باتصویر انتخابی فہرستیں مستحسن فیصلہ
ہر الیکشن کے بعد انتخابات میں دھاندلی اور جعلی و بوگس ووٹوں کے اندراج کی شکایات کا غلغلہ لازمی اٹھتا ہے۔
طارق ملک نے کہا کہ انتخابات کے لیے پاکستان میں پہلی بار ایسی ووٹر لسٹیں مرتب کی جارہی ہیں جن پر ووٹرز کی تصاویر بھی آویزاں ہوں گی. فوٹو: فائل
اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ووٹرز کی تصاویر والی انتخابی فہرستیں متعارف کرائی جارہی ہیں۔ جمعرات کو پلڈاٹ کے زیر اہتمام جمہوریت کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے نادرا کے چیئرمین طارق ملک نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ووٹرز لسٹوں میں موجود غلطیوں کی درستی کا عمل جاری ہے، اب تک 8 کروڑ 60 لاکھ ووٹرز کا اندراج ہوچکا ہے، روزانہ کی بنیاد پر نادرا شہریوں کو 15 ہزار شناختی کارڈ جاری کر رہا ہے، انھوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں میں 86 فیصد خواتین کی رجسٹریشن کی گئی ہے جب کہ 9 کروڑ 28 لاکھ شہریوں کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز جاری کردیے گئے ہیں۔
طارق ملک نے کہا کہ انتخابات کے لیے پاکستان میں پہلی بار ایسی ووٹر لسٹیں مرتب کی جارہی ہیں جن پر ووٹرز کی تصاویر بھی آویزاں ہوں گی، تاکہ انتخابی عمل میں شفافیت کو ممکن بنایا جاسکے۔ ہر الیکشن کے بعد انتخابات میں دھاندلی اور جعلی و بوگس ووٹوں کے اندراج کی شکایات کا غلغلہ لازمی اٹھتا ہے جب کہ کئی مرحومین جن کا اندراج ٹائون کمیٹی میں نہیں ہوتا ان کے ووٹ کاسٹ کیے جانے کی شکایات بھی عام ہیں، ایسے میں انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے باتصویر ووٹر لسٹوں کا اجرا یقیناً ایک مستحسن فیصلہ ہے، اس سے نہ صرف انتخابات میں دھاندلیوں کا سدباب کیا جاسکے گا بلکہ جعلی ووٹوں کی روک تھام بھی ممکن ہوسکے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فیصلے پر قومی اتفاق رائے قائم کرتے ہوئے ملک گیر سطح پر لاگو کیا جائے اور آیندہ انتخابات سے قبل ان باتصویر فہرستوں کی تکمیل یقینی بنائی جائے۔ باتصویر فہرستوں کے فیصلے پر قومی اتفاق رائے اور عمل درآمد ہو تو شفاف انتخابات پر کسی کو انگلی اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، بلاشبہ یہ ایک احسن اقدام ہے۔
طارق ملک نے کہا کہ انتخابات کے لیے پاکستان میں پہلی بار ایسی ووٹر لسٹیں مرتب کی جارہی ہیں جن پر ووٹرز کی تصاویر بھی آویزاں ہوں گی، تاکہ انتخابی عمل میں شفافیت کو ممکن بنایا جاسکے۔ ہر الیکشن کے بعد انتخابات میں دھاندلی اور جعلی و بوگس ووٹوں کے اندراج کی شکایات کا غلغلہ لازمی اٹھتا ہے جب کہ کئی مرحومین جن کا اندراج ٹائون کمیٹی میں نہیں ہوتا ان کے ووٹ کاسٹ کیے جانے کی شکایات بھی عام ہیں، ایسے میں انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے باتصویر ووٹر لسٹوں کا اجرا یقیناً ایک مستحسن فیصلہ ہے، اس سے نہ صرف انتخابات میں دھاندلیوں کا سدباب کیا جاسکے گا بلکہ جعلی ووٹوں کی روک تھام بھی ممکن ہوسکے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فیصلے پر قومی اتفاق رائے قائم کرتے ہوئے ملک گیر سطح پر لاگو کیا جائے اور آیندہ انتخابات سے قبل ان باتصویر فہرستوں کی تکمیل یقینی بنائی جائے۔ باتصویر فہرستوں کے فیصلے پر قومی اتفاق رائے اور عمل درآمد ہو تو شفاف انتخابات پر کسی کو انگلی اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، بلاشبہ یہ ایک احسن اقدام ہے۔