لندن میں الطاف حسین کے خلاف کارروائی کا آغاز

الطاف حسین کے خلاف ریفرنس لندن میٹرو پولیٹن پولیس کو بھجوا دیا گیا ہے۔

الطاف حسین کے خلاف ریفرنس لندن میٹرو پولیٹن پولیس کو بھجوا دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

لندن میں طویل عرصہ سے خود اختیار کردہ جلاوطنی کے نتیجے میں مقیم ایم کیو ایم کے بانی سربراہ الطاف حسین کے خلاف برطانوی پولیس نے کراچی میں ہنگامہ آرائی کا باعث بننے والی اشتعال انگیز تقریر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی طرف سے برطانوی حکومت کو ریفرنس بھجوایا گیا تھا جس کا پہلا باضابطہ جواب پاکستان کو موصول ہو گیا ہے۔ برطانوی ہوم آفس کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف ریفرنس لندن میٹرو پولیٹن پولیس کو بھجوا دیا گیا ہے۔

پاکستان نے الطاف حسین کے خلاف جو ریفرنس بھجوایا تھا برطانوی حکومت نے اس کا باضابطہ جواب دے دیا ہے۔ اسلام آباد سے وزارت داخلہ کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ہوم آفس کے اعلیٰ افسر کی جانب سے جوابی مراسلے میں22 اگست کے پرتشدد واقعات کی پرزور مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ برطانوی پولیس تمام شواہد کا نہایت توجہ سے تجزیہ کرے گی اور اگر مزید شواہد کی ضرورت پڑی تو برطانوی ہائی کمیشن کے ذریعے حکومت پاکستان سے رابطہ کیا جائے گا۔ برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ کے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میٹروپولیٹن پولیس 22 اگست کو الطاف حسین کی طرف سے لندن سے کی جانے والی تقریر کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔


واضح رہے ایم کیو ایم کے قائد کی طرف سے 22 اگست کو کراچی میں اپنے کارکنوں سے کیے گئے خطاب میں نہ صرف پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اور لگوائے بلکہ اپنے کارکنوں کو نجی ٹی وی چینلز پر حملہ کے لیے اْکسایا بھی تھا۔ جب کہ برطانیہ کے قوانین میں کسی شخص کی طرف سے دوسرے فرد کو تشدد پر اکسانے کے بارے میں سخت قوانین موجود ہیں۔

22 اگست کو کراچی میں جو کچھ ہوا اس کی کوئی محب وطن پاکستانی حمایت نہیں کر سکتا۔ ہمارے سیاست دانوں کو کوئی بھی بات کرتے ہوئے ملک اور اس کے عوام کے مفادات اور جذبات کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اگر پاکستان ہے تو کسی سیاسی جماعت کی سیاست رہے گی۔ بہر حال حکومت پاکستان نے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ اب گیند حکومت برطانیہ کے کورٹ میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی قانون اس حوالے سے کیا کہتا ہے اور پاکستان نے جو الطاف حسین کے خلاف ریفرنس برطانیہ بھجوایا ہے اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
Load Next Story