غیر قانونی تعمیرات یکساں کارروائی کی جائے

ایم کیو ایم کے غیر قانونی دفاتر گرانے کے ساتھ دیگر جماعتوں کے دفاتر بھی مسمار کیے جائیں

۔ فوٹو؛ ایکسپریس

کراچی میں غیر قانونی طور پر قائم دفاتر اور تجاوزات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، جو یقیناً قانون نافذ کرنے والوں کی جانب سے مستحسن اقدام ہے لیکن ساتھ ہی ان تمام تر کارروائیوں کا رخ مخصوص سیاسی جماعت کی جانب ہونے سے شہریوں کی ایک تعداد میں تشویش کی لہر بھی دوڑ رہی ہے۔ لازم ہے کہ ان تمام تر کارروائیوں کو غیر جانب داری اور بلاتخصیص سیاسی وابستگیوں کے سرانجام دیا جائے تاکہ ایک مخصوص طبقے کو انتقامی کارروائی کا احساس نہ ہو۔ ایکسپریس کو حاصل اطلاعات میں محکمہ پولیس کے اسپیشل برانچ کے ذرایع کے مطابق انکشاف ہوا ہے کہ شہر بھر میں مختلف سیاسی، مذہبی و سماجی جماعتوں کے کارکنان نے 167 دفاتر غیرقانونی طور پر بنا رکھے ہیں ۔


جن میں اکثر کچی آبادیوں میں قائم ہیں، جرائم پیشہ افراد اور لینڈ مافیا کے سرگرم عناصر نے اپنی اپنی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں کو خوش کرنے کے لیے نہ صرف یہ دفاتر قائم کیے بلکہ اکثر غیرقانونی دفاتر کا افتتاح وزراء اور منتخب نمایندوں سے بھی کروایا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ تجاوزات قائم کی جا رہی ہوتی ہیں تو محکمہ لینڈ ڈپارٹمنٹ کہاں سو رہا ہوتا ہے؟ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ جہاں تنگ علاقوں میں کثیر منزلہ عمارات تعمیر ہو رہی ہیں وہیں کھیل کے میدان اور کشادہ سڑکیں ناپید ہوتی جا رہی ہیں، سیاسی جماعتوں اور لینڈ مافیا نے پارک اور میدانوں پر قبضہ کر کے غیر قانونی تعمیرات قائم کی ہوئی ہیں جو شہریوں کی حق تلفی ہے۔ اس پر مستزاد چائنا کٹنگ کے نام پر مکمل پلاٹنگ کرکے معصوم شہریوں کو فروخت کردیے گئے، گزشتہ دنوں چائنا کٹنگ پلاٹوں پر قائم ایسی ہی ایک بستی کو مکمل تاراج کردیا گیا لیکن شہریوں کو کوئی معاوضہ فراہم نہ کیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی یہ شکایت بھی بجا ہے کہ کراچی میں محض ایم کیو ایم کے دفاتر گرانے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ شہر میں دیگر سیاسی جماعتوں کے بھی غیر قانونی دفاتر موجود ہیں۔ صائب ہوگا کہ ایم کیو ایم کے غیر قانونی دفاتر گرانے کے ساتھ دیگر جماعتوں کے دفاتر بھی مسمار کیے جائیں تاکہ یکطرفہ کارروائی کے الزام کا سدباب کیا جاسکے۔ نیز شہر میں قائم دیگر تجاوزات، رہائشی علاقوں میں عوام کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات اور نالوں فٹ پاتھوں پر قائم دیگر تعمیرات کو مسمار کیا جائے تاکہ شہر کا حسن دوبارہ لوٹ آئے۔
Load Next Story