زرعی شعبہ اور پاکستانی معیشت
۔آج بھی اگر زراعت پر توجہ دی جائے تو پاکستان اناج میں خودکفیل ہو سکتا ہے اور اناج برآمدات بھی کر سکتا ہے۔
غذائی اجناس کی برآمدات کی وجہ سے تجارتی خسارے میں کمی آئی ہے. فوٹو: اے ایف پی
وفاقی ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے اکتوبر 2012ء کے پہلے چار ماہ کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے میں 6.79فیصد کمی آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران کھاد، کیڑے مار ادویات، مشینری اور دیگر مصنوعات کی درآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان سے غیر ممالک کو غذائی اجناس، پھلوں، سبزیوں، کھیلوں کے سامان، ٹیکسٹائل مصنوعات اور دیگر اشیاء کی برآمدات کی وجہ سے تجارتی خسارے میں 6.79فیصد کمی آئی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد وشمار کی تصدیق اخبارات میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ میں بھی کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات چار فیصد بڑھ چکی ہیں۔ اب تک ساڑھے چار ارب ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مصنوعات بیرون ملک بھیجی جا چکی ہیں۔
پاکستان کی معیشت کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ رواں مالی سال کے بقیہ مہینوں میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگر پاکستان اپنی مصوعات کی کوالٹی میں بہتری لائے تو برآمدات کے حجم کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے ۔ جو اشیاء ہم غیر ممالک سے منگواتے ہیں' اگر لوکل کارخانے یہاں وہ مصنوعات تیار کریں تو اس سے درآمدات میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ یوں اگر برآمدات کا حجم مزید بڑھے اور درآمدات میں مزید کمی آئے تو تجارتی خسارے میں حیران کن حد تک کمی لائی جا سکتی ہے جس کے ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
ادھراسٹیٹ بینک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 30نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 7کروڑ 48لاکھ ڈالر کی کمی کے بعد 13ارب 50کروڑ 9لاکھ ڈالر رہ گئے۔گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے ڈالر ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی اور مرکزی بینک کے ڈالر ڈپازٹس 15کروڑ 47 کمی کے بعد 8ارب70کروڑ 56لاکھ ڈالر رہ گئے۔درآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کی طلب میں اضافے اور مستقبل میں ڈالر کی قدر میں مزید اضافے کے پیش نظر کمرشل بینکوں نے اپنے ڈالر ذخائر میں اضافے کے تسلسل کو برقرار رکھا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا ہر ماہ کم ہونا اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اس تیزی سے کمی ہونا پاکستان کے معاشی مشکلات کو بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اس تیزی سے کمی ہی روپے پر دبائو کی بڑی وجہ ہے۔ تصویر کے اس رخ کی جانب دیکھا جائے تو پاکستان کی معیشت خاصی کمزور ہے' کچھ سیکٹرز میں بہتری ضرور آئی ہے لیکن روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث صورت حال خراب ہو رہی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے پاکستان برآمدات میں اضافے سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ پاکستان کو اپنی کرنسی کی قدر میں اضافے کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔
غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے بھی ترغیبات ازحد ضروری ہیں۔پاکستان زراعت پر توجہ دے تو معیشت کو تیزی سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔اب عالمی سطح پر بھی زراعت کی اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔ترقی یافتہ ممالک اپنی زراعت اور لائیو اسٹاک پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور بھوک ختم کرنے کے لیے زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 870ملین افراد یا دنیا کی آبادی میں آٹھ میں سے ایک فرد بھوک کا شکار ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی سطح پرزرعی شعبے کی ترقی کو کس قدر اہمیت دی جارہی ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کے باوجود ہم زرعی پسماندگی کا شکار ہیں۔آج بھی اگر زراعت پر توجہ دی جائے تو پاکستان اناج میں خودکفیل ہو سکتا ہے اور اناج برآمدات بھی کر سکتا ہے۔ اس طرح ملک سے غربت اور بھوک کا تصور ہی مٹ جائے گا۔ مہنگائی کے گراف میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان بیورو شماریات کی ایک اور رپورٹ کے مطابق 8 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی کی شرح میں 7.96 فیصد اضافہ' 8 ہزار ایک روپے سے 12 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی کی شرح میں 10.01فیصد اضافہ' 12 ہزار ایک روپے سے 18 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی کی شرح میں 9.56 فیصد اضافہ ہوا۔
جن 14 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں ایل پی جی 11 کلو سلینڈر' زندہ فارمی مرغی' فارمی مرغی کے انڈے' چائے کی پتی' گندم' ڈبل روٹی درمیانہ سائز' ریشمی کپڑا' 10 کلو آٹے کا تھیلا' انرجی سیور 14 واٹ' جلانے کی لکڑی' دال مسور دھلی' مٹی کا تیل' خوردنی تیل' دال ماش دھلی شامل ہیں۔ جن 13 اشیاء کی قیمت میں کمی ہوئی ان میں ٹماٹر' آلو' پیاز' لہسن' سرخ مرچ پسی ہوئی کھلی' دال چنا دھلی' چینی' دال مونگ دھلی' بناسپتی گھی کھلا' ٹوٹہ باسمتی چاول' گڑ' کیلا' چاول اری 6 شامل ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ معیشت کو بہتر اس وقت کیا جا سکتا ہے جب اس کے سارے شعبے اپنی پوری رفتار سے کام کریں۔زراعت ایک ایسا سیکٹر ہے جسے ترقی دے کر ہم کھانے پینے کی اشیاء کی مہنگائی سے جان چھڑا سکتے ہیں۔
