منٹو کی انسان دوستی اور دردمندی مثالی تھی شمیم حنفی
بھارت میں ان پرہندی اورانگریزی زبان میں کتاب بھی شائع کی گئی،منٹو بہت ہولناک اوردل میں اترجانے والی کہانیاں لکھتے تھے.
’’عظیم منٹو کی صدی‘‘ کے موضوع پر اجلاس سے انتظار حسین، زاہدہ حنا، رئیس فاطمہ،ڈاکٹر ضیاالحسن، ایم خالد فیاض و دیگر کا خطاب. شمیم حنفی۔ فوٹو: ایکسپریس
ممتازادیب،دانشوراور بھارت سے آئے ہوئے اسکالر شمیم حنفی نے کہا کہ سعادت حسن منٹو کی انسان دوستی اور درمندی مثالی تھی۔
ان پر بھارت میں 300صفحات پر ہندی اور انگریزی زبان میں کتاب بھی شائع کی گئی، منٹو نامہ5جلدوں میں شائع ہوا، 268 کہانیوں کا سراغ نہیں مل سکا، وہ مسلسل کہانیاں لکھتے چلے جارہے ہیں وہ لکھنے کی مشین تھے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے عالمی اردو کانفرنس میں ''عظیم منٹو کی صدی'' کے موضوع پر ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، شمیم حنفی نے کہا کہ منٹو بہت ہولناک اور دل میں اترجانے والی کہانیاں لکھتے تھے، وہ بڑے افسانہ نگار تھے۔
غلام عباس اوربیدی جیسے اچھے افسانہ نگار پیدا ہوئے لیکن وہ زیادہ مقبول نہیں رہے، اس طرح سعادت حسن منٹو کو 20ویں صدی کا سب سے بڑا افسانہ نگار قرار دیا گیا، ممتاز ادیب اور افسانہ نگار انتظار حسین نے کہا کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے، آج مجھے تقریب کی صدارت سونپ دی گئی ہے، سعادت حسن منٹو جس عہد میں پیدا ہوئے وہ ایک بھر پور دور تھا، منٹوہمارے ادب میں نمایاں مقام حاصل رکھتے تھے، 1947سے پہلے کرشن چندر مقبول افسانہ نگار تھے لیکن اس کے بعد بیدی اور منٹو نے تیزی سے شہرت حاصل کی، شاعر ڈاکٹر ضیاالحسن نے کہا کہ ایک عظیم فن کار ہمیں ہماری اصل شکل دکھاتا ہے۔
سعادت حسن منٹو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے افسانے میں اپنی شرم ناک باتیں نہیں لکھیں، ڈاکٹر ضیاالحسن نے مزید کہا کہ جدید اردو ادب میں فحش نگاری جتنی سعادت حسن منٹو کے حصے میں آئی اتنی کسی اور کے حصے میں نہیں آئی، وہ فحش نگار نہیں تھے لیکن ان کی تحریروں پر فتوے جاری کیے جاتے رہے، منٹو کے خیالات بالکل ہماری سوچ کے برعکس ہیں،ممتاز کالم نویس رئیس فاطمہ نے کہا کہ سعادت حسن منٹو کے2مجموعے اور خاکے بھی موجود ہیں لیکن ان پر کام نہیں کیا جا رہا، سعادت حسن منٹو اگر خاکہ نگاری پر توجہ دیتے تو وہ افسانہ نگار سے زیادہ مقبول ہوتے۔
