عقابوں کو تاحکم ثانی آزاد نہ کیا جائےعدالت عالیہ کا حکم امتناع

نایاب پرندوں کوپالنے اور تربیت دینے کا میرے پاس لائسنس موجود ہے،درخواست گزار.

کسٹم حکام دھمکی دے رہے ہیں کہ باز آزاد کردیں گے ،عدالت میں گفتگو. فوٹو: اسٹاک

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کسٹم حکام کی جانب سے ضبط کیے گئے نایاب پرندوں ( عقاب) کو آزاد کرنے کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے مدعاعلیہان وفاقی وزارت ماحولیات، کلکٹر کسٹم اور سندھ چیف کنزرویٹر سمیت دیگر کو 12دسمبرکیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

سعید خان نے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے پاس نایاب پرندوں کوپالنے اور تربیت دینے کا لائسنس ہے اور وہ متحدہ عرب امارات کی ایک اہم شخصیت کیلیے پرندے پکڑتا اور انھیں تربیت دیتا ہے جس کا اس کے پاس حکومت سندھ کا جاری کردہ لائسنس بھی ہے،پرندوں کو تربیت دے کر متحدہ عرب امارات بھیجنے کیلیے متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کا خصوصی اجازت نامہ بھی ہے۔




21 نومبر کو کسٹم حکام نے اسکے گھر پر چھاپہ مارکر 12نایاب (بازوں) اور ایک لینڈ کروزر گاڑی قبضہ میں لے لی،نایاب باز یو اے ای کے شیخ سعد بلال کے ہیں جبکہ یو اے ای کے قونصلیٹ نے بھی اس حوالے سے حکام کو لیٹر لکھا ہے، قبضے میں لیے گئے بازوں کو آج تک کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، کسٹم حکام کی جانب سے اسے مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ ان قیمتی اور نایاب پرندوں کو10دسمبر کو آزاد کردیا جائے گا۔

مدعا علیہان کو ہراساں کرنے سے روکا جائے،فاضل عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعلیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تاحکم ثانی پرندوں کو آزاد نہ کیا جائے، صحافیوں کو بتایا کہ 12باز قبضے میں لیے گئے تھے جن میں سے 2 ہلاک کردیے گئے ہیں اب کسٹم حکام دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ ان پرندوں کو آزاد کردیں گے۔
Load Next Story