پاکستان سے غیر ممالک کو غذائی اجناس، پھلوں، سبزیوں، کھیلوں کے سامان، ٹیکسٹائل مصنوعات اور دیگر اشیاء کی برآمدات کی وجہ سے تجارتی خسارے میں 6.79فیصد کمی آئی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد وشمار کی تصدیق اخبارات میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ میں بھی کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات چار فیصد بڑھ چکی ہیں۔ اب تک ساڑھے چار ارب ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مصنوعات بیرون ملک بھیجی جا چکی ہیں۔
پاکستان کی معیشت کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ رواں مالی سال کے بقیہ مہینوں میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگر پاکستان اپنی مصوعات کی کوالٹی میں بہتری لائے تو برآمدات کے حجم کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے ۔ جو اشیاء ہم غیر ممالک سے منگواتے ہیں' اگر لوکل کارخانے یہاں وہ مصنوعات تیار کریں تو اس سے درآمدات میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ یوں اگر برآمدات کا حجم مزید بڑھے اور درآمدات میں مزید کمی آئے تو تجارتی خسارے میں حیران کن حد تک کمی لائی جا سکتی ہے جس کے ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
ادھراسٹیٹ بینک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 30نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 7کروڑ 48لاکھ ڈالر کی کمی کے بعد 13ارب 50کروڑ 9لاکھ ڈالر رہ گئے۔گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے ڈالر ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی اور مرکزی بینک کے ڈالر ڈپازٹس 15کروڑ 47 کمی کے بعد 8ارب70کروڑ 56لاکھ ڈالر رہ گئے۔درآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کی طلب میں اضافے اور مستقبل میں ڈالر کی قدر میں مزید اضافے کے پیش نظر کمرشل بینکوں نے اپنے ڈالر ذخائر میں اضافے کے تسلسل کو برقرار رکھا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا ہر ماہ کم ہونا اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اس تیزی سے کمی ہونا پاکستان کے معاشی مشکلات کو بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اس تیزی سے کمی ہی روپے پر دبائو کی بڑی وجہ ہے۔ تصویر کے اس رخ کی جانب دیکھا جائے تو پاکستان کی معیشت خاصی کمزور ہے' کچھ سیکٹرز میں بہتری ضرور آئی ہے لیکن روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث صورت حال خراب ہو رہی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے پاکستان برآمدات میں اضافے سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ پاکستان کو اپنی کرنسی کی قدر میں اضافے کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔
غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے بھی ترغیبات ازحد ضروری ہیں۔پاکستان زراعت پر توجہ دے تو معیشت کو تیزی سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔اب عالمی سطح پر بھی زراعت کی اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔ترقی یافتہ ممالک اپنی زراعت اور لائیو اسٹاک پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور بھوک ختم کرنے کے لیے زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 870ملین افراد یا دنیا کی آبادی میں آٹھ میں سے ایک فرد بھوک کا شکار ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی سطح پرزرعی شعبے کی ترقی کو کس قدر اہمیت دی جارہی ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کے باوجود ہم زرعی پسماندگی کا شکار ہیں۔آج بھی اگر زراعت پر توجہ دی جائے تو پاکستان اناج میں خودکفیل ہو سکتا ہے اور اناج برآمدات بھی کر سکتا ہے۔ اس طرح ملک سے غربت اور بھوک کا تصور ہی مٹ جائے گا۔ مہنگائی کے گراف میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان بیورو شماریات کی ایک اور رپورٹ کے مطابق 8 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی کی شرح میں 7.96 فیصد اضافہ' 8 ہزار ایک روپے سے 12 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی کی شرح میں 10.01فیصد اضافہ' 12 ہزار ایک روپے سے 18 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی کی شرح میں 9.56 فیصد اضافہ ہوا۔
جن 14 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں ایل پی جی 11 کلو سلینڈر' زندہ فارمی مرغی' فارمی مرغی کے انڈے' چائے کی پتی' گندم' ڈبل روٹی درمیانہ سائز' ریشمی کپڑا' 10 کلو آٹے کا تھیلا' انرجی سیور 14 واٹ' جلانے کی لکڑی' دال مسور دھلی' مٹی کا تیل' خوردنی تیل' دال ماش دھلی شامل ہیں۔ جن 13 اشیاء کی قیمت میں کمی ہوئی ان میں ٹماٹر' آلو' پیاز' لہسن' سرخ مرچ پسی ہوئی کھلی' دال چنا دھلی' چینی' دال مونگ دھلی' بناسپتی گھی کھلا' ٹوٹہ باسمتی چاول' گڑ' کیلا' چاول اری 6 شامل ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ معیشت کو بہتر اس وقت کیا جا سکتا ہے جب اس کے سارے شعبے اپنی پوری رفتار سے کام کریں۔زراعت ایک ایسا سیکٹر ہے جسے ترقی دے کر ہم کھانے پینے کی اشیاء کی مہنگائی سے جان چھڑا سکتے ہیں۔