سعادت حسن منٹو اپنی خاکہ نگاری سے شخصیت کی زندگی کی بھر پور عکاسی کرنے کا کمال رکھتے ہیں، اعتدال اور توازن سعادت حسن منٹو کی زندگی میں نہیں تھا، رئیس فاطمہ نے مزید کہا کہ سعادت حسن منٹو کے قلم کی کاٹ سے غلاظت کا پردہ ضرور چاک ہو جاتا ہے، ممتاز افسانہ نگار زاہدہ حنا نے کہا کہ سعادت حسن منٹو ہمارا ضمیر تھے اور ضمیر سے بڑا آئینہ اور کون ہو سکتا ہے، وہ پاکستان سے واپس جانا چاہتے تھے، سعادت حسن منٹو نے آج تک کے حالات1951میں لکھ دیے تھے، زاہدہ حنا نے کہا کہ سعادت حسن منٹو کو اب ایک اچھے قلم کار کے طور پر جانا پہچانا جا رہا ہے، انھیں فحش نگار اور نوجوانوں کا لکھاری قرار دیا گیاحالانکہ سعادت حسن منٹو ایک نہایت درد مند انسان تھے، سعادت حسن منٹو پاکستان آئے۔
یہاں آکر ذلت کی زندگی بسر کرنے لگے اور ایک بوتل کے لیے افسانہ لکھنے لگے، ممتاز ادیب ایم خالد فیاض نے اپنے مقالے میں کہا کہ سعادت حسن منٹو نے اپنے تجربات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا،وہ اپنے فن کے حوالے سے غیر سنجیدہ تھے ،ان کے افسانوں کی تعداد زیادہ تو نہیں ہے لیکن انھوں نے اس طرح قاری کی توجہ ضرور حاصل کر رکھی ہے، ممتاز شاعرہ شاہدہ حسن نے کہا کہ ہم سعادت حسن منٹو کی صدی منا رہے ہیں، سعادت حسن منٹو کی افسانہ نگاری کی وجہ سے ان پر 6بار مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
ممتاز ادیب و دانشور مسعود اشعر نے اپنے مقالے میں کہا کہ آج ہم جس سماج میں حصہ لے رہے ہیں کیا وہ منٹو کی باتوں کو تسلیم کر لے گا، وہ جس طرح سے ہمارے معاشرے کی چیر پھاڑ کرتا ہے کیا ہم اسے قبول کر لیں گے، سعادت حسن منٹو نے جس ملے جلے معاشرے میں لکھنا شروع کیا وہاں ہندو، سکھ ، مسلمان اور دیگر ذاتوں کے لوگ شامل تھے، سعادت حسن منٹو کو برا بھلا بھی کہا گیا لیکن وہ معاشرے کی سچائیوں کو لکھنے سے بعض نہیں آئے، قیام پاکستان کے وقت ہم دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ رکھتے تھے لیکن یہ بات اب ہمارے درمیان نظر ہی نہیں آتی۔
ان پر بھارت میں 300صفحات پر ہندی اور انگریزی زبان میں کتاب بھی شائع کی گئی، منٹو نامہ5جلدوں میں شائع ہوا، 268 کہانیوں کا سراغ نہیں مل سکا، وہ مسلسل کہانیاں لکھتے چلے جارہے ہیں وہ لکھنے کی مشین تھے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے عالمی اردو کانفرنس میں ''عظیم منٹو کی صدی'' کے موضوع پر ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، شمیم حنفی نے کہا کہ منٹو بہت ہولناک اور دل میں اترجانے والی کہانیاں لکھتے تھے، وہ بڑے افسانہ نگار تھے۔
غلام عباس اوربیدی جیسے اچھے افسانہ نگار پیدا ہوئے لیکن وہ زیادہ مقبول نہیں رہے، اس طرح سعادت حسن منٹو کو 20ویں صدی کا سب سے بڑا افسانہ نگار قرار دیا گیا، ممتاز ادیب اور افسانہ نگار انتظار حسین نے کہا کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے، آج مجھے تقریب کی صدارت سونپ دی گئی ہے، سعادت حسن منٹو جس عہد میں پیدا ہوئے وہ ایک بھر پور دور تھا، منٹوہمارے ادب میں نمایاں مقام حاصل رکھتے تھے، 1947سے پہلے کرشن چندر مقبول افسانہ نگار تھے لیکن اس کے بعد بیدی اور منٹو نے تیزی سے شہرت حاصل کی، شاعر ڈاکٹر ضیاالحسن نے کہا کہ ایک عظیم فن کار ہمیں ہماری اصل شکل دکھاتا ہے۔
