وفاق کالا باغ ڈیم منصوبہ ہمیشہ کیلئے ختم کردے سندھ اسمبلی

4متفقہ قرارددادیں منظور،لاہورہائیکورٹ کافیصلہ مسترد،شہبازشریف کے بیان کی مذمت،زندگی اورموت کا مسئلہ ہے

4متفقہ قرارددادیں منظور،لاہورہائیکورٹ کافیصلہ مسترد،شہبازشریف کے بیان کی مذمت،زندگی اورموت کا مسئلہ ہے،پنجاب کالاباغ ڈیم کی ضدچھوڑدے،حکومتی واپوزیشن ارکان۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ اسمبلی نے کالاباغ ڈیم کی تعمیرسے متعلق لاہورہائیکورٹ کی جانب سے ڈیم کی تعمیرکے فیصلے کومسترد کرتے ہوئے4متفقہ قراردادیں منظورکرلیں ہیں جن میںکہا گیا ہے کہ وفاق کالاباغ ڈیم منصوبہ ہمیشہ کیلیے ختم کردے کیونکہ یہ ڈیم سندھ کے لوگوںکوکسی صورت قبول نہیں اوریہ ملکی یکجہتی کیلیے نقصاندہ ہے۔

تین صوبائی اسمبلیاں اس ڈیم کی مخالفت کرچکی ہیں،اس کی تعمیرسے سندھ پرانتہاہی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے،پنجاب ملکی سلامتی اوریکجہتی کیلیے کالا باغ ڈیم بنانے کی ضد چھوڑدے، متفقہ قراردادوں میںکالاباغ ڈیم کے حق میں شہبازشریف کے بیان کی بھی مذمت کی گئی،تمام ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہوکرقراردادوں کے حق میں ووٹ دیا۔پیپلزپارٹی کے محمدانورمہرنے بحث کاآغازکرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ ڈیم تعمیرہواتوسندھ کی زمینیں بنجرہوجائیں گی،یہ ہمارے لیے زندگی اورموت کامسئلہ ہے۔

لاہورہائیکورٹ کا فیصلہ ہی غلط ہے اس طرح صوبوںکی عدالتیں آپس میں لڑپڑیں گی ،کوئی سندھ ہائیکورٹ میں درخواست کرے گاکہ ڈیم نہ بنایاجائے توسندھ ہائی کورٹ لاہورہائی کورٹ کے برعکس فیصلہ دے سکتی ہے۔وزیرخزانہ مراد علی شاہ نے کہاکہ جب تک پیپلز پارٹی کی حکومت ہے کالا باغ ڈیم جیسامنصوبہ نہیں بن سکتا،پیپلز پارٹی کی کسی حکومت میں کالا باغ ڈیم کے لیے کوئی پیسے نہیں رکھے گئے،سندھ کے قوم پرست لوگ جن کے پیچھے سیاست کررہے ہیں وہ کالا باغ ڈیم کے حامی ہیں۔وزیراطلاعات شرجیل میمن نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ کیامتوازی سپریم کورٹ ہے؟جو کیس سپریم کورٹ میں چلنے چاہئیں وہ لاہور ہائی کورٹ میں چل رہے ہیں۔

لاہورہائی کورٹ نے وفاق اور تینوں صوبوںکو سنے بغیر فیصلہ کیا،شریف برادران کی سیاست تعصب پرمبنی ہے،جب تک ایک بھی جیالاموجودہے کالا باغ ڈیم نہیں بننے دے گا،پیپلز پارٹی ایسی بے غیرت پارٹی نہیں جو سندھ سے غداری کرے۔متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیوایم)کی خاتون رکن ہیراسماعیل سوہونے کہاکہ ملک میں کون سا ڈیم بننا چاہیے کون سا نہیں یہ فیصلہ کرناعدالتوں نہیں بلکہ حکومتوں کا کام ہے،جن لوگوں نے سندھ محبت ریلی نکالی تھی،وہ کالاباغ ڈیم کیخلاف ریلی نکالیں یالانگ مارچ کریں اورپنجاب جائیں پھردیکھیں کہ پنجاب والے ان کااستقبال کرتے ہیں یانہیں۔

