کراچی ضمنی انتخاب میں پی پی 14 سال بعد کامیاب
کراچی کے اس ضمنی الیکشن کی روشنی میں شفاف انتخابی نظام میں موجود سقم دور کیے جائیں
فوٹو: فائل
غیر سرکاری وغیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے مرتضیٰ بلوچ نے پی ایس127 ضلع ملیر کے ضمنی انتخاب میں21ہزار187ووٹ لے کرفتح حاصل کرلی، ایم کیوایم کے امیدوار وسیم احمد15ہزار 553 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن پر رہے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار ندیم میمن نے 5ہزار 580 ووٹ حاصل کیے۔
ووٹنگ ٹرن آؤٹ21فیصد رہا۔دیگرامیدواروں میں مجلس وحدت المسلمین کے سید علی عباس عابدی نے 609 ووٹ حاصل کیے جب کہ مہاجر قومی موومنٹ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ثنااللہ قریشی نے 446، آزادامیدوار سید حسن عباس رضوی نے212اور آزاد امیدوار منظور احمد جوکھیونے142 ووٹ حاصل کیے۔حلقے میں کل ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ7ہزار468 تھی، یہ نشست متحدہ کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اشفاق منگی کے پی ایس پی میں شمولیت کے بعد خالی ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار مرتضیٰ بلوچ کی کامیابی کے بعد ملیر میں جشن منایا گیا۔
اس بات سے قطع نظر کہ ضمنی الیکشن میں جیت کی کیمسٹری عموماً حکومتی پارٹی سے وابستہ امیدوار سے پیوستہ نظر آتی رہی ہے تاہم کراچی جس غیر یقینی سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے اس میں انتخابی عمل کا ہونا بذات خود ایک بڑی پیشرفت ہے اور اس کے لیے الیکشن میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما تعریف کے مستحق ہیں، اس حوصلہ افزا جمہوری رویے کو مزید فروغ دینا چاہیے جب کہ کوشش ہونی چاہیے کہ انتخابی نتائج پر عدم اطمیان اور دھاندلی کے الزاماتی کلچر سے جان چھڑائی جائے۔
دھاندلی کے الزامات تو عمران خان نے 2013 ء کے انتخابات پر لگائے، جعلی ووٹنگ اور دھونس دھاندلی کے الزامات ماضی میں پی پی اور متحدہ کے درمیان بھی بداعتمادی کا باعث بنتے رہے لیکن اب اس حقیقت کو سارے انتخابی پلیئر مان لیں کہ پیپلز پارٹی کو اس حلقے میں 14 سال بعد کامیابی ملی ہے، وجہ اس کی تبدیل شدہ ڈیموگرافی بھی ہے، ویسے بھی پی پی کے رہنما عبداللہ مراد اس علاقے کے مقبول ترین سیاسی رہنما تھے جنہیں دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا جب کہ مبصرین کا کہنا ہے کہ متحدہ کے لیے درپیش اندوہ ناک داخلی بحران بھی شکست کا اہم فیکٹر ہے۔
ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ایس127 کے ضمنی انتخاب میں ہمیں دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا ہے چنانچہ نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ ٹریبونل میں جائیں یا نہیں اور نتائج کو تسلیم کیا جائے یا نہیں، ہمیں 52 پولنگ اسٹیشنوں کا نتیجہ نہیںدیا گیا ، خدشہ ہے کہ ان پولنگ اسٹیشنوں پر نتائج میں ردو بدل کیا جارہا ہے۔ ادھر مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق ایم کیو ایم لندن کے رہنما ندیم نصرت نے شکایت کی ہے کہ پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر ایم کیو ایم سے بے وفائی کی ، ایک ٹی وی کے مطابق انھوں نے کہا کہ آصف زرداری نے فاروق ستار سے پی ایس 127میں امیدوار کھڑا نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
بہرحال پی ایس 127 کے ضمنی انتخاب نے جہاں انتخابی عمل میں اصلاحات اور شفاف پولنگ کی ضرورت کا مزید احساس دلایا ہے وہاں حسب دستور پولنگ کے دوران ہنگامہ آرائی ، فائرنگ اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی جس کے نتیجہ میں 8 زخمی ہوئے جب کہ 9 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ناکام امیدواروں نے شکایت کی کہ پولیس کا سیکیورٹی پلان غیر موثر ثابت ہوا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کے اس ضمنی الیکشن کی روشنی میں شفاف انتخابی نظام میں موجود سقم دور کیے جائیں اور بایو میٹرک سسٹم سمیت اہم انتخابی اصلاحات جلد مکمل کی جائیں۔
