عیدِ قرباں اور کھابے

بڑی عید پر اپنے پیاروں کے ساتھ بڑی خوشیوں میں چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرنا نہ بھولئے گا۔

سیخ کباب اور سیخ چانپیں جو گرما گرم پوری پراٹھوں اور دہی کے رائتے، سلاد اور کھٹی میٹھی املی کی چٹنی کے ساتھ عید کا مزہ دوبالا کر دیتے ہیں۔

''جانا ہے، جانا ہے، منڈی ہم کو بھی جانا ہے''۔ ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی بچوں کی ایک ہی رٹ تھی کہ اُن کو بھی منڈی جانا ہے اور بس پھر کیا تھا، بچوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے بالاخر گھر کے بڑے بچوں کو لئے قربانی کے جانور کی خریداری کے لیے روانہ ہوئے۔ جانور کی خریداری پہلے کبھی اتنا مشکل کام نہیں تھا جتنا اب بن چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ اُس کی قیمتیں ہیں۔ بکرے سے لے کر اونٹ تک کی قیمتیں زمین پر آنے سے ڈرتی ہیں آسمان پر ہی ٹنگی ہیں۔ جس کی قیمت دیکھو لاکھوں تک پہنچ چکی ہیں، ہزاروں کی تو اب بات ہی نہیں ہوتی۔ جا بجا گھر کے مردوں کو منڈی میں یہی جملہ سننے کو ملا کہ ہم ہزاروں کا زمانہ کہیں بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں، اور پھر تین دن کی انتھک محنت اور تگ ودو کے بعد جب ایک گائے جو بیچاری کسی غریب کا ہی انتظار کررہی تھی اتفاق سے اُسے ہم اور وہ ہم سے مل گئی(شکر اللہ کا) اس کی قیمت پر گھر والے اور بیوپاری دونوں متفق ہوئے اور اللہ اللہ کرکے ہمارے گھر بھی گائے آگئی اور پھر ایک طرف سارے بچے تھے اور ایک طرف بیچاری اکیلی گائے۔

ایک مرحلہ سر ہوا تو دوسرا بڑا مسئلہ درپیش تھا، جی ہاں! بالکل ٹھیک سمجھے، یہ مسئلہ قصائی کی تلاش کا تھا۔ قصائی صاحب کو ڈھونڈنا تھا جو ہماری ننھی سی کمزور سی گائے کو انتہائی پیار اور مناسب دام میں ذبح کرکے ہمیں قربانی جیسے فریضہ کو ادا کرنے میں مدد فراہم کرے۔ بہت ڈھونڈ پھٹک کے بعد آخر کار ایک انتہائی معتبر قصائی صاحب نے ہماری گائے کو بھی عید کے پہلے دن دوپہر 12 بجے ذبح کرنے کی ڈیل ڈن کرنے کا عندیہ دے دیا اور یوں ایک اور پہاڑ سر ہوا۔

کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہے کہ اس مسئلے کے حل کے بعد اب بے فکری ہی بے فکری تھی؟ نہیں جناب کہاں بے فکری اب تو اصل کام کی ابتداء تھی جی ہاں جناب! قربانی کے گوشت سے مزیدار کھانوں کے لئے تیاری کا مرحلہ اب بالکل سر پر تھا۔ عید کے دن تو گھر میں روز مرہ کے گوشت کی ڈشز آلو گوشت، بریانی، شامی کباب کے تو نام بھی نہیں لئے جاسکتے۔ اب تو اہلخانہ کی فرمائشیں ہوتی ہیں کہ انہیں بُھنی کلیجی، چپلی کباب، کنہ، پائے، ہنٹر بیف اور جانے کیا کیا کھانا ہے، مگر ہر گھر کی ایک خاص روایت ہوتی ہے جیسے ہمارے گھر کی روایت عید کی رات میں باربی کیو پارٹی منانے کی ہے، جس کی تیاری بھی صبح سے ہی شروع کردی جاتی ہے۔ بس یہاں قربانی ہوئی اور وہاں باربی کیو کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ باربی کیو کی تیاری ایک لحاظ سے خاتون خانہ کے لئے دوسرے کھانوں کی نسبتاً تھوڑی آسان ہوتی ہے کیونکہ باربی کیو کے لئے گوشت کو دہی اور مصالحوں کے ساتھ میرینیٹ کریں اور کھلی ہوا میں گھر والوں کے ساتھ تازہ تازہ خوشبو سے بھرپور باربی کیو بنائیں، دوسروں کو بھی کھلائیں اور خود بھی نوش فرمائیں۔ ہمارے گھر میں باربی کیو کی خاص روایت ہے سیخ کباب اور بوٹی جو گرما گرم پوری پراٹھوں اور دہی کے رائتے، سلاد اور کھٹی میٹھی املی کی چٹنی کے ساتھ عید کا مزہ دوبالا کر دیتے ہیں۔ لیکن ایسے مزے اکیلے اکیلے نہیں لینے چاہیئے، یہی وجہ ہے کہ باربی کیو کی ذائقے دار ترکیب آپ کے سامنے بھی پیش کرتے ہیں۔
مزیدار سیخ کباب

