ترقی کا دعویٰ اور حقائق
امن وامان کی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو ملک میں ترقی کے دعوے صرف دعوؤں اور نعروں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے
، فوٹو؛ پی آئی ڈی
وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کراچی میں تقریب سے خطاب کے دوران ایک بارپھر2018ء میں ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے ساتھ گیس کی قلت بھی ختم ہو جائے گی، ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے والوں سے حساب لیا جائے گا، آج ہماری معاشی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے، دنیا ہماری معاشی ترقی کا اعتراف کر رہی ہے، ہماری حکومت کے بعد مارشل لانہ لگتا تو ملک بے تحاشا ترقی کرتا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج دنیاکی10 بہترین مارکیٹوں میں شمارکی جا رہی ہے، پچھلی مرتبہ جب اسٹاک ایکسچینج آیا تھا تو اس وقت انڈیکس 31000 پوائنٹس پر تھا اور آج آیا ہوں تو اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 40 ہزار پوائنٹس سے تجاوزکر گیا ہے، اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا کریڈٹ پوری ٹیم کو جاتا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو ایکسچینج 19 ہزار پر تھی، ہم اداروں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، 1972ء میں قومی ادارے قومیانے کی پالیسی سے ملکی معیشت تباہ ہوکر رہ گئی لیکن 1991ء میں نجکاری کی پالیسی اختیار کر کے دوبارہ ملکی معیشت اور اداروں کی نجکاری کرنے کی پالیسی اپنائی اور آج اداروں نے منافع کمانا شروع کر دیا ہے۔
اس وقت قومی سطح پر بہت سے چیلنجز درپیش ہیں جن میں توانائی کا بحران اور امن وامان کی صورت حال سرفہرست ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے برسراقتدار آنے کے بعد یہ وعدہ کیا کہ وہ اپنے دور حکومت میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ توانائی کے بحران کا بھی خاتمہ کریں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے ملک بھر میں بجلی کی پیداوار کے مختلف منصوبے شروع کیے۔ حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ان میں سے بہت سے منصوبے 2018ء میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں گے جس سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سابق حکومت کے برعکس موجودہ دور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
اگر حکومت اپنے دعوؤں کے مطابق بجلی کے پیداواری منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کر کے لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اس کا بہت بڑا کارنامہ تصور کیا جائے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اپنے اس دعوے میں کامیاب ہو جائے گی، اس کا پتہ تو 2018ء میں چل ہی جائے گا۔ جہاں تک صنعتوں اور قومی اداروں کو قومیانے اور ان کی نجکاری کی پالیسی کا تعلق ہے، تو معاشی سطح پر اس حوالے سے دو مکتبہ فکر موجود ہیں۔ ایک کے مطابق عوام کو روزگار کی بہتر سہولتیں، ملازمت کا تحفظ اور سرمایہ کاروں کی لوٹ مار روکنے کے لیے صنعتوں اور قومی اداروں کو قومیانہ ہی بہترین پالیسی ہے جب کہ دوسرا مکتبہ فکر اس کے برعکس خیالات کا حامل ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ قومیانے کی پالیسی سے ملازمین میں تساہل پسندی اور کام چوری کا رجحان بڑھتا جس سے صنعتی ترقی کا پہیہ سست رفتار ہو جاتا ہے۔ حکومت نے اگر نجکاری کی پالیسی اپنائی ہے تو اسے ملازمین کی سہولتوں اور روزگار کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور ٹیکس ریونیو میں بھی 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی حکمران طبقہ، سیاست دانوں کی بڑی تعداد اور بااثر افراد ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں یا اپنا ٹیکس ایمانداری سے ادا نہیں کرتے۔ اگر ان طبقات سے بھی ایمانداری سے ٹیکس وصول کیا جائے تو ٹیکس ریونیو میں کئی گنا اضافہ یقینی ہے جس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے حیدرآباد موٹروے اگلے سال مکمل ہو جائے گی جب کہ حیدرآباد سے سکھر تک موٹروے کا سنگ بنیاد بھی جلد رکھ دیا جائے گا، کراچی سے پشاور اور پھر یہی موٹروے خنجراب تک جائے گی۔ ملکی ترقی میں تیزرفتار اور بہتر ٹرانسپورٹ کے نظام کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا مگر حکومت کو تعلیم اور صحت کے شعبے کی بہتری کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے جو اس وقت حکومتی عدم توجہی کے باعث دگرگوں حالت میں ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور جرائم پر بھی قابو پانے کے لیے حکومت کو اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ ملک میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر اس کے معنی و مفہوم کے مطابق عملدرآمد ناگزیر ہے۔ اگر امن وامان کی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو ملک میں ترقی کے دعوے صرف دعوؤں اور نعروں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو ایکسچینج 19 ہزار پر تھی، ہم اداروں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، 1972ء میں قومی ادارے قومیانے کی پالیسی سے ملکی معیشت تباہ ہوکر رہ گئی لیکن 1991ء میں نجکاری کی پالیسی اختیار کر کے دوبارہ ملکی معیشت اور اداروں کی نجکاری کرنے کی پالیسی اپنائی اور آج اداروں نے منافع کمانا شروع کر دیا ہے۔
اس وقت قومی سطح پر بہت سے چیلنجز درپیش ہیں جن میں توانائی کا بحران اور امن وامان کی صورت حال سرفہرست ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے برسراقتدار آنے کے بعد یہ وعدہ کیا کہ وہ اپنے دور حکومت میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ توانائی کے بحران کا بھی خاتمہ کریں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے ملک بھر میں بجلی کی پیداوار کے مختلف منصوبے شروع کیے۔ حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ان میں سے بہت سے منصوبے 2018ء میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں گے جس سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سابق حکومت کے برعکس موجودہ دور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
اگر حکومت اپنے دعوؤں کے مطابق بجلی کے پیداواری منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کر کے لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اس کا بہت بڑا کارنامہ تصور کیا جائے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اپنے اس دعوے میں کامیاب ہو جائے گی، اس کا پتہ تو 2018ء میں چل ہی جائے گا۔ جہاں تک صنعتوں اور قومی اداروں کو قومیانے اور ان کی نجکاری کی پالیسی کا تعلق ہے، تو معاشی سطح پر اس حوالے سے دو مکتبہ فکر موجود ہیں۔ ایک کے مطابق عوام کو روزگار کی بہتر سہولتیں، ملازمت کا تحفظ اور سرمایہ کاروں کی لوٹ مار روکنے کے لیے صنعتوں اور قومی اداروں کو قومیانہ ہی بہترین پالیسی ہے جب کہ دوسرا مکتبہ فکر اس کے برعکس خیالات کا حامل ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ قومیانے کی پالیسی سے ملازمین میں تساہل پسندی اور کام چوری کا رجحان بڑھتا جس سے صنعتی ترقی کا پہیہ سست رفتار ہو جاتا ہے۔ حکومت نے اگر نجکاری کی پالیسی اپنائی ہے تو اسے ملازمین کی سہولتوں اور روزگار کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور ٹیکس ریونیو میں بھی 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی حکمران طبقہ، سیاست دانوں کی بڑی تعداد اور بااثر افراد ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں یا اپنا ٹیکس ایمانداری سے ادا نہیں کرتے۔ اگر ان طبقات سے بھی ایمانداری سے ٹیکس وصول کیا جائے تو ٹیکس ریونیو میں کئی گنا اضافہ یقینی ہے جس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے حیدرآباد موٹروے اگلے سال مکمل ہو جائے گی جب کہ حیدرآباد سے سکھر تک موٹروے کا سنگ بنیاد بھی جلد رکھ دیا جائے گا، کراچی سے پشاور اور پھر یہی موٹروے خنجراب تک جائے گی۔ ملکی ترقی میں تیزرفتار اور بہتر ٹرانسپورٹ کے نظام کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا مگر حکومت کو تعلیم اور صحت کے شعبے کی بہتری کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے جو اس وقت حکومتی عدم توجہی کے باعث دگرگوں حالت میں ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور جرائم پر بھی قابو پانے کے لیے حکومت کو اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ ملک میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر اس کے معنی و مفہوم کے مطابق عملدرآمد ناگزیر ہے۔ اگر امن وامان کی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو ملک میں ترقی کے دعوے صرف دعوؤں اور نعروں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