پاکستان سرمایہ کاری پالیسیوں کے لحاظ سے خطے کا بہترین ملک ہے اوورسیز انوسٹرز چیمبر

مزید بہتری لائی جا سکتی ہے، انٹلیکچوئل رائٹس سے متعلق قانون سازی اچھی پیشرفت ہے، دائرہ کار بڑھایا جائے

عالمی کاروباری برادری پاکستان کو اہمیت دیتی ہے، 10 بڑے مسائل کا ماہانہ جائزہ لیا جانا چاہیے، صدر او آئی سی سی آئی کا پریزیڈنسی میں سالانہ ڈنر سے خطاب۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق پالیسیاں اور طریقہ کار بھارت، چین، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور سری لنکا سے زیادہ بہتر ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسیوں پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تاکہ پاکستان کو سرمایہ کاری کیلیے مزید بہتر ملک بنایا جاسکے۔

ان خیالات کا اظہار او آئی سی سی آئی (OICCI) کے صدر آصف جمعہ نے اسلام آباد میں پریزیڈنسی میں او آئی سی سی آئی کے سالانہ ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس خلاء کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو درپیش دس بڑے مسائل پر ہر ماہ ممکن نہ ہو تو سہ ماہی بنیادوں پر جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ اس سسٹم پر عمل سے ہمارے متعلقہ کاروباروں میں بہتری آئی ہے اور ہمیں خوشی ہوگی کہ یہ سسٹم حکومت کو دیں۔ ہم یہ بھی سفارش کریں گے کہ معیشت، کاروبار اور صنعتی ترقی سے منسلک تمام حکومتی فنکشنز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام بین الاقوامی کمپنیوں کے اعلیٰ ایگزیکٹو موجود ہیں جو دنیا کی 500 بہترین کمپنیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں انتہائی اہم مہمان چیئرمین مرک گلوبل کرل لڈوگ کلے بھی ہیں جو بی ایم ڈبلیو کے نائب صدر ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی کاروباری برادری پاکستان کو اہمیت دیتی ہے اور وہ اس کی ترقی میں کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتی ہے۔آصف جمعہ نے کہا کہ او آئی سی سی آئی کے 189 ارکان 14 اہم سیکٹروں میں کام کر رہے ہیں جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار اور محاصل میں 20 فیصد سے زائد فراہم کرتے ہیں جبکہ بلاواسطہ اور بالواسطہ دس لاکھ سے زائد لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔




ہماری رکن کمپنیاں سماجی بہتری کے کئی پروگراموں پر عمل پیرا ہیں اور معاشرے کے غریب طبقے کو سی ایس آر سرگرمیوں کے ذریعے آمدنی فراہم کررہی ہیں۔ ہمارے ارکان پاکستان میں آنے والی قدرتی آفات میں ریلیف کاموں میں ہمیشہ حصہ دار رہے ہیں اور 2010ء کے سیلاب میں رکن کمپنیوں نے 2 ارب روپے سے زائد کی امداد فراہم کی۔ ہمارے ارکان کے پاس یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ وہ مزید ریونیو بڑھا سکیں، سرمایہ کاری میں اضافہ کرسکیں، ملازمتوں کے نئے مواقع اور سماج کی بہتری میں مزید کردار ادا کرسکیں۔ تاہم اس صلاحیت کا ادراک نہیں کیا گیا۔

آصف جمعہ نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں موجود مواقع کو ہر فورم پر اجاگر کیاہے تاہم اب تک قابل ذکر بزنس شروع نہیں ہوئے ہیں جبکہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں بھی کمی ہوئی ہے جو سال 2012ء میں صرف 813 ملین ڈالر تھی جبکہ یہ سرمایہ کاری گزشتہ سال 2011ء میں دو گنا تھی۔

تاہم اس کے باوجود ہمارے ارکان نے گزشتہ ایک سال میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور پاکستان میں اپنے کاروبار کو وسیع کیا ہے۔آصف جمعہ نے صدر زرداری کی توجہ مسائل پر مبذول کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کے حل کی صورت میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول مزید بہتر ہوگا۔ ان میں ایک اہم مسئلہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا کم ہونا بھی ہے۔ ٹیکس نیٹ وسیع نہ کئے جانے کی وجہ سے سارا بوجھ دستاویزی کارپوریٹ سیکٹر پر چلا جاتا ہے۔ اسی طرح 35 فیصد کارپوریٹ ٹیکس بھی بہت زیادہ ہے جس سے دستاویزی کارپوریٹ سیکٹر متاثر ہورہا ہے۔ اس کا حل ٹیکس ریٹ کو کم کرنا اور ٹیکس اسٹرکچر میں دی گئی چھوٹ کو ختم کرنا ہے۔

تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں سوچ و بچار کرنی چاہیے۔انہوں نے انٹلیکچوئل رائٹس کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے متعلقہ بلوں کی پارلیمنٹ سے منظوری باعث خوشی ہے اور صدر کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ ایک قانون بن جائیگا۔ اس کی تکمیل کے بعد پاکستان مستقبل میں یو ایس 301 کی واچ لسٹ میں نظرثانی کے بعد ایک بہتر مقام حاصل کرلے گا جس کے اثرات ایف ڈی آئی پر مثبت پڑیں گے۔ انہوں نے اس موقع پر صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی سی آئی حکومت کی طرف سے دیے جانے والے ہر کردار کو ادا کرنے کیلیے تیار ہے جس سے پاکستان ایک مستحکم ملک بن سکے۔ اس موقع پر دیگر اہم مہمانوں میں سی سی پی چیئرپرسن، راحت کونین، ایس ای سی پی چیئرمین محمد علی، غیر ملکی سفارت کار، کابینہ ارکان اور بیوروکریٹ بھی موجود تھے۔
Load Next Story