جلاوطن حماس چیف کی غزہ آمد
حماس کی حریف فلسطینی تنظیم الفتح کے اراکین نے بھی خالد مشعل کا پرجوش خیر مقدم کیا۔
خالد مشعل بچپن میں ہی والدین کے ہمراہ مادر وطن سے نکال دیے گئے تھے۔ فوٹو: رائٹرز
JAFARABAD:
حریت پسند فلسطینی تنظیم حماس کے سربراہ خالد مشعل کئی عشروں کی جلاوطنی کے بعد جمعے کو غزہ پہنچ گئے۔ یہ غزہ میں ان کی پہلی مرتبہ آمد ہے جس کے لیے وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آب دیدہ ہو گئے۔ حماس کے دیگر سینئر لیڈر موسیٰ ابو مرزوق اور ابو ہانیہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ خالد مشعل کا کہنا تھا کہ وہ ساری زندگی اس تاریخی لمحے کے لیے دعا مانگتے رہے ہیں کہ کب قسمت انھیں ان کے مادر وطن کی آغوش میں پہنچاتی ہے۔
''میں اللہ تبارک تعالیٰ سے کہتا تھا کہ یا اللہ مجھے غزہ میں شہادت سے سرفراز فرما۔'' میڈیا میں شایع ہونے والی تصاویر میں خالد مشعل اور اسماعیل ہانیہ کو کھلی چھت والی ایک چھوٹی سی کار میں کھڑے دکھایا گیا ہے جو ہاتھوں سے فتح کے نشان بنا رہے ہیں اور جذبات انگیز نعرے لگا رہے ہیں۔ ان کے گرد تنظیمی کارکنوں کا ہجوم ہے جن میں بعض نے سبز پرچم اٹھا رکھے ہیں۔ خالد مشعل کی غزہ آمد کو ایک طرف ان کے عسکریت پسند گروپ (حماس) کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی ظاہر ہوتی ہے دوسری طرف اسرائیل کے لیے سبکی کا باعث بھی ہے۔
واضح رہے خالد مشعل جو دریائے اردن کے مغربی کنارے پر پیدا ہوئے' اپنے بچپن میں ہی والدین کے ہمراہ مادر وطن سے نکال دیے گئے تھے جو اب قطر میں بیٹھ کر فلسطینیوں کی عسکری تنظیم حماس کی قیادت کرتے ہیں۔ وہ مصر کی سرحد عبور کر کے غزہ میں داخل ہوئے۔ حماس کی حریف فلسطینی تنظیم الفتح کے اراکین نے بھی خالد مشعل کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ ان کی کار کے گرد جمع ہونے والے اژدھام سے ان کی عوامی مقبولیت کی آئینہ داری ہوتی ہے۔ حماس کے ہزاروں حامی شہر کی سڑکوں پر دو رویہ کھڑے اپنے مقبول عام لیڈر کی راہ میں آنکھیں بچھائے اس کا استقبال کر رہے تھے۔
ادھر اسرائیل جس نے غزہ کی پٹی کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔غیرملکی سفارت کاروں کو بھی غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا جو محصور فلسطینیوں کی حالت کا بنفس نفیس جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ حماس کے سربراہ کا غزہ میں آنا فلسطینی سیاست میں نئی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اس سے فلسطینی لیڈر شپ کے باہمی رابطے بڑھنے کے امکانات روشن ہیں۔الفتح کی قیادت نے جس طرح خالد مشعل کا استقبال کیاہے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطنیوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان کہیں نہ کہیں ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔
فلسطین کے صدر محمودعباس کا اس حوالے سے ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا۔ لیکن قرائین سے لگتا ہے کہ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کے درمیان اچھے تعلقات کے قیام کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔ اس کے مستقبل کی سیاست پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ اسرائیل اس حوالے سے مستقبل میں کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے، اس کا بھی آیندہ چند روز میں پتہ چل جائے گا۔
حریت پسند فلسطینی تنظیم حماس کے سربراہ خالد مشعل کئی عشروں کی جلاوطنی کے بعد جمعے کو غزہ پہنچ گئے۔ یہ غزہ میں ان کی پہلی مرتبہ آمد ہے جس کے لیے وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آب دیدہ ہو گئے۔ حماس کے دیگر سینئر لیڈر موسیٰ ابو مرزوق اور ابو ہانیہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ خالد مشعل کا کہنا تھا کہ وہ ساری زندگی اس تاریخی لمحے کے لیے دعا مانگتے رہے ہیں کہ کب قسمت انھیں ان کے مادر وطن کی آغوش میں پہنچاتی ہے۔
''میں اللہ تبارک تعالیٰ سے کہتا تھا کہ یا اللہ مجھے غزہ میں شہادت سے سرفراز فرما۔'' میڈیا میں شایع ہونے والی تصاویر میں خالد مشعل اور اسماعیل ہانیہ کو کھلی چھت والی ایک چھوٹی سی کار میں کھڑے دکھایا گیا ہے جو ہاتھوں سے فتح کے نشان بنا رہے ہیں اور جذبات انگیز نعرے لگا رہے ہیں۔ ان کے گرد تنظیمی کارکنوں کا ہجوم ہے جن میں بعض نے سبز پرچم اٹھا رکھے ہیں۔ خالد مشعل کی غزہ آمد کو ایک طرف ان کے عسکریت پسند گروپ (حماس) کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی ظاہر ہوتی ہے دوسری طرف اسرائیل کے لیے سبکی کا باعث بھی ہے۔
واضح رہے خالد مشعل جو دریائے اردن کے مغربی کنارے پر پیدا ہوئے' اپنے بچپن میں ہی والدین کے ہمراہ مادر وطن سے نکال دیے گئے تھے جو اب قطر میں بیٹھ کر فلسطینیوں کی عسکری تنظیم حماس کی قیادت کرتے ہیں۔ وہ مصر کی سرحد عبور کر کے غزہ میں داخل ہوئے۔ حماس کی حریف فلسطینی تنظیم الفتح کے اراکین نے بھی خالد مشعل کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ ان کی کار کے گرد جمع ہونے والے اژدھام سے ان کی عوامی مقبولیت کی آئینہ داری ہوتی ہے۔ حماس کے ہزاروں حامی شہر کی سڑکوں پر دو رویہ کھڑے اپنے مقبول عام لیڈر کی راہ میں آنکھیں بچھائے اس کا استقبال کر رہے تھے۔
ادھر اسرائیل جس نے غزہ کی پٹی کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔غیرملکی سفارت کاروں کو بھی غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا جو محصور فلسطینیوں کی حالت کا بنفس نفیس جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ حماس کے سربراہ کا غزہ میں آنا فلسطینی سیاست میں نئی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اس سے فلسطینی لیڈر شپ کے باہمی رابطے بڑھنے کے امکانات روشن ہیں۔الفتح کی قیادت نے جس طرح خالد مشعل کا استقبال کیاہے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطنیوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان کہیں نہ کہیں ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔
فلسطین کے صدر محمودعباس کا اس حوالے سے ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا۔ لیکن قرائین سے لگتا ہے کہ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کے درمیان اچھے تعلقات کے قیام کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔ اس کے مستقبل کی سیاست پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ اسرائیل اس حوالے سے مستقبل میں کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے، اس کا بھی آیندہ چند روز میں پتہ چل جائے گا۔