مصری اپوزیشن نے مذاکرات کیلئے مرسی کی پیشکش ٹھکرا دی

دستور کی شق6 پر نظرثانی کی جا سکتی ہے، ڈاکٹر مرسی، مذاکرات کرنیوالے انقلاب اور ملک کے خائن ہوں گے، اپوزیشن رہنما

دستور کی شق6 پر نظرثانی کی جا سکتی ہے، ڈاکٹر مرسی، مذاکرات کرنیوالے انقلاب اور ملک کے خائن ہوں گے، اپوزیشن رہنما فوٹو : فائل

مصر میں حزب اختلاف نے صدر محمد مرسی کی مذاکرات کی دعوت کو مسترد کر دیا۔

حزب اختلاف کی جانب سے ہفتے کو(آج) بڑے پیمانے پر مظاہروں کی اپیل کی گئی ہے۔ صدر مرسی نے ٹی وی پر خطاب میں اپوزیشن کو قومی مذاکرات کی دعوت دی تاہم انھوں نے کہا کہ مجوزہ آئین پر عوامی ریفرنڈم 15دسمبر کو ہی منعقد کروایا جائے گا۔ مذاکرات سے انکار کرنے والے ایک منظم گروپ نے ہفتے کو بڑے پیمانے پر مظاہروں کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صدر مرسی اپنے اختیارات میں اضافے کے متعلق جاری حکم نامہ واپس لیں، مجوزہ آئین پر ریفرنڈم منسوخ کریں اور آئین کا نیا مسودہ تیار کرنے کے احکامات جاری کریں۔

ٹی وی پرخطاب کر تے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ وہ ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور پرامن احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ بعض افراد کو تشدد کی ہوا کیلیے پیسے دیے گئے ہیں۔ صدر مرسی نے کہا کہ آئین کی متنازع شق مذاکرات کے بعد ترمیم کی جا سکتی ہے ۔ صدر مرسی نے کہا کہ وہ پیٹرول بمبوں اور اسلحے کے زور پر ملک میں قتل کی اجازت نہیں دے سکتے، تاہم پرامن اظہار رائے کا وہ احترام کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کیے جانے والے دستوری اعلانات کو تحفظ دینے سے عدلیہ کے حقوق پر قدغن لگی اور نہ ہی ان کے ذریعے شہریوں کو قوانین چیلنج کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق خطاب ختم ہوتے ہی میدان تحریر میں احتجاجی دھرنا دینے والے مظاہرین نے صدر مرسی کے استعفی کا مطالبہ دہرانا شروع کر دیا۔ پیپلز اسمبلی کے سابق رکن ابو العز الحریری نے اپوزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قوتیں دستوری اعلان کو منسوخ کرنے کے دعوے پر قائم ہیں۔




الحریری کے بقول صدر مرسی سے مذاکرات کا ڈول ڈالنے والے انقلاب اور ملک کے خیانت کار ہوں گے۔ انھوں نے صدر مرسی کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو مزید وقت حاصل کرنے کی چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ملک کے تمام ادارے اخوان المسلمون کے مرشد عام کے ہاتھ گروی رکھ دیے ہیں۔دریں اثنا مصر کے ممتاز اور تاریخی علمی ادارے جامعہ الازہر نے صدر محمد مرسی پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے متنازعہ حکم نامے کو معطل کر دیں اور اپنے مخالفین کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کا آغاز کریں۔

ادھر امریکی صدر بارک اوباما نے مصر میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر اپنے ہم منصب محمد مرسی سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہائوس کے مطابق صدر اوباما نے یہ بات صدر مرسی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہی۔

مصر کے درالحکومت قاہرہ میں صدر مرسی کے خلاف احتجاج جاری ہے ۔ مظاہرین نے صدارتی محل کے باہر کھڑی رکاوٹوں کو دور کر لیا ہے اور وہ صدارتی محل کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ مظاہرین کو صدراتی محل تک پہنچنے سے روکنے کے لیے فوج تعینات کر دی گئی ہے اور ٹینک بھی کھڑے کر دیے گئے ہیں۔ دریں انثاء نائب صدر محمود مکی نے کہا ہے کہ ریفرنڈم کو قانونی طور پر چیلنج نہ کیا جائے تو صدر محمد مرسی آئین پر ریفرنڈم ملتوی کرنے پر رضامند ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story