اسلام اور تعلیم نسواں

علم کی فضیلت قرآن کریم اور احادیث نبوی ﷺ میں کئی بار اور بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کا حلقۂ درس و تدریس بہت وسیع تھا۔ امہات المومنین حضرت حفصہؓ اور ام سلمہؓ دونوں پڑھنا لکھنا جانتی تھیں، حضرت اُم سلمہؓ شاعرہ اور ان کی دختر زینبؓ اپنے وقت میں سب عورتوں سے زیادہ فقیہہ تھیں فوٹو : فائل

علم کی فضیلت قرآن کریم اور احادیث نبوی ﷺ میں کئی بار اور بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے اور مسلمانوں کو تحصیل علم کی ہدایت اور تاکید کی گئی ہے۔ حضرت رسول کریم جناب محمد ﷺ کی ذات با برکات نے نوع بشر پر جو اَن گنت احسانات کیے، ان کی وجہ سے صنف نازک کے مقام و مرتبے، عزت و وقار اور حقوق میں جو انقلاب آفریں خوش آئند تغیر ظہور پذیر ہوا، اس کی مثال تاریخ عالم میں کوئی دوسری قوم، تہذیب اور کوئی دوسرا معاشرہ پیش نہیں کرسکتا۔ شعبہ ہائے حیات میں مرد و زن کے حقوق میں ایک مساویانہ روش اختیار کی گئی ہے اور نور علم سے بھی دونوں کو منور ہونے کی اجازت اور حکم دیا گیا ہے۔

چند احادیث فضیلت علم کے بارے میں پیش کی جاتی ہیں۔

''علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے '' (ابن ماجہ )

''جو شخص علم کی طلب میں نکلے وہ اﷲ کی راہ میں ہے یہاں تک کہ وہ واپس لوٹے '' (ترمذی)

حضرت ابن عبا س رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا رات میں ایک گھڑی علم دین کا پڑھنا یا پڑھانا رات بھر کی عبادت سے بھی بہتر ہے۔ (مشکوٰۃ )

''حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالیٰ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے سفر کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستے پر چلاتا ہے اور طالب علم کی رضا حاصل کرنے کے لیے فرشتے اپنے پروں کو بچھا دیتے ہیں اور پھر ہر وہ چیز جو آسمان وزمین میں ہے یہاں تک مچھلیاں پانی کے اندر عالم کے لیے دعائے استغفار کرتی ہیں۔'' (ترمذی )

علم دین کا حاصل کرنا مسلمان عورتوں اور مسلمان مردوں کے لیے یک ساں ضروری قرار دیا گیا ہے حتیٰ کہ رسول کریم ﷺ نے لونڈیوں تک کو علم سکھانے کی تاکید فرما کر اسے باعث ثواب بتایا اور لڑکیوں کو علم و ادب سکھانے کی ہدایت فرمائی۔


مسجد نبوی ﷺ کو اسلام کی اولین عظیم درس گاہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ جہاں سرور کائنات ﷺ سال ہا سال تک اصحاب کرامؓ کو درس دیتے رہے اور اس طرح آپؐ نے اسلامی نظام تعلیم کی خود بنیاد رکھی۔ مسلم خواتین بھی حضور ﷺ سے تعلیم حاصل کرتی تھیں، براہ راست بھی اور جو زنانہ مسائل حضور ﷺ سے براہ راست نہیں معلوم کرسکتی تھیں، اس کے لیے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا اور دوسری ازواج مطہرات سے رجو ع کرتیں اور اس طرح خواتین کے مخصوص مذہبی مسائل سے وہ ان کو آگا ہ کرتیں۔ خواتین انصار کا ذوق و شوق ِعلم اس حدیث سے عیاں ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ انصار کی عورتیں کیا اچھی عورتیں ہیں، ان کو حیا نے اس بات سے نہیں روکا کہ دین میں سمجھ حاصل کریں۔ (بخاری)

ایک اور حدیث میں خواتین کا جذبہ حصول تعلیم نظر آتا ہے ''حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عورتوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مرد آپؐ کے پاس پہنچنے میں ہم پر غالب رہتے ہیں تو آپؐ اپنی طرف سے ہما رے لیے ایک دن مقرر کیجیے۔ تو آپؐ نے ان سے ایک دن کا وعدہ کیا۔ جس میں آپ ان سے ملتے اور انہیں نصیحت کرتے اور انہیں احکامات بتاتے'' (بخاری)

اہل بیتؓ میں ازواج مطہراتؓ، حضرت فاطمہؓ اور ان کی صاحب زادیاں اور پوتیاں تحصیل علم اور فروغ علم میں پیش پیش نظر آتی ہیں اور اس طرح مسلم خواتین کے لیے ایک عملی نمونہ پیش کرتی ہیں۔ اُم المومنین حضرت عائشہؓ تبحر علمی کا اندازہ اس فرمان رسولؐ ﷺ سے ہو سکتا ہے کہ جب آپؐ نے فرمایا

''آدھا علم عائشہ سے حاصل کرو''

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا کا حلقہ درس و تدریس بہت وسیع تھا۔ امہات المومنین حضرت حفصہ اور ام سلمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہما دونوں پڑھنا لکھنا جانتی تھیں، حضرت اُم سلمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا شاعرہ تھیں ان کی دختر زینب ابی سلمہؓ اپنے وقت میں سب عورتوں سے زیادہ فقیہہ تھیں۔

جب دنیائے اسلام میں چاروں طرف شمع علم و روشنی تھی، تو دختران اسلام نے بھی اس کی روشنی میں بہت کچھ سیکھا اور یہ بات بعید از قیاس ہے کہ علوم و فنون کی اتنی زیادہ ترقی اور وسیع پیمانے پر پھیلاؤ دختران اسلام کے ذوق وشوق کے بغیر عمل میں آیا ہو، کیوں کہ کوئی ملک، کوئی قوم اور کوئی معاشرہ ترقی اور خوش حالی کے زینے پر اسی وقت چڑھ سکتا ہے جب وہاں کی عورتیں بھی اس میں معاون اور مددگار ثابت ہوں اور تاریخ اسلام ایسی روشن اور قابل فخر مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ خواتین اسلام نے قابل ستائش علمی ذوق اور علمی سرگرمیوں کا ثبوت دیا ہے۔

کئی خواتین زمرہ ٔ علما میں شامل تھیں اور کئی علماء اور فقہاء کی ماؤں اور بہنوں نے اپنے بیٹوں اور بھائیوں کی علم کی کٹھن راہوں میں راہ نمائی فرمائی۔ چند مثالیں خارج ازدل چسپی نہیں ہوں گی۔ اگر امام جوزیؒ کی پھوپھی ان کی تعلیم و تربیت نہ کرتی تو ہم ان جیسے جلیل القدر امام سے محروم رہتے۔ اگر امام ربیعہ الرائے (استاد امام مالکؒ و خواجہ حسن بصریؒ) کی والدہ ماجدہ ان کی تعلیم و تربیت کی طرف سے خاص توجہ نہ دیتیں تو اُن جیسا بلند پایہ ٔ واعظ اور عالم کہا ں سے ملتا اور اسی طرح اگر امام بخاریؒ کی والدہ ماجدہ اور اُن کی خواہر ان کی کفالت نہ کرتیں تو ہمیں بخاری شریف کیسے ملتی۔ ( بہ حوالہ مقالات سیرت)

(مفتی سیف اﷲ سعیدی)
Load Next Story