میرا جی نامعلوم کے سفر پر چلنا پسند کرتے تھےشمیم حنفی
اردو کانفرنس میں ’’میرا جی مشرق و مغرب کا نقاد ‘‘ میں دانشوروں نے مقالے پیش کیے.
میرا جی کا شعری نو دراصل میں اپنے اندر چھبے ہوئے آدمی کی تلاش ہے،شاہدہ حسن. فوٹو: آرٹ کونسل کراچی
بھارت سے تشریف لائے ہوئے ممتاز ادیب، دانشور پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی نے کہا ہے کہ میرا جی، فیض احمد فیض کی شاعری اس دور کے سماجی ،معاشرتی، اور روحانی زندگی کے ہر رخ کو دکھاتی ہے۔
ان تینوں میں سے کسی ایک کو بھی ہٹا کر نہیں دیکھا جاسکتا اپنے دور میں ایک نئی دنیا کا خواب دیکھ رہے تھے وہ ن م راشد اور فیض احمد فیض سے بھی پوری طرح آگاہ تھے انھیں مشرق اور مغرب میں یکساں مقبولیت حاصل تھی، میرا جی کو یاد کرنا سب سے سنجیدہ مرحلہ ہے اور میرے نزدیک وہ سب سے زیادہ سنجیدہ شاعر تھے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز اپنے مقالے ''میرا جی مشرق و مغرب کا نقاد''پیش کرتے ہوئے کیا،فکری طور پر میرا جی کی نثر بھی سب سے مختلف تھی میرا جی معلوم سے زیادہ نامعلوم کے سفر پر چلنا زیادہ پسند کرتے تھے۔
صحافی وسعت اﷲخان نے اپنے موضوع ''میرا جی آج''میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرا جی کا کلام آج بھی کل کی طرح بے حد مقبول ہے،ڈاکٹر ناصر عباس نیئر نے اپنے موضوع ''میرا جی کے تراجم''میں کہا کہ ہماری تنقید اتنی بالغ نہیں ہوئی کہ میرا جی کی شاعری کے جہاں کی مکمل طور پر سیر کرسکے میرا جی نے حلقہ ارباب ذوق کی مزاج سازی کی مسکن حلقہ ارباب ذوق نے ان کی خدمات کا بھر پور اعتراف نہیں کیا، ان کی ترجمہ نگاری کو نظر انداز کیا گیا،ممتاز شاعرہ ڈاکٹرپرفیسر شاہدہ حسن نے اپنے موضوع ''میرا جی کی گیت نگاری''میں کہا کہ میرا جی کا شعری نو دراصل میں اپنے اندر چھبے ہوئے آدمی کی تلاش اور دریافت ہے۔
انھوں نے شعرِ ادب میں سب سے انوکھی دکان کھولی تھی اپنی زندگی کے چراغ کی بتی کو دونوں سروں سے جلا رکھا تھا،شخصیت کی یہ برہمی اور بکھراوا دراصل اس دور کا احتجاج تھا،ممتاز شاعرہ فہمیدہ ریاض نے اپنے موضوع ''میرا جی کی جمالیات''میں اظہار خیال کیا کہ فرانسیسی مصنف جولیان نے اردو میں کتاب لکھی، جولیان نے منٹو کے مضمون'' 3 گولے'' کا حوالہ دیا، منٹو کی بات اس کو دیکھ کر اس کی شاعری میرے لیے اور پیچیدہ ہوگئی اس سبب میرا جی کی شخصیت پر بات زیادہ ہوتی ہے لیکن شاعری پر کم میرا جی کی شاعری سمجھنے کے لیے بہت ذہین اور اعلیٰ ذوق کی ضرورت ہے ۔
