سی این جی کی لوڈشیڈنگ عوام اذیت کا شکار ہوگئے

بسوں، منی بسوں اور کوچز کی کمی رہی، شہری بسوں کی چھتوں پر سفرکرنے پرمجبور.

ہفتے کی رات 12بجے فراہمی کا آغاز ہونے پر اسٹیشنز کے باہر گاڑیوں کی قطاریں. فوٹو: فائل

سی این جی کی بندش کے باعث ہفتہ کو کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید قلت رہی،شہریوں کو اذیت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رکشہ وٰٹیکسی مالکان نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منہ مانگا کرایہ وصول کیا، تفصیلات کے مطابق کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے سی این جی کی24گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے باعث صبح سے بسوںومنی بسوں اور کوچز کی کمی رہی جبکہ دن اور شام کے اوقات میں بیشتر روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہی، شہریوں کو گھر جانے کیلیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔




بسوں کی قلت کے باعث شہری دستیاب گاڑیوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہوگئے،رکشا وٹیکسی مالکان نے کم ترفاصلے کیلیے بھی منہ مانگا کرایہ وصول کیا، علاوہ ازیںکراچی سمیت سندھ بھرکے سی این جی اسٹیشنزجمعہ اورہفتہ کے درمیانی شب سے 24 گھنٹوں کے لیے بندش کے بعدہفتہ اتوار کی شب 12 بجے کھول دیے گئے۔

لیکن سی این جی فلنگ اسٹیشنز پرسپلائی کھلنے سے چار تا پانچ گھنٹے قبل ہی کے باعث کمرشل وہیکلز ٹیکسی رکشا سوزوکی پک اپس اور دیگر نجی گاڑیوں کی بڑی تعداد قطاروں میں لگ گئیں جو رات گئے سی این جی کے حصول میں کامیاب ہوئے،شہر کے بعض حصوں جن میں سہراب گوٹھ سے متصل راشد منہاس روڈ پر واقع پی ایس او ڈیلرکے علاوہ اسی کمپنی کے دیگر ڈیلرز بھی شامل ہیں نے اتوارکی شب بھی سی این جی کی فروخت بندرکھی۔
Load Next Story