حکومت ہنگامی طبی امداد کی فراہمی میں ناکام ہے ماہرین طب
عالمی کانفرنس کا افتتاح،کراچی میں مزید ٹراما سینٹر بنائے جائیں، حادثات میں مریضوں کی 80 فیصد ہڈیاں ٹوٹتی ہیں.
منصوبے کے تحت اسپتال میں مزید 1000 بستروں کا اضافہ کیا جائیگا۔ فوٹو: فائل
ملک میں کوئی بھی ہنگامی صورتحال ہونے پرقومی ادارے طبی امدادکی فراہمی میں ناکام نظر آتے ہیں۔
یہی وجہ ہے متاثرہ مریضوں کی اکثریت نجی اسپتالوں کا رخ کرتی ہے،سرکاری اسپتالوں میں سہولتیں کم ہورہی ہیں ،موجودہ صورتحال کے پیش نظرکراچی میں مزید ٹراما سینٹر بنائے جائیں،ٹریفک حادثات کی وجہ سے مریضوں کی80 فیصد ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں یہ بات پاکستان آرتھو پیڈک ایسوسی ایشن کے تحت 26 ویں عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے مختلف ماہرین طب نے خطاب میںکہی، آرتھوپیڈک کانفرنس 9 دسمبر تک کراچی میں جاری رہے گی جس میں ایک ہزار سے زائد ڈاکٹر اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے عالمی ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔
کانفرنس کے حوالے سے پروفیسر علی محمد انصاری ، پروفیسر اسد اللہ مہر، ڈاکٹر ضمیر احمد سومرونے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگومیں بتایا کہ عالمی کانفرنس میں امریکا ، جرمنی، مصر، کینیڈا، برطانیہ، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں،اس کانفرنس میں 10مقالے 25خصوصی لیکچرز اور 90 فری پیپر پڑھے جائیں گے۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین رانا بھگوان داس نے کہا کہ صحت کی بنیادی سہولت کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہے اور پاکستان جیسے غریب ملک میں صحت کی سہولیات ناکافی ہیں جس کی وجوہات بیوروکریسی کی نا اہلی، غفلت ، کرپشن اور احتساب کا نہ ہونا ہے اور سیاسی قیادت کو تعلیم و صحت و روزگار کو اولین ترجیح بنانا ہوگا، ہڈیوںکی بیماریوں ، علاج و حفاظت کے حوالے سے چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی ، پروفیسر اسد اللہ مہر نے بتایا کہ نجی و سرکاری اداروں کے تعاون سے جلد ہی سندھ میں انٹرنیشنل فائونڈیشن کے تعاون سے ٹیڑھی ہڈیوں کے مرض میں مبتلا بچوں کے علاج کے 10 مراکز کھولے جائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ ٹیڑھی ہڈیوں والے بچوں کی پیدائش عام ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ مائوں میںغذا و کیلشیم کی کمی ہے،انھوں نے کہا کہ ایسے بچوں کے فوری علاج سے یہ ہڈیاں بغیر آپریشن سیدھی کی جا سکتی ہے اور 6 ماہ کے بچوں میں اس بیماری کا علاج صرف آپریشن ہے، ان ماہرین نے کہا کہ ہڈیوں کی بیماری دودھ نہ پینے، دھوپ نہ لگنے، کیلشیم اور وٹامن کی کمی کے باعث ہوتی ہے،بالخصوص خواتین کو ہڈیوں کی کمزوری سے بچایا جائے،ماہرین نے کہا کہ ہڈیوں کی80 فیصد بیماریاں حادثات کے باعث اور خراب ٹرانسپورٹ مثلاً موٹر سائیکل، چنگچی کے باعث بھی ہیں،انھوں نے کہا کہ حکومت ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں فیل ہوگئی ہے اور اس کے باعث حادثات و ہنگامی حالات سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی اور ٹیم نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے متاثرہ مریضوں کی اکثریت نجی اسپتالوں کا رخ کرتی ہے،سرکاری اسپتالوں میں سہولتیں کم ہورہی ہیں ،موجودہ صورتحال کے پیش نظرکراچی میں مزید ٹراما سینٹر بنائے جائیں،ٹریفک حادثات کی وجہ سے مریضوں کی80 فیصد ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں یہ بات پاکستان آرتھو پیڈک ایسوسی ایشن کے تحت 26 ویں عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے مختلف ماہرین طب نے خطاب میںکہی، آرتھوپیڈک کانفرنس 9 دسمبر تک کراچی میں جاری رہے گی جس میں ایک ہزار سے زائد ڈاکٹر اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے عالمی ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔
کانفرنس کے حوالے سے پروفیسر علی محمد انصاری ، پروفیسر اسد اللہ مہر، ڈاکٹر ضمیر احمد سومرونے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگومیں بتایا کہ عالمی کانفرنس میں امریکا ، جرمنی، مصر، کینیڈا، برطانیہ، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں،اس کانفرنس میں 10مقالے 25خصوصی لیکچرز اور 90 فری پیپر پڑھے جائیں گے۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین رانا بھگوان داس نے کہا کہ صحت کی بنیادی سہولت کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہے اور پاکستان جیسے غریب ملک میں صحت کی سہولیات ناکافی ہیں جس کی وجوہات بیوروکریسی کی نا اہلی، غفلت ، کرپشن اور احتساب کا نہ ہونا ہے اور سیاسی قیادت کو تعلیم و صحت و روزگار کو اولین ترجیح بنانا ہوگا، ہڈیوںکی بیماریوں ، علاج و حفاظت کے حوالے سے چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی ، پروفیسر اسد اللہ مہر نے بتایا کہ نجی و سرکاری اداروں کے تعاون سے جلد ہی سندھ میں انٹرنیشنل فائونڈیشن کے تعاون سے ٹیڑھی ہڈیوں کے مرض میں مبتلا بچوں کے علاج کے 10 مراکز کھولے جائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ ٹیڑھی ہڈیوں والے بچوں کی پیدائش عام ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ مائوں میںغذا و کیلشیم کی کمی ہے،انھوں نے کہا کہ ایسے بچوں کے فوری علاج سے یہ ہڈیاں بغیر آپریشن سیدھی کی جا سکتی ہے اور 6 ماہ کے بچوں میں اس بیماری کا علاج صرف آپریشن ہے، ان ماہرین نے کہا کہ ہڈیوں کی بیماری دودھ نہ پینے، دھوپ نہ لگنے، کیلشیم اور وٹامن کی کمی کے باعث ہوتی ہے،بالخصوص خواتین کو ہڈیوں کی کمزوری سے بچایا جائے،ماہرین نے کہا کہ ہڈیوں کی80 فیصد بیماریاں حادثات کے باعث اور خراب ٹرانسپورٹ مثلاً موٹر سائیکل، چنگچی کے باعث بھی ہیں،انھوں نے کہا کہ حکومت ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں فیل ہوگئی ہے اور اس کے باعث حادثات و ہنگامی حالات سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی اور ٹیم نہیں ہے۔