ضرب عضب بقا کی جنگ ہے
آرمی چیف کے ارشادات کے عین مطابق نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے اور بنیادی اصلاحات کے لیے پیش رفت کرنا ہوگی
، فوٹو؛ فائل
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ ہم روایتی و غیر روایتی ہر انداز میں وطن عزیز کا دفاع کرنیکی صلاحیت رکھتے ہیں اور دشمن کی ہر سازش سے بخوبی آگاہ ہیں ، اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہ ہیں کیوں کہ امن کی اصل حقیقت خطے میں طاقت کا توازن ہے ، ہم دوستی نبھانا اور دشمنی کا قرض اتارنا بھی جانتے ہیں، جرائم اور کرپشن کا گٹھ جوڑ امن کی راہ میں رکاوٹ ہے، دنیا کے نزدیک ضرب عضب فوجی آپریشن ہو سکتا ہے لیکن ہمارے لیے یہ وطن کی بقاء کی جنگ ہے، ہمارے امن کولاحق اندرونی، بیرونی خطرات پوری طرح ختم نہیں ہوئے، قومی سلامتی کی خاطر کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرینگے۔
جنرل راحیل شریف نے منگل کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم شہداء کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان زریں خیالات کا اظہار کیا جو نہ صرف قومی امنگوں کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی و خود مختاری کے مخالف عناصر کے لیے ان کا رتبہ ایک عسکری للکار جیسا ہے ، ایک ایسی صبر آزما اور گہری کشمکش سے دوچار داخلی و خارجی صورتحال میں جہاں وطن عزیز کے خلاف دشمن بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں، سازشوں کے نئے جال پھیلا رہے ہیں، خطے کو بدامنی اور تزویراتی عدم استحکام کا شکار بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں، اور جہاں داخلی طور پر کچھ گمراہ عناصر اور ریاستی رٹ کو نہ ماننے والے انتہا پسند گروہ قوم کے صبر کو آزما رہے ہیں۔
ان سب کے خلاف ایک قومی جوش وجذبہ بیدار کرنے کے لیے ایسے ہی زور بیاں کی ضرورت تھی۔ بری فوج کے سربراہ کا خطاب چشم کشا اور ولولہ انگیز ہے اور یہ حقیقت ہے کہ وطن عزیز کے دشمن کوئی للو پنجو جیسی قوتیں نہیں ہیں بلکہ باون گزے ہیں، خطے کے ساتھ ساتھ ان کا عالمی سطح پر بالادستی کے حصول اور پوری دنیا کو اپنے مفادات کے زیر نگین کرنے کی جنونی خواہشیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، بھارت پاکستان مخالف جہتوں میں ہاتھ پیر چلا رہا ہے، اسے مقبوضہ کشمیر میں پہلی بار وہاں کی دھرتی سے جڑے نوجوانوں کے انقلابی فشارکا سامنا ہے، کشمیری عوام بھارتی ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکے ہیں،اس لیے بھارت پاکستان کو چور دروازے سے زک پہنچانے میں بعض عالمی قوتوں اور خطے کے ممالک کی جبیں سائی کررہا ہے۔
چنانچہ پاکستان کے حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں کو اس عسکری خطاب کی روشنی میں اپنے گھر کے معاملات کو ٹھیک رکھنے کی ضرورت ہے جس کا احساس اسی تقریر میں یہ کہہ کر دلایا گیا ہے کہ ضرب عضب کے بھرپور ثمرات حاصل کرنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز اور ریاستی اداروں کو مکمل خلوص نیت اور یکسوئی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ جنرل صاحب کے بقول دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کا آپریشن ضرب عضب کامیابی کے حتمی مراحل میں ہے، ستمبر 1965 کی جنگ ملک کی تاریخ کا روشن باب ہے، پاکستان پہلے مضبوط تھا اور آج ناقابل تسخیر ہے۔
