لاکھوں تارکین وطن کی برطانیہ سے بیدخلی

برطانیہ میں تارکین وطن کی تعداد دیگر یورپی ممالک کی نسبت غالباً سب سے زیادہ ہے

فوٹو:انڈیپینڈنٹ

برطانیہ میں تارکین وطن کی تعداد دیگر یورپی ممالک کی نسبت غالباً سب سے زیادہ ہے۔ ان تارکین وطن کو ایک خاص مدت کے بعد قانونی درجہ دے دیا جاتا ہے تاہم اب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دو لاکھ کے لگ بھگ غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے ملک سے زبردستی نکال کر ان کے آبائی ممالک میں بھجوا دے گا۔

یہ اعلان برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے اٹلی کے شہر فلورنس میں اپنے اطالوی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے اطالوی حکومت کی طرف سے اٹلی میں موجود تارکین وطن کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے انھیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انھوں نے بحیرہ روم کے راستے لیبیا جانے والے تارکین وطن کی کشتیوں کو واپسی پر مجبور کرنے اور ان کی اٹلی آمد کی روک تھام کی بھی حمایت کی۔ برطانوی وزیر خارجہ نے تارکین وطن کے معاملے کو یورپ کی مشترکہ مشکل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ بحیرہ روم میں تارکین وطن کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں 2 برطانوی بحری جہاز بھی اٹلی کی مدد کر رہے ہیں۔


دریں اثناء لندن میں ہزاروں افراد نے مہاجرین کے حق میں مظاہرہ کیا اور برطانوی وزیر اعظم تھریسامے سے مطالبہ کیا کہ مہاجرین کے حوالے سے نرم دل کے ساتھ غور کیا جائے اور مہاجرین کے بحران کو اچھے انداز سے حل کیا جائے۔ مظاہرین ''مہاجرین خوش آمدید'' کے نعرے لگا رہے تھے۔ ادھر یونان کے جزیرہ ساکز میں 3500 یونانیوں نے مہاجرین کے خلاف مظاہرہ کیا اور مہاجرین کے کیمپ پر ہلہ بولنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔ مہاجرین کو جزیرے سے واپس بھیجنے کے خواہش مند یونانی نسل پرستوں نے مہاجرین کے خلاف نعرے لگائے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ترکی نے گزشتہ سال کی پہلی دھائی میں دس لاکھ سے زائد مہاجرین کو پناہ دی ہے اس اعتبار سے ترکی دنیا میں مہاجرین کو پناہ دینے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔

واضح رہے اقوام متحدہ مہاجرین کے بارے میں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق 2016ء کی پہلی ششماہی کے دوران نقل مکانی کرنے والے ایک کروڑ سے زائد افراد نے دنیا بھر میں ترک وطن کیا، جن میں شام، یمن اور ترکی سے ہجرت کرنے والے سر فہرست ہیں۔ یہاں یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ شام میں جاری خون آشام خانہ جنگی سے جان بچا کر ملک چھوڑنے والے لاکھوں افراد میں سے ہزاروں سمندر برد ہو چکے ہیں جن پر یورپ کے بیشتر ممالک نے اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں یہ دیکھ کر جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ چونکہ جرمنی کی آبادی کا بڑا حصہ زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہے جو آیندہ کچھ عرصہ تک کام کرنے کے قابل نہ رہیں گے لہذا جرمنی لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کی افرادی قوت کو اپنے ملک میں جدید تربیت دے کر مستقبل کے لیے ماہرین تیار کرے گا۔

تاہم اس کے ساتھ ہی خاتون جرمن چانسلر نے طنزاً یہ بھی کہا کہ اگرچہ دیگر عرب ممالک شام کے بہت نزدیک ہیں مگر پھر بھی وہ ہزاروں میل کا جوکھم بھرا سفر کر کے یورپ پہنچ رہے ہیں جو قابل افسوس ہے۔
Load Next Story