وزیرثقافت سسی پلیجونے کہاکہ سندھ کے لوگوں کو علم ہے کہ کالا باغ کا کیانتیجہ نکلے گا،اس لیے وہ اس ڈیم کے خلاف ہیں۔پیپلز پارٹی کے خاتون رکن حمیراعلوانی نے کہا کہ نثار میمن،لیاقت جتوئی اوردیگر لوگوں نے کالا باغ ڈیم کی حمایت میں مہم چلائی،نواز شریف نے کیٹی بندر اور تھر کول پروجیکٹ بند کرائے تاکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا جواز پیدا کیاجاسکے۔




سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرجام مددعلی نے اپنے خطاب میں کہاکہ یہ الزامات فضول ہیں کہ فلاں نے سندھ سے غداری کی اورفلاں نے ڈیم کی اسٹڈی کیلیے پیسہ رکھا، ایک دوسرے پر کیچڑ نہیں اچھالنا چاہیے،کالا باغ ڈیم کے خلاف متحد ہوکر موقف اختیارکرناہے،کالا باغ ڈیم کامنصوبہ ہمیشہ کیلیے دفن کردیاجائے اور ضمن قانون سازی ہونی چاہیے۔وزیرماہی گیری زاہدحیسن بھرگڑی نے کہاکہ کالاباغ ڈیم کوتین صوبوں نے مستردکردیاتھا۔

پنجاب کو سندھ سے یہ پیغام جارہاہے کہ کالاباغ ڈیم ہماری لاشوں پربنے گا۔پیپلزپارٹی کے امدادپتافی نے کہاکہ اگر پاکستان کوبچاناہے توپنجاب کے لوگوں کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی ضدچھوڑناہوگی۔عوامی نیشنل پارٹی کے امان اللہ محسودنے کہاکہ سندھ کاکوئی شخص کالاباغ ڈیم کاحامی نہیں،سپریم کورٹ کولاہورہائی کورٹ کے خلاف ازخودنوٹس لیناچاہیے۔وزیربین الصوبائی رابطہ مخدوم جمیل الزماں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں۔پیپلزپارٹی کے رکن غلام مجدداسران نے شہیدبینظیربھٹوکوجمہوریت اورآزادی کی علامت قراردینے کی قراردادپیش کی۔سندھ اسمبلی نے کالاباغ ڈیم کومستردکرنے کی قرارداداگرچہ اتفاق رائے سے منظورکرلی لیکن قراردادپربحث کے دوران ایوان میں اتفاق نظرنہیںآیا۔ایوان میں سرکاری اوراپوزیشن ارکان کے درمیان نوک جھونک ہوئی۔

مرادعلی شاہ،شرجیل میمن اورزاہدحسین بھرگڑی کے علاوہ پیپلزپارٹی کے رکن امداد پتافی نے قرارداد پراپنے خطاب میں اپوزیشن جماعتوں پرتنقید کی۔اپوزیشن ارکان نے اسپیکرکے رویے پربھی احتجاج کیا۔ ایک مرحلے پرایوان مچھلی بازارکامنظرپیش کررہاتھا۔زاہد بھرگڑی اورامداد پتافی کی تقریروں کے دوران زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی ۔شورشرابے میں اسپیکر ''برداشت برداشت'' ''حوصلہ حوصلہ''کہتے رہے ۔سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ہم خیال) کی خاتون رکن نزہت پٹھان نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کے ساتھ اسپیکر کارویہ جانبدارانہ ہے اور وہ ان کیخلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتمادپیش کریں گی۔

اگرپیپلزپارٹی واقعی کالاباغ ڈیم کے خاتمے کے حامی ہے تووہ قراردادپیش کرنے کے بجائے اس مسئلہ کوکونسل آف کومن انٹرسٹ میں لیں جائیںاوراس کا مکمل خاتمہ کریں۔اپوزیشن رکن عارف مصطفیٰ جتوئی نے کہاکہ صوبائی وزیرخزانہ کی جانب سے ایوان میں 1991 کے پانی کے معاہدے پراس وقت کے وزیر آبپاشی کے دستخط ہونے کابیان غلط ہے اور اس معاہدے پراس وقت کے وزیر اعلیٰ اور سیکریٹری آبپاشی عالم بلوچ کے دستخظ ہیں صوبائی وزیر کے نہیں،آج کی پیپلز پارٹی اور محترمہ بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی میں بہت فرق ہے،آج کی پیپلز پارٹی زرداری پارٹی ہے جوصرف اپنی پارٹی کو نوٹوں کے بل بوتے پر چلا رہی ہے۔
Load Next Story