ووٹنگ ٹرن آؤٹ21فیصد رہا۔دیگرامیدواروں میں مجلس وحدت المسلمین کے سید علی عباس عابدی نے 609 ووٹ حاصل کیے جب کہ مہاجر قومی موومنٹ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ثنااللہ قریشی نے 446، آزادامیدوار سید حسن عباس رضوی نے212اور آزاد امیدوار منظور احمد جوکھیونے142 ووٹ حاصل کیے۔حلقے میں کل ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ7ہزار468 تھی، یہ نشست متحدہ کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اشفاق منگی کے پی ایس پی میں شمولیت کے بعد خالی ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار مرتضیٰ بلوچ کی کامیابی کے بعد ملیر میں جشن منایا گیا۔
اس بات سے قطع نظر کہ ضمنی الیکشن میں جیت کی کیمسٹری عموماً حکومتی پارٹی سے وابستہ امیدوار سے پیوستہ نظر آتی رہی ہے تاہم کراچی جس غیر یقینی سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے اس میں انتخابی عمل کا ہونا بذات خود ایک بڑی پیشرفت ہے اور اس کے لیے الیکشن میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما تعریف کے مستحق ہیں، اس حوصلہ افزا جمہوری رویے کو مزید فروغ دینا چاہیے جب کہ کوشش ہونی چاہیے کہ انتخابی نتائج پر عدم اطمیان اور دھاندلی کے الزاماتی کلچر سے جان چھڑائی جائے۔
دھاندلی کے الزامات تو عمران خان نے 2013 ء کے انتخابات پر لگائے، جعلی ووٹنگ اور دھونس دھاندلی کے الزامات ماضی میں پی پی اور متحدہ کے درمیان بھی بداعتمادی کا باعث بنتے رہے لیکن اب اس حقیقت کو سارے انتخابی پلیئر مان لیں کہ پیپلز پارٹی کو اس حلقے میں 14 سال بعد کامیابی ملی ہے، وجہ اس کی تبدیل شدہ ڈیموگرافی بھی ہے، ویسے بھی پی پی کے رہنما عبداللہ مراد اس علاقے کے مقبول ترین سیاسی رہنما تھے جنہیں دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا جب کہ مبصرین کا کہنا ہے کہ متحدہ کے لیے درپیش اندوہ ناک داخلی بحران بھی شکست کا اہم فیکٹر ہے۔
ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ایس127 کے ضمنی انتخاب میں ہمیں دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا ہے چنانچہ نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ ٹریبونل میں جائیں یا نہیں اور نتائج کو تسلیم کیا جائے یا نہیں، ہمیں 52 پولنگ اسٹیشنوں کا نتیجہ نہیںدیا گیا ، خدشہ ہے کہ ان پولنگ اسٹیشنوں پر نتائج میں ردو بدل کیا جارہا ہے۔ ادھر مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق ایم کیو ایم لندن کے رہنما ندیم نصرت نے شکایت کی ہے کہ پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر ایم کیو ایم سے بے وفائی کی ، ایک ٹی وی کے مطابق انھوں نے کہا کہ آصف زرداری نے فاروق ستار سے پی ایس 127میں امیدوار کھڑا نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
بہرحال پی ایس 127 کے ضمنی انتخاب نے جہاں انتخابی عمل میں اصلاحات اور شفاف پولنگ کی ضرورت کا مزید احساس دلایا ہے وہاں حسب دستور پولنگ کے دوران ہنگامہ آرائی ، فائرنگ اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی جس کے نتیجہ میں 8 زخمی ہوئے جب کہ 9 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ناکام امیدواروں نے شکایت کی کہ پولیس کا سیکیورٹی پلان غیر موثر ثابت ہوا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کے اس ضمنی الیکشن کی روشنی میں شفاف انتخابی نظام میں موجود سقم دور کیے جائیں اور بایو میٹرک سسٹم سمیت اہم انتخابی اصلاحات جلد مکمل کی جائیں۔