سعادت حسن منٹو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے افسانے میں اپنی شرم ناک باتیں نہیں لکھیں، ڈاکٹر ضیاالحسن نے مزید کہا کہ جدید اردو ادب میں فحش نگاری جتنی سعادت حسن منٹو کے حصے میں آئی اتنی کسی اور کے حصے میں نہیں آئی، وہ فحش نگار نہیں تھے لیکن ان کی تحریروں پر فتوے جاری کیے جاتے رہے، منٹو کے خیالات بالکل ہماری سوچ کے برعکس ہیں،ممتاز کالم نویس رئیس فاطمہ نے کہا کہ سعادت حسن منٹو کے2مجموعے اور خاکے بھی موجود ہیں لیکن ان پر کام نہیں کیا جا رہا، سعادت حسن منٹو اگر خاکہ نگاری پر توجہ دیتے تو وہ افسانہ نگار سے زیادہ مقبول ہوتے۔
سعادت حسن منٹو اپنی خاکہ نگاری سے شخصیت کی زندگی کی بھر پور عکاسی کرنے کا کمال رکھتے ہیں، اعتدال اور توازن سعادت حسن منٹو کی زندگی میں نہیں تھا، رئیس فاطمہ نے مزید کہا کہ سعادت حسن منٹو کے قلم کی کاٹ سے غلاظت کا پردہ ضرور چاک ہو جاتا ہے، ممتاز افسانہ نگار زاہدہ حنا نے کہا کہ سعادت حسن منٹو ہمارا ضمیر تھے اور ضمیر سے بڑا آئینہ اور کون ہو سکتا ہے، وہ پاکستان سے واپس جانا چاہتے تھے، سعادت حسن منٹو نے آج تک کے حالات1951میں لکھ دیے تھے، زاہدہ حنا نے کہا کہ سعادت حسن منٹو کو اب ایک اچھے قلم کار کے طور پر جانا پہچانا جا رہا ہے، انھیں فحش نگار اور نوجوانوں کا لکھاری قرار دیا گیاحالانکہ سعادت حسن منٹو ایک نہایت درد مند انسان تھے، سعادت حسن منٹو پاکستان آئے۔
یہاں آکر ذلت کی زندگی بسر کرنے لگے اور ایک بوتل کے لیے افسانہ لکھنے لگے، ممتاز ادیب ایم خالد فیاض نے اپنے مقالے میں کہا کہ سعادت حسن منٹو نے اپنے تجربات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا،وہ اپنے فن کے حوالے سے غیر سنجیدہ تھے ،ان کے افسانوں کی تعداد زیادہ تو نہیں ہے لیکن انھوں نے اس طرح قاری کی توجہ ضرور حاصل کر رکھی ہے، ممتاز شاعرہ شاہدہ حسن نے کہا کہ ہم سعادت حسن منٹو کی صدی منا رہے ہیں، سعادت حسن منٹو کی افسانہ نگاری کی وجہ سے ان پر 6بار مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
ممتاز ادیب و دانشور مسعود اشعر نے اپنے مقالے میں کہا کہ آج ہم جس سماج میں حصہ لے رہے ہیں کیا وہ منٹو کی باتوں کو تسلیم کر لے گا، وہ جس طرح سے ہمارے معاشرے کی چیر پھاڑ کرتا ہے کیا ہم اسے قبول کر لیں گے، سعادت حسن منٹو نے جس ملے جلے معاشرے میں لکھنا شروع کیا وہاں ہندو، سکھ ، مسلمان اور دیگر ذاتوں کے لوگ شامل تھے، سعادت حسن منٹو کو برا بھلا بھی کہا گیا لیکن وہ معاشرے کی سچائیوں کو لکھنے سے بعض نہیں آئے، قیام پاکستان کے وقت ہم دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ رکھتے تھے لیکن یہ بات اب ہمارے درمیان نظر ہی نہیں آتی۔