق ہے، ہمیشہ روپے پیسے کی ریل پیل رہی، ان کے تمام بیٹے بھی اچھی پوسٹ پر فائز ہیں، ایسے میں انھیں کسی چیز کی کوئی کمی بھی نہیں، پھر بھی وہ ان دنوں شدید دباؤ میں ہیں،ٹیم ون ڈے سیریز ہار گئی، رینکنگ میں نویں پوزیشن ہے۔
ورلڈکپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ نہ کھیلنا پڑے، جب ایک عام پاکستانی کو ان باتوں پر تشویش ہے تو آپ سوچیے بورڈ کے سربراہ کا کیا حال ہو گا، یقیناً اب شہریارخان کی عمر اجازت نہیں دیتی کہ وہ اتنا پریشربرداشت کر سکیں لیکن پھر بھی کئی بار ٹیم رسوائی کا شکار ہوئی مگر عہدہ نہ چھوڑا، چیئرمین دل کے امراض کا شکار ہو چکے مگر جانے کا ارادہ نہیں رکھتے،جتنا میں نے ان کے بارے میں سنا ہے وہ ایماندار شخص ہیں البتہ ہر انسان کی طرح ان میں بھی کمزوریاں ہیں، ان کو غیرملکی دوروں اور میڈیا میں ''ان'' رہنے کا بڑا شوق ہے، اس نے انھیں نقصان بھی پہنچایا، گوکہ کہنے کو چیئرمین کا عہدہ اعزازی ہے مگر الاؤنسز وغیرہ کا حساب لگائیں تو کسی بڑی کمپنی کے ایم ڈی کی تنخواہ جتنی رقم باآسانی بن جائے گی۔
پھر ہر وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہنا، وی آئی پی پروٹوکول کسے اچھا نہیں لگتا،کل ہی ایک دوست نے واٹس ایپ پر شہریارخان کی تازہ تصویر ارسال کی جس میں وہ خاصے کمزور دکھائی دے رہے تھے، حالانکہ لارڈز ٹیسٹ کے دوران جب ہماری ملاقات ہوئی تو وہ خود خاصی دور تک واک کرتے ہوئے گئے تھے مگر اب چلنے پھرنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے،اس کے باوجود وہ بورڈ کا سربراہ بنے رہنا چاہتے ہیں یا ان کے بعض قریبی لوگ چاہتے ہیں کہ وہ نہ جائیں لیکن یہ شہریارخان کے ساتھ ظلم ہے ، اب ان کی صحت اس کی اجازت نہیں دیتی، انھیں گھر پر پوتے پوتیوں کے ساتھ دل بہلانا چاہیے نہ کہ ان مسائل میں الجھے رہیں،شاید وہ ایسا چاہتے بھی ہوں لیکن بعض شخصیات ایسا نہیں کرنے دے رہیں،اس وقت اگر شہریارخان نے عہدہ چھوڑا تو نجم سیٹھی کے آنے کا امکان روشن ہے، اس صورت میں بورڈ کے چند آفیشلز کو اپنے زیرعتاب آنے کا خطرہ ہوگا،شہریارخان کی ایک قریبی شخصیت ویسے ہی انکوائری بھگتا رہی ہے،ایک غیرملکی نیوز ایجنسی سے منسلک سینئر صحافی سے بدتمیزی پر ان کی نوکری داؤپر لگ چکی۔
انتخاب عالم کا بورڈ میں بچنا بھی اب دشوار ہے، ذاکرخان کو عمران خان کے ڈر سے گھر بٹھا کر تنخواہ تو دی جا رہی ہے مگر یہ سلسلہ زیادہ عرصے نہیں چل سکتا، سبحان احمد بھی شہریارخان سے خاصی قربت رکھتے ہیں، یقیناً اگروہ گئے تو ان تمام افراد کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسی لیے ان کی کوشش ہے کہ ایسا نہ ہو، شہریارخان کی ایک انتہائی قریبی شخصیت ان دنوں معاملات سنبھال رہی ہیں ، قریبی میڈیا کو بھی وہی ڈیل کرتی ہیں، ان کی علالت کی خبریں بھی پوشیدہ رکھی گئیں،اب بھی سوشل میڈیا پر لوگ یہ ثابت کرنے پر تلے ہیں کہ شہریارخان بالکل فٹ ہیں ہاں دل میں اسٹنٹ ضرور ڈالا جا سکتا ہے، اب کوئی یہ پوچھے کہ بھائی کسی صحتمند انسان کے اسٹنٹ کیسے ڈالیں گے۔
اس وقت قومی کرکٹ بڑے بحران کا شکار ہے، ورلڈکپ کا کوالیفائنگ راؤنڈکھیلنا پڑا تواس سے بڑی شرمندگی کی بات کوئی اور نہ ہو گی، قیادت میں تبدیلی کی بھی بازگشت چل رہی ہے،ایسے میں چیئرمین کو آرام کا موقع دینا مناسب ہوگا،اگر کسی کو نجم سیٹھی پسند نہیں ہیں توگورننگ بورڈ کی میٹنگ طلب کر کے اس مسئلے کا بھی حل نکالا جا سکتا ہے، چند ماہ بعد الیکشن بھی کرا دیں، اس سے بحران حل کرنے میں مدد ملے گی، اپنی کرسیاں بچانے کیلیے شہریارخان کی جان خطرے میں ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، اگر حالات جوں کے توں چلتے رہے تو ملکی کرکٹ تو مزید تباہ ہو گی ساتھ ہی مزید بڑے مسائل میں سامنے آ سکتے ہیں، دیکھتے ہیں ارباب اختیار کے ذہن میں کیا ہے،شہریارصاحب کیلیے بھی اب اپنی صحت پر توجہ دینا مناسب ہو گا کرکٹ تو چلتی ہی رہے گی، انھوں نے اپنے طور پر ملکی کرکٹ کو بلندیوں پر لے جانے کی ہرممکن کوشش کی، ان کے اعزاز میں تقریب سجا کر شاندار انداز سے رخصت کہنا چاہیے۔