دہشت گردی کے ناسور سے کئی ممالک انتشار کا شکار ہوئے، مگر اللہ کے کرم سے پاکستان نے دہشت گردی کے چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کیا ہے، دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں اٹھارہ ہزارشہریوں، پانچ ہزارفوجی جوانوں نے جان کا نذرانہ دیا ہے، ضرب عضب کے تحت 19 ہزار سے زائد آپریشنز کامیابی سے ہوئے، ضرب عضب کی کامیابی تینوں مسلح افواج کے درمیان بے مثال تعاون کا نتیجہ ہے، خفیہ ایجنسیوں نے ضرب عضب میں اہم کردار ادا کیا، انھوں نے کہا کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔
کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ حق خودارادیت کے لیے مقبوضہ کشمیرکے عوام کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں، پاک چین دوستی کا منہ بولتا ثبوت سی پیک کا عظیم منصوبہ ہے ، افغانستان ہمارا ہمسایہ اور برادر ملک ہے، افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ دانشوروں اور میڈیا کو اسلام کا پرامن پیغام پھیلانا ہوگا ۔یہ محض ایک تقریر نہ تھی بلکہ اس میں پاکستان کا لمحہ موجود میں جو کردار ابھر کر سامنے آیا ہے اس کی جھلک دنیا کو دکھانی تھی۔سیاست دانوں کو امن کے لیے اپنا سیاسی کردار ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
جنرل راحیل شریف نے جس پاکستان کے ناقابل تسخیر ہونے کا ذکر کیا ہے اسے مزید ناقابل تسخیر اور مضبوط ومستحکم بنانے کے لیے قومی ایشوز پر مکمل اتفاق رائے وقت کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کا انتباہ ہے کہ ریاست کے اندر ریاستیں ہیں، جتنا گہرائی میں گئے اتنا گند نکل رہا ہے، ملک ایڈہاک پر نہیں چل سکتا۔ ادھر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ چیخ پڑے کہ کون سی جمہوریت اور آئین؟ ملک میں بادشاہت ہے ، غریب کی کوئی نہیں سنتا، غریب کا پیٹ چاک کرکے اہداف پورے نہ کریں۔ عوام جمہوریت کے ثمرات کے منتطر ہیں، دیکھئے صدر اوباما بھی جاتے جاتے یہ کہنے پر مجبورہوگئے ہیں کہ امریکی مفادات کے لیے مستحکم اور خوشحال پاکستان ضروری ہے، مگر یہی بات اپنے حکمران کہتے ہوئے کیوں شرماتے ہیں۔ انھیں آرمی چیف کے ارشادات کے عین مطابق نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے اور بنیادی اصلاحات کے لیے پیش رفت کرنا ہوگی۔
جنرل راحیل شریف نے منگل کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم شہداء کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان زریں خیالات کا اظہار کیا جو نہ صرف قومی امنگوں کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی و خود مختاری کے مخالف عناصر کے لیے ان کا رتبہ ایک عسکری للکار جیسا ہے ، ایک ایسی صبر آزما اور گہری کشمکش سے دوچار داخلی و خارجی صورتحال میں جہاں وطن عزیز کے خلاف دشمن بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں، سازشوں کے نئے جال پھیلا رہے ہیں، خطے کو بدامنی اور تزویراتی عدم استحکام کا شکار بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں، اور جہاں داخلی طور پر کچھ گمراہ عناصر اور ریاستی رٹ کو نہ ماننے والے انتہا پسند گروہ قوم کے صبر کو آزما رہے ہیں۔