اجزا

سیخ کباب کے لئے گائے کا قیمہ، تلی ہوئی پیاز، ہرا دھنیا، پودینہ، کچہری پاؤڈر، پسا ہوا ادرک لہسن، بریڈ سلائس، انڈا اور باربی کیو مصالحہ

ترکیب

مکس کرکے بلینڈ کرلیں۔ جب یہ کام ہوجائے تو پھر گوشت کو باہر نکال کر ہاتھوں سے بھی اچھی طرح مکس کرلیں۔ مصالحے کو آدھے گھنٹے بعد سیخ کباب پر لگا کر کوئلے پر سینک لیں اور ساتھ ساتھ کباب پر روئی یا برش کی مدد سے تیل لگاتے جائیں۔ کباب تیار ہونے پر دیگر لوازمات کے ساتھ کھائیں اور بڑی عید کا خوب مزہ اٹھائیں۔



تصویر: بشکریہ گوگل

اور لیجئے جناب جن قارئین کے گھر ہوئی ہے بکرے کی قربانی، ان کے لئے بھی ہے ہمارے پاس ایک لذیذ ترکیب ہے یعنی باربی کیو چانپیں۔ باربی کیو چانپیں بنانے کے لئے اجزائے ترکیبی نوٹ کرلیں۔




تصویر: بشکریہ گوگل
باربی کیو چانپیں

اجزا

بکرے کی چانپیں، ادرک لہسن کا پیسٹ، سبز مرچ پسی ہوئی، دہی، لال مرچ، نمک، کچا پپیتا، گرم مصالحہ پاؤڈر۔



تصویر: بشکریہ گوگل

ترکیب

چانپیں تیار کرنے کے لئے چانپوں پر لگے گوشت کو چھری کی مدد سے پھیلالیں اور دھو کر خشک کرلیں۔ پھر تمام اجزائے ترکیبی میں چانپوں کو 20 سے 25 منٹ کے لئے میرینیٹ کریں اور پھر باربی کیو کرلیں (سیخ پر چانپوں کا گوشت پروئیں) یا پھر اوون میں بیک کرلیں۔ (کوئلے پر سینکتے ہوئے یا اوون میں بیک کرتے ہوئے برش سے گھی ضرور لگائیں) یہ تو ہیں دو مزیدار سی وہ تراکیب جن سے میں سجاتی ہوں اپنا عید کا دسترخوان۔



تصویر: بشکریہ گوگل

یقیناً آپ بھی سجانے والی ہیں، اور انہی جیسے مزیدار کھانوں سے اپنی عید کا دسترخوان کو رونق بخشتی ہیں، کیونکہ موقع بھی تو بڑی عید کاہے۔ لیکن یاد رکھئے، اس بڑی عید پر اپنے پیاروں کے ساتھ بڑی خوشیوں میں چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرنا نہ بھولئے گا جیسے مستحقیقن اور قربانی کے گوشت کے اصل حقدار میں گوشت اور کھانے کی تقسیم، ساتھ ہی اپنی صحت کی حفاظت کے لئے احتیاط، کیونکہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کریں۔
Load Next Story