امریکی مفادات کیلیے مستحکم وخوشحال پاکستان ضروری ہے اوباما انتظامیہ
انسداد دہشت گردی، ایٹمی عدم پھیلاؤ، افغان امن عمل اور خطے کی ترقی کیلیے کوششوں میں پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے
2017ء میں بھی پاکستان کو سیکیورٹی اور معیشت کے چیلنجز کا سامنا رہیگا،امریکا شراکت داری جاری رکھے گا،سرکاری دستاویز ۔ فوٹو؛ فائل
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ مستحکم اور خوشحال پاکستان واشنگٹن کے مفادات کیلیے انتہائی ضروری ہے اور موجودہ صورتحال میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
2017ء میں پاکستان کو امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر روشنی ڈالنے والی امریکی حکومت کی سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی انسداد دہشتگردی، جوہری عدم پھیلاؤ، علاقائی استحکام، افغان امن عمل اور خطے کی ترقی کیلیے کوششوں میں پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا خوشحال، مستحکم اور جمہوری پاکستان میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کیلیے بھی اہم ہے۔
یہ دستاویز امریکی حکومت کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے جس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے دورہ بھارت کے دوران سامنے آنے والی اس تجویز کو رد کیا کہ واشنگٹن کو پاکستان سے تعلقات ختم کر دینے چاہئیں کیونکہ وہ بااعتماد اتحادی نہیں۔ دستاویز میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے 2017ء میں بھی پاکستان کی سیکیورٹی اور معاشی امداد جاری رکھنے کے فیصلے کے حوالے سے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق اوباما انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی معاونت فراہم کر کے امریکا فاٹا میں درپیش دہشت گردی اور شدت پسندی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلیے پاکستان کی اہلیت میں اضافہ کر رہا ہے۔ اوباما انتظامیہ نے خبردار کیا کہ2017ء میں بھی پاکستان کو داخلی سلامتی، معیشت اور سماجی حلقوں کے حوالے سے بڑے چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ امریکی انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان مثبت سیکیورٹی پارٹنرشپ موجود ہے اور باہمی سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کیلیے دونوں ملکر کام کر رہے ہیں۔
2017ء میں پاکستان کو امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر روشنی ڈالنے والی امریکی حکومت کی سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی انسداد دہشتگردی، جوہری عدم پھیلاؤ، علاقائی استحکام، افغان امن عمل اور خطے کی ترقی کیلیے کوششوں میں پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا خوشحال، مستحکم اور جمہوری پاکستان میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات کیلیے بھی اہم ہے۔
یہ دستاویز امریکی حکومت کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے جس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے دورہ بھارت کے دوران سامنے آنے والی اس تجویز کو رد کیا کہ واشنگٹن کو پاکستان سے تعلقات ختم کر دینے چاہئیں کیونکہ وہ بااعتماد اتحادی نہیں۔ دستاویز میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے 2017ء میں بھی پاکستان کی سیکیورٹی اور معاشی امداد جاری رکھنے کے فیصلے کے حوالے سے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق اوباما انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی معاونت فراہم کر کے امریکا فاٹا میں درپیش دہشت گردی اور شدت پسندی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلیے پاکستان کی اہلیت میں اضافہ کر رہا ہے۔ اوباما انتظامیہ نے خبردار کیا کہ2017ء میں بھی پاکستان کو داخلی سلامتی، معیشت اور سماجی حلقوں کے حوالے سے بڑے چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ امریکی انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان مثبت سیکیورٹی پارٹنرشپ موجود ہے اور باہمی سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کیلیے دونوں ملکر کام کر رہے ہیں۔