منٹو کہتے ہیں حسن عشق اور موت کے درمیان میر اجی کا رخ نوکیل نہیں تھا بلکہ زندگی اور موت کا لباس تھااور دونوں سروں کو تھامے ہوئے تھے،ممتاز شاعرہ کشور ناہید نے مختصر اظہار خیال میںکہا کہ اگر میرا جی کے بارے میں بہت زیادہ جاننا چاہتے ہو تو '' اخترالایمان کی یاد داشتیں'' ضرور پڑھ لیں جو ان کے آخری وقتوں کے ساتھی تھے،نظامت کے فرائض علی حیدر ملک نے انجام دیے۔
ان تینوں میں سے کسی ایک کو بھی ہٹا کر نہیں دیکھا جاسکتا اپنے دور میں ایک نئی دنیا کا خواب دیکھ رہے تھے وہ ن م راشد اور فیض احمد فیض سے بھی پوری طرح آگاہ تھے انھیں مشرق اور مغرب میں یکساں مقبولیت حاصل تھی، میرا جی کو یاد کرنا سب سے سنجیدہ مرحلہ ہے اور میرے نزدیک وہ سب سے زیادہ سنجیدہ شاعر تھے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز اپنے مقالے ''میرا جی مشرق و مغرب کا نقاد''پیش کرتے ہوئے کیا،فکری طور پر میرا جی کی نثر بھی سب سے مختلف تھی میرا جی معلوم سے زیادہ نامعلوم کے سفر پر چلنا زیادہ پسند کرتے تھے۔
صحافی وسعت اﷲخان نے اپنے موضوع ''میرا جی آج''میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرا جی کا کلام آج بھی کل کی طرح بے حد مقبول ہے،ڈاکٹر ناصر عباس نیئر نے اپنے موضوع ''میرا جی کے تراجم''میں کہا کہ ہماری تنقید اتنی بالغ نہیں ہوئی کہ میرا جی کی شاعری کے جہاں کی مکمل طور پر سیر کرسکے میرا جی نے حلقہ ارباب ذوق کی مزاج سازی کی مسکن حلقہ ارباب ذوق نے ان کی خدمات کا بھر پور اعتراف نہیں کیا، ان کی ترجمہ نگاری کو نظر انداز کیا گیا،ممتاز شاعرہ ڈاکٹرپرفیسر شاہدہ حسن نے اپنے موضوع ''میرا جی کی گیت نگاری''میں کہا کہ میرا جی کا شعری نو دراصل میں اپنے اندر چھبے ہوئے آدمی کی تلاش اور دریافت ہے۔
انھوں نے شعرِ ادب میں سب سے انوکھی دکان کھولی تھی اپنی زندگی کے چراغ کی بتی کو دونوں سروں سے جلا رکھا تھا،شخصیت کی یہ برہمی اور بکھراوا دراصل اس دور کا احتجاج تھا،ممتاز شاعرہ فہمیدہ ریاض نے اپنے موضوع ''میرا جی کی جمالیات''میں اظہار خیال کیا کہ فرانسیسی مصنف جولیان نے اردو میں کتاب لکھی، جولیان نے منٹو کے مضمون'' 3 گولے'' کا حوالہ دیا، منٹو کی بات اس کو دیکھ کر اس کی شاعری میرے لیے اور پیچیدہ ہوگئی اس سبب میرا جی کی شخصیت پر بات زیادہ ہوتی ہے لیکن شاعری پر کم میرا جی کی شاعری سمجھنے کے لیے بہت ذہین اور اعلیٰ ذوق کی ضرورت ہے ۔
منٹو کہتے ہیں حسن عشق اور موت کے درمیان میر اجی کا رخ نوکیل نہیں تھا بلکہ زندگی اور موت کا لباس تھااور دونوں سروں کو تھامے ہوئے تھے،ممتاز شاعرہ کشور ناہید نے مختصر اظہار خیال میںکہا کہ اگر میرا جی کے بارے میں بہت زیادہ جاننا چاہتے ہو تو '' اخترالایمان کی یاد داشتیں'' ضرور پڑھ لیں جو ان کے آخری وقتوں کے ساتھی تھے،نظامت کے فرائض علی حیدر ملک نے انجام دیے۔