ان سب کے خلاف ایک قومی جوش وجذبہ بیدار کرنے کے لیے ایسے ہی زور بیاں کی ضرورت تھی۔ بری فوج کے سربراہ کا خطاب چشم کشا اور ولولہ انگیز ہے اور یہ حقیقت ہے کہ وطن عزیز کے دشمن کوئی للو پنجو جیسی قوتیں نہیں ہیں بلکہ باون گزے ہیں، خطے کے ساتھ ساتھ ان کا عالمی سطح پر بالادستی کے حصول اور پوری دنیا کو اپنے مفادات کے زیر نگین کرنے کی جنونی خواہشیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، بھارت پاکستان مخالف جہتوں میں ہاتھ پیر چلا رہا ہے، اسے مقبوضہ کشمیر میں پہلی بار وہاں کی دھرتی سے جڑے نوجوانوں کے انقلابی فشارکا سامنا ہے، کشمیری عوام بھارتی ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکے ہیں،اس لیے بھارت پاکستان کو چور دروازے سے زک پہنچانے میں بعض عالمی قوتوں اور خطے کے ممالک کی جبیں سائی کررہا ہے۔
چنانچہ پاکستان کے حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں کو اس عسکری خطاب کی روشنی میں اپنے گھر کے معاملات کو ٹھیک رکھنے کی ضرورت ہے جس کا احساس اسی تقریر میں یہ کہہ کر دلایا گیا ہے کہ ضرب عضب کے بھرپور ثمرات حاصل کرنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز اور ریاستی اداروں کو مکمل خلوص نیت اور یکسوئی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ جنرل صاحب کے بقول دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کا آپریشن ضرب عضب کامیابی کے حتمی مراحل میں ہے، ستمبر 1965 کی جنگ ملک کی تاریخ کا روشن باب ہے، پاکستان پہلے مضبوط تھا اور آج ناقابل تسخیر ہے۔
دہشت گردی کے ناسور سے کئی ممالک انتشار کا شکار ہوئے، مگر اللہ کے کرم سے پاکستان نے دہشت گردی کے چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کیا ہے، دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں اٹھارہ ہزارشہریوں، پانچ ہزارفوجی جوانوں نے جان کا نذرانہ دیا ہے، ضرب عضب کے تحت 19 ہزار سے زائد آپریشنز کامیابی سے ہوئے، ضرب عضب کی کامیابی تینوں مسلح افواج کے درمیان بے مثال تعاون کا نتیجہ ہے، خفیہ ایجنسیوں نے ضرب عضب میں اہم کردار ادا کیا، انھوں نے کہا کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔
کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ حق خودارادیت کے لیے مقبوضہ کشمیرکے عوام کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں، پاک چین دوستی کا منہ بولتا ثبوت سی پیک کا عظیم منصوبہ ہے ، افغانستان ہمارا ہمسایہ اور برادر ملک ہے، افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ دانشوروں اور میڈیا کو اسلام کا پرامن پیغام پھیلانا ہوگا ۔یہ محض ایک تقریر نہ تھی بلکہ اس میں پاکستان کا لمحہ موجود میں جو کردار ابھر کر سامنے آیا ہے اس کی جھلک دنیا کو دکھانی تھی۔سیاست دانوں کو امن کے لیے اپنا سیاسی کردار ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
جنرل راحیل شریف نے جس پاکستان کے ناقابل تسخیر ہونے کا ذکر کیا ہے اسے مزید ناقابل تسخیر اور مضبوط ومستحکم بنانے کے لیے قومی ایشوز پر مکمل اتفاق رائے وقت کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کا انتباہ ہے کہ ریاست کے اندر ریاستیں ہیں، جتنا گہرائی میں گئے اتنا گند نکل رہا ہے، ملک ایڈہاک پر نہیں چل سکتا۔ ادھر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ چیخ پڑے کہ کون سی جمہوریت اور آئین؟ ملک میں بادشاہت ہے ، غریب کی کوئی نہیں سنتا، غریب کا پیٹ چاک کرکے اہداف پورے نہ کریں۔ عوام جمہوریت کے ثمرات کے منتطر ہیں، دیکھئے صدر اوباما بھی جاتے جاتے یہ کہنے پر مجبورہوگئے ہیں کہ امریکی مفادات کے لیے مستحکم اور خوشحال پاکستان ضروری ہے، مگر یہی بات اپنے حکمران کہتے ہوئے کیوں شرماتے ہیں۔ انھیں آرمی چیف کے ارشادات کے عین مطابق نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے اور بنیادی اصلاحات کے لیے پیش رفت کرنا ہوگی۔