ملا عمر اور شمالی اتحاد میں گٹھ جوڑ ہونے کا امکان
رواں ماہ فرانس میں ملا عمر کے اہم ساتھیوں اور شمالی اتحاد کے درمیان اجلاس ہوگا
رواں ماہ فرانس میں ملا عمر کے اہم ساتھیوں اور شمالی اتحاد کے درمیان اجلاس ہوگا, فوٹو: اے ایف پی/فائل
KARACHI:
افغان طالبان اور شمالی اتحاد میں گٹھ جوڑ ہونے جا رہا ہے۔
رواں ماہ فرانس میں ملا عمر کے اہم ساتھیوں اور شمالی اتحاد کے درمیان اجلاس ہوگا، طالبان وفد کی سربراہی شہاب الدین دلاور کریں گے، امریکا نے افغان حکومت کو افغانیوں سے بات چیت کی اجازت دی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکا بھی طالبان کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہے، آئندہ چند ہفتوں میں گوانتا نامو بے سے طالبان قیدیوں کو رہا کردیا جائے گا۔
طالبان قطر میں عنقریب اپنا سیاسی دفتر قائم کرنے والے ہیں، پاکستان کے موقف میں نرمی آئی ہے ، قطر میں دفتر کے قیام کے لیے پاکستان طالبان رہنمائوں کو پاسپورٹ جاری کررہا ہے۔ امریکی اخبار کی تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کا امکان ہے اور 2014 میں نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان کے مستقبل کے متعلق ان دونوں کے درمیان ا بتدائی رابطے ہوئے ہیں۔
ملا عمر کے نمائندوں اور شمالی اتحاد کے اہم رہنمائوں کے درمیان پہلا باضابطہ اجلاس رواں ماہ فرانس میں ہو گا جس کا اہتمام ایک فرانسیسی تھنک ٹینک نے کیا ہے۔ ایک دہائی قبل قیادت کی سطح پر مذاکرات کی پیشکش کے مسترد ہونے کے بعد طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان پہلی بار رابطہ کیا گیا۔
اگرچہ طالبان ،شمالی اتحاد اور امریکا سے بات چیت کے لیے تیار ہوگئے ہیں لیکن حامد کرزئی سے کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں ، تاہم کرزئی کے 2سینئر مشیروں نے پیرس اجلاس میں شرکت کی توقع کا اظہار کیا ہے۔ افغان حکومت نے بھی فرانس اجلاس کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کردیا ہے۔ افغان پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر یونس قانونی بھی پیرس اجلاس میں شرکت کریں گے ۔
افغان طالبان اور شمالی اتحاد میں گٹھ جوڑ ہونے جا رہا ہے۔
رواں ماہ فرانس میں ملا عمر کے اہم ساتھیوں اور شمالی اتحاد کے درمیان اجلاس ہوگا، طالبان وفد کی سربراہی شہاب الدین دلاور کریں گے، امریکا نے افغان حکومت کو افغانیوں سے بات چیت کی اجازت دی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکا بھی طالبان کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہے، آئندہ چند ہفتوں میں گوانتا نامو بے سے طالبان قیدیوں کو رہا کردیا جائے گا۔
طالبان قطر میں عنقریب اپنا سیاسی دفتر قائم کرنے والے ہیں، پاکستان کے موقف میں نرمی آئی ہے ، قطر میں دفتر کے قیام کے لیے پاکستان طالبان رہنمائوں کو پاسپورٹ جاری کررہا ہے۔ امریکی اخبار کی تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کا امکان ہے اور 2014 میں نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان کے مستقبل کے متعلق ان دونوں کے درمیان ا بتدائی رابطے ہوئے ہیں۔
ملا عمر کے نمائندوں اور شمالی اتحاد کے اہم رہنمائوں کے درمیان پہلا باضابطہ اجلاس رواں ماہ فرانس میں ہو گا جس کا اہتمام ایک فرانسیسی تھنک ٹینک نے کیا ہے۔ ایک دہائی قبل قیادت کی سطح پر مذاکرات کی پیشکش کے مسترد ہونے کے بعد طالبان اور شمالی اتحاد کے درمیان پہلی بار رابطہ کیا گیا۔
اگرچہ طالبان ،شمالی اتحاد اور امریکا سے بات چیت کے لیے تیار ہوگئے ہیں لیکن حامد کرزئی سے کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں ، تاہم کرزئی کے 2سینئر مشیروں نے پیرس اجلاس میں شرکت کی توقع کا اظہار کیا ہے۔ افغان حکومت نے بھی فرانس اجلاس کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کردیا ہے۔ افغان پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر یونس قانونی بھی پیرس اجلاس میں شرکت کریں گے ۔