نظام بدلنے کی ضرورت

2014ء سے حکومت کے خلاف تحریکیں چلانے میں دوجماعتیں پیش پیش ہیں۔ ایک تحریک انصاف دوسرے طاہر القادری کی عوامی تحریک۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ISLAMABAD:
2014ء سے حکومت کے خلاف تحریکیں چلانے میں دوجماعتیں پیش پیش ہیں۔ ایک تحریک انصاف دوسرے طاہر القادری کی عوامی تحریک۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2014ء کی دھرنا تحریک پاکستانی سیاست کی ایک منفرد اور موثر تحریک تھی خاص طور پر طاہر القادری کے کارکنوں نے اس تحریک میں جس استقلال اور صبروبرداشت کا مظاہرہ کیا اس کی مثال نہیں مل سکتی لیکن یہ دو ماہ کے لگ بھگ چلنے والی تحریک اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکی۔

ایسا کیوں ہوا؟ تحریک چلانے والے اس سوال پر ضرور غور کرتے ہیں اور حاصل ہونے والے جوابات کی روشنی میں اپنی خامیاں دور کر کے نئی تحریکوں کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ 2014ء کی تحریک کا مرکزی مطالبہ ایک نعرے کی شکل میں متعارف کرایا گیا اور وہ نعرہ تھا ''گو نواز گو'' بلا شبہ یہ نعرہ بہت مقبول ہوا اور گلی گلی میں اس نعرے کی بازگشت سنائی دی لیکن یہ دھرنا تحریک ناکام ثابت ہوئی۔

اس ناکامی کا جائزہ لیں تو پہلی بات یہ سامنے آتی ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری نے دانستہ یا نادانستہ اس تحریک میں عوام کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کی، یہ تحریک سیاسی کارکنوں کی تحریک ہی رہی۔ اس حوالے سے دوسری کمزوری یہ رہی کہ عمران خان تحریک کے نتائج حاصل کرنے کے لیے اس تحریک کو عوامی تحریک بنانے کے بجائے امپائر کی انگلی کی طرف دیکھتے رہے جو ایک بچکانہ حرکت تھی کیونکہ جمہوریت میں خواہ وہ کتنی لولی لنگڑی ہو امپائر بہت ساری آئینی اور قانونی زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے اور انگلی اٹھانا اس کے لیے آسان نہیں رہتا۔ اس حوالے سے ایک بڑی کمزوری یہ رہی کہ تحریک کے اہداف میں ایسے اہم قومی مسائل کو شامل نہیں کیا گیا جو عوام کو متحرک کر سکیں ایک اور بڑی غلطی یہ رہی کہ اس تحریک کو صرف دو جماعتوں تک محدود رکھا گیا۔

تحریک چلانے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ جماعتوں کو اپنے ساتھ ملائیں یا کم از کم انھیں غیر جانبدار بنائیں، لیکن عمران خان اور قادری بوجوہ ایسا نہ کر سکے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی 13 جماعتیں حکومت کی حمایت میں کھڑی ہو گئیں اور عندیہ پیش کیا کہ جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ حالانکہ اس ملک میں جاری جمہوریت سرے سے جمہوریت ہی نہیں بلکہ چند اشرافیائی خاندانوں کی بادشاہت ہے۔ ہمارے ملک کی کئی سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے ذاتی جماعتی اور طبقاتی مفادات کے لیے جمہوریت کی آڑ لیتی ہیں۔ اس قسم کی موقع پرست جماعتوں کو غیر موثر بنانے کے لیے عوامی طاقت کو استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس قسم کی تحریکوں کی کامیابی کے لیے ان تحریکوں کو کوچہ و بازار اورگلی گلی تک لے جانا ضروری ہوتا ہے۔ طاہر القادری کے کارکن پورے ملک میں موجود ہیں اور تحریک انصاف کا اثر بھی کافی وسیع ہے لیکن ہر دو رہنماؤں نے اس تحریک کو عوامی تحریک بنا کر گلی محلوں تک لے جانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اسے اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہی قید کر کے رکھا۔


