اسلامی بینکنگ کو سود سے پاک کرنے کا فیصلہ اسٹیٹ بینک کا سرکلر جاری
اسٹیٹ بینکنے اسلامک بینکوں کیلیے اسلامک فنانسنگ کی پراڈکٹس متعارف کرانے کے حوالے سے قوانین میں ترامیم کردی ہیں، سرکلر
2004 سے مرکزیبینک کی جانب سے تمام بینکوں کیلیے کے آئی بی او آرکو بینچ مارک کے طور پر استعمال کرنا ضروری تھا، اسٹیٹ بینک فوٹو : فائل
حکومت نے اسلامی بینکنگ کو سود سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے سرکلر جاری کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں اسلامک بینکنگ کے فروغ کیلیے اسلامک بینکوں کومشارقہ، مضاربہ اور وکالہ سمیت اسلامک فنانسنگ کی دیگراسکیمیں متعارف کرانے کیلیے شرح سود کوبینچ مارک کے طور پراستعمال کرنے سے چھوٹ دیدی ہے۔
اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے باضابطہ طور پر سرکلر جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسلامک بینکوں کیلیے اسلامک فنانسنگ کی پراڈکٹس متعارف کرانے کے حوالے سے قوانین میں ترامیم کردی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ ترامیم، وفاقی حکومت کی طرف سے اسلامک فنانسنگ کے فروغ کیلیے حال ہی میں کیے جانیوالے اقدام کی روشنی میں کی گئی ہیں۔
حکام کا کہناہے کہ براہ راست سودکی وصولی پر پابندی کے باوجود اکثر اسلامک بینک پرائسنگ ریفرنس کے طور پر شرح سود کی بنیاد پر بینچ مارکس کو استعمال کررہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کیسرکلرمیں کہا گیا ہے کہ اسلامک بینکوں کو شراکتی فنانسنگ اسکیموں کیلیے متبادل پرائسنگ میکنزم متعارف کرانا ہوگا، یہ متبادل پرائسنگ میکنزم کراچی انٹر بینک آفرڈ ریٹ(کے آئی بی او آر) کی جگہ ہونگے۔ قبل ازیں اسلامک بینک شرح منافع مرابی کی بنیاد پردیتے تھے جو دو فریقین کے مابین فکس منافع ہوتا تھا تاہم اب حکومت نے اسلامی بینکوں سے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے شریعت کے تحت متبادل انتظام لائیں۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ 2004 سے مرکزیبینک کی جانب سے تمام بینکوں کیلیے کے آئی بی او آرکو بینچ مارک کے طور پر استعمال کرنا ضروری تھا مگر اسلامک بینکوں کیلیے کے آئی بی او آر کو اپنی اسلامک پراڈکٹس کیلیے بینچ مارک کے طور پر استعمال کرنا اسلامک بینکنگ میں خامی اور نقص تصورکیا جارہا ہے اور اس سے ریٹیل کلائنٹسکی اسلامک فنانسنگ کو قبول کرنے کے حوالے سے حوصلہ شکنی ہورہی تھی اور یہ اسلامک بینکنگ کے پھیلاؤ میں بھی رکاوٹ بن رہا تھا جس کے باعث اب یہ ترامیم کرکے اسلامک بینکوں کو متبادل پرائسنگ میکنزم متعارف کروانے کا کہاگیا ہے کیونکہ حکومت ملک میں اسلامک فنانسنگ کو فروغ دینااورمجموعی بینکنگ میں اسلامک بینکنگ کا حصہ بڑھانا چاہتی ہے، اس وقت تمام بینکنگ اثاثہ جات میں اسلامک کے اثاثہ جات کا11.4فیصد حصہ جبکہ ملک کے مجموعی بینک ڈپازٹس میں 13.2فیصد حصہ ہے۔
اسلامک بینکنگ کے فروغ کیلیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اسلامک بینکوں کو اپنی اسلامک پراڈکٹس کیلیے شرح سود کو بینچ مارک بنانے سے دی جانیوالی چھوٹ کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، علاوہ ازیں اس کا اطلاق مشارقہ، مضاربہ اور وکالہ سمیت دیگر شراکتی اسلامک فنانسنگ اسکیموں پر ہوگا۔ اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ مشارقہ، مضاربہ اور وکالہ جیسے شریعہ کمپلائنٹ جانے پہچانے ہیںلیکن روایتی طور پر یہ شریعہ کمپلائنٹ کنٹریکٹس اسلامک فنانسنگ میںکاسٹ پلس ارینجمنٹ پر مبنی مرابہ سے گرہن شُدہ ہوگئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرابہ کے تحت ایک پارٹی کسی دوسرے کے ایماء پرکوئی چیز خریدنے پر رضامند ہوجاتی ہے جو اس سے ایک طے شُدہ مارک اپ(شرح سود)پر خریدنے کا وعدہ کرتا ہے اور یہ مارک اپ عمومی طور پر کے آئی بی او آر اور ایل آئی بی او آر کی طرز پر ایک فنانشل بینچ مارک کے طور پر طے کیا جاتا ہے۔
اس قسم کی اسلامک فنانسنگ کو بعض مذہبی اسکالرز کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا ور اسے سود کی ہی ایک قسم اور اسلامک فنانسنگ کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا جارہا تھا، یہ بھی کہا جارہا تھا کہ یہ حقیقی اقتصادی سرگرمی نہیں ہے البتہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اسلامک فنانسنگ کی پراڈکٹس متعارف کروانے کے حوالے سے قوانین میں کی جانیوالی ترامیم سے بحرین کی اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ آرگنائزیشن فاراسلامک فنانشل انسٹی ٹیوشنز کے جاری کردہ شریعہ اسٹینڈرز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی، اس کے علاوہ اپنے مقامی شریعہ بورڈ سے بھی تائیدکرانا ہوگی۔
اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے باضابطہ طور پر سرکلر جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسلامک بینکوں کیلیے اسلامک فنانسنگ کی پراڈکٹس متعارف کرانے کے حوالے سے قوانین میں ترامیم کردی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ ترامیم، وفاقی حکومت کی طرف سے اسلامک فنانسنگ کے فروغ کیلیے حال ہی میں کیے جانیوالے اقدام کی روشنی میں کی گئی ہیں۔
حکام کا کہناہے کہ براہ راست سودکی وصولی پر پابندی کے باوجود اکثر اسلامک بینک پرائسنگ ریفرنس کے طور پر شرح سود کی بنیاد پر بینچ مارکس کو استعمال کررہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کیسرکلرمیں کہا گیا ہے کہ اسلامک بینکوں کو شراکتی فنانسنگ اسکیموں کیلیے متبادل پرائسنگ میکنزم متعارف کرانا ہوگا، یہ متبادل پرائسنگ میکنزم کراچی انٹر بینک آفرڈ ریٹ(کے آئی بی او آر) کی جگہ ہونگے۔ قبل ازیں اسلامک بینک شرح منافع مرابی کی بنیاد پردیتے تھے جو دو فریقین کے مابین فکس منافع ہوتا تھا تاہم اب حکومت نے اسلامی بینکوں سے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے شریعت کے تحت متبادل انتظام لائیں۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ 2004 سے مرکزیبینک کی جانب سے تمام بینکوں کیلیے کے آئی بی او آرکو بینچ مارک کے طور پر استعمال کرنا ضروری تھا مگر اسلامک بینکوں کیلیے کے آئی بی او آر کو اپنی اسلامک پراڈکٹس کیلیے بینچ مارک کے طور پر استعمال کرنا اسلامک بینکنگ میں خامی اور نقص تصورکیا جارہا ہے اور اس سے ریٹیل کلائنٹسکی اسلامک فنانسنگ کو قبول کرنے کے حوالے سے حوصلہ شکنی ہورہی تھی اور یہ اسلامک بینکنگ کے پھیلاؤ میں بھی رکاوٹ بن رہا تھا جس کے باعث اب یہ ترامیم کرکے اسلامک بینکوں کو متبادل پرائسنگ میکنزم متعارف کروانے کا کہاگیا ہے کیونکہ حکومت ملک میں اسلامک فنانسنگ کو فروغ دینااورمجموعی بینکنگ میں اسلامک بینکنگ کا حصہ بڑھانا چاہتی ہے، اس وقت تمام بینکنگ اثاثہ جات میں اسلامک کے اثاثہ جات کا11.4فیصد حصہ جبکہ ملک کے مجموعی بینک ڈپازٹس میں 13.2فیصد حصہ ہے۔
اسلامک بینکنگ کے فروغ کیلیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اسلامک بینکوں کو اپنی اسلامک پراڈکٹس کیلیے شرح سود کو بینچ مارک بنانے سے دی جانیوالی چھوٹ کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، علاوہ ازیں اس کا اطلاق مشارقہ، مضاربہ اور وکالہ سمیت دیگر شراکتی اسلامک فنانسنگ اسکیموں پر ہوگا۔ اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ مشارقہ، مضاربہ اور وکالہ جیسے شریعہ کمپلائنٹ جانے پہچانے ہیںلیکن روایتی طور پر یہ شریعہ کمپلائنٹ کنٹریکٹس اسلامک فنانسنگ میںکاسٹ پلس ارینجمنٹ پر مبنی مرابہ سے گرہن شُدہ ہوگئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرابہ کے تحت ایک پارٹی کسی دوسرے کے ایماء پرکوئی چیز خریدنے پر رضامند ہوجاتی ہے جو اس سے ایک طے شُدہ مارک اپ(شرح سود)پر خریدنے کا وعدہ کرتا ہے اور یہ مارک اپ عمومی طور پر کے آئی بی او آر اور ایل آئی بی او آر کی طرز پر ایک فنانشل بینچ مارک کے طور پر طے کیا جاتا ہے۔
اس قسم کی اسلامک فنانسنگ کو بعض مذہبی اسکالرز کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا ور اسے سود کی ہی ایک قسم اور اسلامک فنانسنگ کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیا جارہا تھا، یہ بھی کہا جارہا تھا کہ یہ حقیقی اقتصادی سرگرمی نہیں ہے البتہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اسلامک فنانسنگ کی پراڈکٹس متعارف کروانے کے حوالے سے قوانین میں کی جانیوالی ترامیم سے بحرین کی اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ آرگنائزیشن فاراسلامک فنانشل انسٹی ٹیوشنز کے جاری کردہ شریعہ اسٹینڈرز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی، اس کے علاوہ اپنے مقامی شریعہ بورڈ سے بھی تائیدکرانا ہوگی۔