لندن میں سہ فریقی مذاکرات

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کی کوششوں پر پاک افغان وزرائے خارجہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

تینوں وزرائے خارجہ نے افغان مصالحتی عمل اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ فوٹو: فائل

لندن میں پاکستان، برطانیہ اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے مابین سہ فریقی مذاکرات ہوئے ہیں جن میں افغانستان میں قیام امن سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ جمعرات کو ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان کی نمایندگی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کی، برطانیہ کی طرف سے ولیم ہیگ اور افغانستان کے ڈاکٹر زلمے رسول خلیل زاد نے مذاکرات میں حصہ لیا۔ میڈیا کے ذریعے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات میں خطے کے استحکام اور ترقی کے حوالے سے تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف اقدامات زیر بحث آئے۔ برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کی کوششوں پر پاک افغان وزرائے خارجہ مبارک باد کے مستحق ہیں، برطانیہ دونوں ممالک کے مابین اسٹرٹیجک پارٹنرشپ کا خیرمقدم کرے گا۔

تینوں وزرائے خارجہ نے افغان مصالحتی عمل اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ ادھر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اسلام آباد میں امریکا کے سفیر رچرڈ جی اولسن سے ملاقات کی ہے' میڈیا کی اطلاع کے مطابق اس ملاقات میں وزیر اعظم نے ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھایا ہے اور انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ڈرون حملے غیر سود مند ہیں' دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے متبادل ذرایع استعمال کیے جائیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم ان لوگوں کے خلاف لڑ رہے ہیں جو ہماری مساجد، اسکولوں، چھائونیوں، بیگناہ بچوں اور شہریوں پر حملے کرتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ ہمیں بہت سے کام کرنے ہیں مگر ہم ان کا خاتمہ کر دیں گے۔

جب لندن میں سہ فریقی مذاکرات ہو رہے تھے اور اسلام میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف امریکی سفیر کو ڈرون حملوں کے مضمرات سے آگاہ کر رہے تھے' اس دوران پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے ایک اور حملے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق جاسوس طیارے نے جمعرات کی صبح میرانشاہ سے 20 کلو میٹر دور تحصیل میر علی کے گائوں مبارک شاہی میں ایک مکان پر 2میزائل داغے جس سے مکان مکمل تباہ ہو گیا، بی بی سی کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ مارے جانے والوں میں ایک ازبک بھی شامل ہے، حملے کے بعد ڈرون طیارے کئی گھنٹے تک پرواز کرتے رہے، 2012ء کے دوران امریکا نے قبائلی علاقوں میں 43 ڈرون حملے کیے جن میں القاعدہ کے6 اہم کمانڈروں کے علاوہ 325 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے۔


اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے احتجاج' تجاویز اور مشورے کے باوجود امریکا کے پالیسی سازوں کی نظر میں ڈرون حملے مفید ثابت ہو رہے ہیں اور وہ اپنی ڈرون پالیسی میں کوئی تبدیلی لانے پر تیار نہیں۔ لندن میں جو مذاکرات ہوئے ہیں' وہاں سے جو اطلاعات میڈیا کی زینت بنی ہیں' ان میں بھی ڈرون حملوں کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لندن مذاکرات میں بھی یہ ایشو اٹھایا جاتا اور تینوں ملک اس حوالے سے کوئی متفقہ موقف اپناتے' اس کے بعد امریکا سے بات کی جاتی' اس طرح یہ زیادہ موثر ہوتا لیکن ایسا لگتا ہے کہ افغانستان اور برطانیہ بھی اس حوالے سے کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے' ڈرون حملوں کو بند کرانے کے لیے افغانستان کے فریقوں کی رائے میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہے۔ امریکا کے علاوہ افغانستان میں نیٹو ایک اہم فریق ہے۔ نیٹو میں برطانیہ' فرانس' اٹلی' جرمنی اور اسپین جیسے طاقتور ملک شامل ہیں' پاکستان کی وزارت خارجہ کو چاہیے کہ انھیں بھی ڈرون حملوں کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے' جب ان ممالک کے موقف میں تبدیلی آئی تو امریکا کو مجبور ہو کر اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا پڑے گی۔

البتہ افغان صدر حامد کرزئی نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں تیزی سے پروان چڑھنے والی عدم تحفظ کی فضا اور بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیچھے امریکی و اتحادی فوج کا غیر ذمے دارانہ کردار شامل ہے، جب تک تمام قیدیوں کو افغان حکام کے حوالے نہیں کیا جاتا امریکا کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے، امریکی ٹی وی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغان صدر نے کہا کہ ملک میں پر تشدد واقعات کی بڑی وجہ شدت پسند گروپ ہیں، طالبان نے 2001ء میں چھینے گئے علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا ہے، انھوں نے کہا کہ عدم تحفظ کی موجودہ صورتحال میں امریکی و اتحادی افواج کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور وہ بدستور اس کے ذمے دار ہیں۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ معاہدے کے باوجود کئی افغان قیدی بدستور امریکی افواج کی تحویل میں ہیں جو اس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس پر امریکی صدر اوباما اور میں نے دستخط کیے تھے۔صدر کرزئی کے واویلے سے ثابت ہوتا ہے کہ نیٹو اور امریکا کی فوجیں افغانستان میں من مانی کررہی ہیں۔لیکن کرزئی کی کوئی سن نہیں رہا۔ افغانستان کی حکومت اگر پاکستان کے مسائل کو سمجھے تو ڈرون حملے ہی نہیں افغانستان کا سارا بحران ختم ہو سکتا ہے۔افغانستان کی انتظامیہ نے امریکا کی خوشنودی کے کیے ہر کام کیا ہے، اس کی وجہ سے کئی معاملات بگڑ گئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور اس سارے خطے کو امن دینے کے لیے مشترکہ موقف اپنائیں تو دہشت گردی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو سکتا ہے۔
Load Next Story