اس پس منظر میں اگر ہم اگست میں شروع کی جانے والی قصاص اور اینٹی کرپشن تحریکوں کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری نے 2014ء کی تحریک کی ناکامی کے اسباب کا جائزہ لینے کی زحمت نہیں کی جو تحریکیں اب چلائی جا رہی ہیں ان کے اہداف اور مقاصد بھی بہت محدود ہیں۔ مثلاً عوامی تحریک کا بڑا مقصد ماڈل ٹاؤن کے شہدا کا قصاص ہے اول تو قصاص کے معنی و مفہوم سے عام آدمی واقف نہیں، دوئم یہ مطالبہ عمومی طور پر ایک جماعت کا مطالبہ نظر آتا ہے بے شک ماڈل ٹاؤن کے شہدا پنی اصل میں ریاستی مظالم کا مسئلہ ہے لیکن پورے ملک کو متحرک کرنے کے لیے قومی مسائل کو سر فہرست رکھنا ہو گا۔ عمران خان کی تحریک کا ہدف کرپشن ہے اور عمران خان کرپشن کو صرف ایک خاندان تک محدود رکھنا چاہتے ہیں جب کہ کرپشن میں پوری ایلیٹ ملوث ہے یوں یہ تحریک ابھی تک عوام کو پوری طرح متحرک کرنے والی تحریک نہیں بن سکی۔

بدقسمتی سے پاکستان میں اب تک جو بڑی تحریکیں چلیں وہ برسر اقتدار فرد یا افراد کے خلاف چلیں اور برسر اقتدار فرد یا افراد اس نظام کا حصہ ہوتے ہیں جو ملک میں جاری رہتا ہے اگر پورے استحصالی نظام کی تبدیلی کے حوالے سے تحریک نہیں چلتی تو ایوب خان کی جگہ یحییٰ خان آ جائے گا، بھٹو کی جگہ ضیا الحق آ جائے گا اور نواز شریف کی جگہ کوئی اور شریف آ جائے گا عوام جن مظالم کے شکار ہیں انھی مظالم کے شکار رہیںگے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ''گو نواز گو'' کا نعرہ لگانے والوں کو یہ احساس نہیں کہ ایک نواز جائے گا تو اس کی جگہ کوئی اور نواز لے لے گا جس کا تعلق بھی ایلیٹ ہی سے ہو گا۔

اصل میں بد قسمتی یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کو دانشورانہ سرپرستی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ان کی پالیسیاں خود ساختہ ہوتی ہیں اور ان کا انجام مایوس کن ہی ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی مسائل کی جڑوں کو تلاش کیا جائے۔ ہمارے قومی مسائل میں سب سے اہم مسئلہ اسٹیٹس کو کو توڑنا ہے جو 69 سالوں سے چلا آ رہاہے اس حوالے سے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ سخت زرعی اصلاحات کے ذریعے ملک سے اس جاگیردارانہ نظام کو ختم کیا جائے جو نام نہاد جمہوریت کا نقاب اوڑھے ہوئے ہے، دوسرا مسئلہ اسی جاگیردارانہ نظام سے جڑا خاندانی حکمرانی کا کینسر ہے جو اب ولی عہدی تک جا پہنچا ہے۔

یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ نیا پاکستان بنانے والے ماضی کے خاندانی نظام سے ناتے جوڑے بیٹھے ہیں۔ ہماری پوری سیاست خاندانی نظام سے جڑی ہوئی ہے جسے ہر قیمت پر ختم ہونا چاہیے، ہمارے بے بس عوام بے لگام مہنگائی اور بے روزگاری کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سہ رہے ہیں ہمارا قانون اور انصاف کا نظام ایلیٹ کا محافظ بنا ہوا ہے، ہماری ریاستی مشینری حکمرانوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی ہے یہ وہ ساری بلائیں ہیں جو 20 کروڑ غریب عوام سے چونٹیوں کی طرح 69 سالوں سے چمٹی ہوئی ہیں اس سے نجات کے لیے فرد یا افراد کی تبدیلی نہیں بلکہ پورے نظام کی تبدیلی ضروری ہے۔
Load Next Story