کراچی میں متحدہ کے کارکن سمیت مزید 6 ہلاک رکشا سے 3 افراد کی بوری بند لاشیں برآمد

متحدہ کے کارکن محمد سفیر کو ملیر الفلاح میں گولیاں ماری گئیں، میانوالی کالونی میں رکشا ڈرائیور کو گھر کے باہرہلاک کیا

بوری بند لاشیں چڑیا گھر کے گیٹ نمبر تین کے قریب سے ملیں،اورنگی،کورنگی، پاک کالونی اورلانڈھی میں4 افراد قاتلوں کا نشانہ بنے. فوٹو: فائل

شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کی نئی لہرکے دوران فائرنگ کے واقعات میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن سمیت6افراد ہلاک اور خاتون سمیت 8 زخمی ہو گئے جبکہ3مغویوں کی رکشے سے بوری بند لاشیں ملی ہیں جنہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد فائرنگ اور گردن کی ہڈی توڑ کر ہلاک کیا گیا تھا ۔

تفصیلات کے مطابق الفلاح تھانے کی حدود ملیر الفلاح سوسائٹی ابراہیم ولاز فیزIIمکان نمبرR/41کے رہائشی 20 سالہ محمد سفیر ولد محمد رفیق کو گھر کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے زخمی کردیا۔ سفیر کو تشویشناک حالت میں جناح اسپتال لایا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق مقتول سیکنڈ ایئر کا طالب علم اور متحدہ قومی موومنٹ کا کارکن تھا۔ ایک اور واقعے میں پیر آباد تھانے کی حدود منگھو پیر میانوالی کالونی غوثیہ محلے کے رہائشی رکشا ڈرائیور30سالہ سرمد خان ولد نادر خان کو نامعلوم ملزمان نے گھر کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کا تعلق سوات سے تھا اور وہ ایک بچے کا باپ تھا۔

ادھر پاکستان بازار تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ نشان حیدر چوک الفتح شادی ہال کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار وں کی فائرنگ سے35سالہ ناصر ولد فرید ہلاک ہو گیا۔ سنی تحریک کے ترجمان فہیم شیخ نے بتایا کہ مقتول اسی علاقے میں نشان حیدر چوک کے قریب گلی نمبر11کا رہائشی اور سنی تحریک اورنگی ٹاؤن سیکٹر کا سابق کارکن تھا ۔ مقتول اپنے دوست کے پاس اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول فروخت کرنے کا کام کرتا تھا۔ واقعے کے وقت مقتول الفتح شادی ہال کے قریب پیٹرول فروخت کر رہا تھا کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کر کے اسے ہلاک کر دیا۔ قائد آباد کے علاقے گلشن معمار جنجال گوٹھ کے رہائشی 45 سالہ جہانزیب خان ولد کریم خان کو نامعلوم افراد نے قاسم آباد میںگھر سے کچھ فاصلے پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ۔

پولیس کے مطابق مقتول6 بچوں کا باپ اور دودھ فروش تھا۔ وہ زمینوں کی خرید و فروخت کا کام بھی کرتا تھا اور واردات کے وقت قاسم آباد میں واقع اپنی دودھ کی دکان سے گھر جا رہا تھا۔ علاوہ ازیں قائد آباد کے علاقے لانڈھی نیو مظفر آباد کالونی خضرا مسجد کے قریب گلی نمبر7 کے رہائشی30 سالہ اقبال زادہ ولد شیریں زادہ کو نامعلوم ملزمان نے جمعے کی نماز پڑھ کر گھر جاتے ہوئے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتول3 بچوں کا باپ تھا اور چند روز قبل آبائی گاؤں سوات سے روزگار کے سلسلے میں کراچی آیا تھا۔ ڈاکس تھانے کی حدود مچھر کالونی محمدی کالونی میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے45 سالہ جہانزیب ولد اکبر خان ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق مقتول مچھر کالونی کا رہائشی تھا جبکہ اس کا آبائی تعلق بنوں سے تھا ۔




واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے تاہم پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ محمود آباد کے علاقے اعظم بستی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پیپلز پارٹی کا علاقائی صدر 30 سالہ صفدر خان ولد راز محمد زخمی ہو گیا جسے طبی امداد کیلیے جناح اسپتال پہنچایا گیا ، پاک کالونی بڑا بورڈ کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے45 سالہ شہروز ولد ظفر زخمی ہو گیا جسے طبی امداد کیلیے سول اسپتال پہنچایا گیا، نیو کراچی نمبر3 میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 35 سالہ اختر علی ولد حمید زخمی ہو گیا جسے طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال پہنچایا گیا جبکہ عوامی کالونی کے علاقے کورنگی نمبر ساڑھے پانچ میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 25 سالہ خالد محمود ولد عبد اﷲ اور اس کا دوست28 سال زمیر زادہ ولد علی رضا زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کے لیے جناح اسپتال پہنچایا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان زخمی ہونے والوں کی موٹر سائیکل چھین کر لے گئے۔

زخمی ہونیوالے کورنگی نمبر ساڑھے پانچ پرانے تھانے کے قریب کے رہائشی ہیں ۔ ادھر درخشاں تھانے کی حدود ڈی ایچ اے بدر کمرشل مبارک مسجد کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے35 سالہ مجاہد ولد منظور زخمی ہو گیا جسے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال پہنچایا گیا جبکہ جمشید کوارٹر کے علاقے جیل روڈ کے قریب مہاجر عثمانیہ کالونی میں عثمانیہ مسجد کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے50 سالہ مختیار بیگم ولدحنیف زخمی ہو گئی جسے طبی امداد کیلیے سول اسپتال پہنچایا گیا ۔علاوہ ازیںگارڈن کے علاقے چڑیا گھر کے گیٹ نمبر4کے قریب جمن شاہ مزار کے سامنے کھڑے سی این جی رکشا نمبر D-84687 میں 3 افراد کی بوری بند لاشوں کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو تحویل میں لے کر مزیدکارروائی کے لیے سول اسپتال پہنچایا۔

سول اسپتال کے سینئر ایم ایل او ڈاکٹر آفتاب چنڑ نے بتایا کہ مقتولین کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گردن کی ہڈی توڑی گئی جبکہ سر پر گولیاں بھی ماری گئیں۔ مقتولین کے ہاتھ پاؤں رسی سے بندھے ہوئے تھے جبکہ ہاتھوں پر اسکواش ٹیپ بھی لپٹا ہوا تھا ۔ پولیس کے مطابق مقتولین کی لاشیں جس رکشے سے ملی تھیں وہ جمعرات کی شب ساڑھے گیارہ بجے نبی بخش تھانے کی حدود شو مارکیٹ ہاشم باغیچے والی گلی سے3 مسلح ملزمان نے چھینا تھا جس کی اطلاع رکشے کے مالک احمد علی بلوچ ولد ولی محمد بلوچ نے تھانے جا کر دی تھیاور پولیس نے رکشے چھینے جانے کا مقدمہ الزام نمبر244/12 درج کر لیا تھا۔

رکشے کے مالک احمد علی نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ پاکستان چوک کا رہائشی ہے ، جمعرات کی شب وہ جامع کلاتھ سگنل پر سواری کے انتظار میں کھڑا تھا کہ3 افراد رنچھوڑ لائن جانے کیلیے رکشے میں بیٹھ گئے ۔ ہوتی مارکیٹ سے آگے ایک سنسان سڑک پرپیچھے بیٹھی سواری نے پستول دکھار کر اس سے رکشا چھین لی۔ پولیس کے مطابق مقتولین کے پاس سے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے ان کی شناخت کی جا سکے۔ پولیس نے پوسٹ مارٹم اور ضابطے کی کارروائی کے بعد لاشیں شناخت کیلیے ایدھی سرد خانے میں رکھوا دی ہیں اور نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیاہے ۔
Load Next Story