جنوبی ایشیا میں امن کیلیے اہل قلم اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیںمقررین
اہل قلم ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کیلیے مستحکم اور مضبوط ثقافتی روابط اختیار کریں،شمیم حنفی.
اہل قلم ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کیلیے مستحکم اور مضبوط ثقافتی روابط اختیار کریں،شمیم حنفی. فوٹو: آرٹ کونسل کراچی
جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے اہل قلم اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں، اہل قلم اور دانش ور انتہا پسندی کے خاتمے کیلیے بھی اپنا کردار ادا کریں۔
وہ ایک دوسرے کے جذبات سے بھی آگاہی رکھتے ہیں، اہل قلم ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کیلیے مستحکم اور مضبوط ثقافتی روابط اختیار کریں، فن کار اور موسیقار ان لوگوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہیں۔ بھارت کے ممتاز دانشور اور ادیب پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی نے ان خیالات کا اظہار آرٹس کونسل کراچی میں پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز''جنوبی ایشیا،پائیدار علاقائی امن اور تخلیق کاروں کا کردار کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ ہمارا حال مختلف خانوں میں بٹا ہوا ہے، اس طرح ہماری تاریخ بھی خانوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں ہندی اور انگریزی پر ایک روشن خیال طبقہ موجود ہے، ہم اپنی دنیا کو جتنا تنگ سمجھتے ہیں وہ اتنی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اردو نے دونوں ممالک کے درمیان راہ ہموار کی ہے تاہم کچھ لوگ اس راستے کو بند کرنا چاہتے ہیں، ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صلاح الدین محمود عاشق رسول بھی تھے۔
میں تو غریب آدمی ہوں ، اردو لکھنے والا ہوں، اردو میں لکھتا ہوں، اردو میں سمجھتا ہوں ۔ممتازموسیقار ارشد محمود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسیقی کی طاقت کی بے شمار مثالیں ہیں، موسیقی ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے معاشرے میں کلچر کے فروغ کے ساتھ ساتھ امن اور شانتی کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔ ادب اور انسانی جذبات اچھائی کے حوالے سے دنیا بھر میں کام کا ذریعہ بنتے ہیں، امن کی خاطر میوزک کا روپ دھار کر ہم سورج مکھی کے پھول بن کر حقیقی طور پر اپنائیت کا احساس دلا سکتے ہیں۔
ڈرامہ پڑھنے کی نہیں دیکھنی کی چیز ہے جس کو ہم پڑھانے کے ساتھ دکھا بھی رہے ہیں۔ ممتاز صحافی غازی صلاح الدین نے کہا کہ ادب ابلاغ کا ذریعہ ہے، رابطے جب تک نہ ہوں عوام ، اداروں ، ملکوں میں ترقی اور امن کے راستے نہیں کھلیں گے،آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ 2003میںدونوں ممالک کے درمیان جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے ان حالات میں ہم نے250ادیبوں، شعرا، فنکاروں کا ثقافتی شخصیات کے ساتھ سیمینار کرکے احساس دلایا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں۔
وہ ایک دوسرے کے جذبات سے بھی آگاہی رکھتے ہیں، اہل قلم ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کیلیے مستحکم اور مضبوط ثقافتی روابط اختیار کریں، فن کار اور موسیقار ان لوگوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہیں۔ بھارت کے ممتاز دانشور اور ادیب پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی نے ان خیالات کا اظہار آرٹس کونسل کراچی میں پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز''جنوبی ایشیا،پائیدار علاقائی امن اور تخلیق کاروں کا کردار کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ ہمارا حال مختلف خانوں میں بٹا ہوا ہے، اس طرح ہماری تاریخ بھی خانوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں ہندی اور انگریزی پر ایک روشن خیال طبقہ موجود ہے، ہم اپنی دنیا کو جتنا تنگ سمجھتے ہیں وہ اتنی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اردو نے دونوں ممالک کے درمیان راہ ہموار کی ہے تاہم کچھ لوگ اس راستے کو بند کرنا چاہتے ہیں، ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صلاح الدین محمود عاشق رسول بھی تھے۔
میں تو غریب آدمی ہوں ، اردو لکھنے والا ہوں، اردو میں لکھتا ہوں، اردو میں سمجھتا ہوں ۔ممتازموسیقار ارشد محمود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسیقی کی طاقت کی بے شمار مثالیں ہیں، موسیقی ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے معاشرے میں کلچر کے فروغ کے ساتھ ساتھ امن اور شانتی کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔ ادب اور انسانی جذبات اچھائی کے حوالے سے دنیا بھر میں کام کا ذریعہ بنتے ہیں، امن کی خاطر میوزک کا روپ دھار کر ہم سورج مکھی کے پھول بن کر حقیقی طور پر اپنائیت کا احساس دلا سکتے ہیں۔
ڈرامہ پڑھنے کی نہیں دیکھنی کی چیز ہے جس کو ہم پڑھانے کے ساتھ دکھا بھی رہے ہیں۔ ممتاز صحافی غازی صلاح الدین نے کہا کہ ادب ابلاغ کا ذریعہ ہے، رابطے جب تک نہ ہوں عوام ، اداروں ، ملکوں میں ترقی اور امن کے راستے نہیں کھلیں گے،آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ 2003میںدونوں ممالک کے درمیان جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے ان حالات میں ہم نے250ادیبوں، شعرا، فنکاروں کا ثقافتی شخصیات کے ساتھ سیمینار کرکے احساس دلایا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں۔