مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی اڈے پر حملہ

بھارتی حکام اور بھارتی میڈیا نے ایک بار پھر بغیر تحقیقات کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا ہے

مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کے قصبے اڑی میں بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز پر حملے میں 17فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ گزشتہ 14سال میں بھارتی فوج پر اپنی نوعیت کا یہ سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق یہ فدائی حملہ تھا۔ انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

بھارتی حکام اور بھارتی میڈیا نے ایک بار پھر بغیر تحقیقات کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے ذمے دار سزا سے نہیں بچ سکیں گے' واقعے کے پیچھے جن کا بھی ہاتھ ہے انھیں ہر قیمت پر سزا دی جائے گی۔ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا جس میں حملے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی ڈی جی ایم او نے اپنے بھارتی ہم منصب پر واضح کر دیا کہ حملے کا بھارتی الزام بے بنیاد اور قبل از وقت ہے۔

اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے کسی کو استعمال نہیں کرنے دیں گے' بھارت کے پاس ثبوت ہیں تو فراہم کردے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اڑی حملے کا الزام بلا تحقیق لگایا گیا' بھارت کا یہ وتیرہ بن چکا ہے کہ وہ اپنے ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے ہر واقعے کی تحقیقات کیے بغیر اس کی ذمے داری پاکستان پر ڈال دیتا ہے' یہاں تک کہ بہت سے دہشت گردی کے واقعات میں خود بھارت ملوث نکلا تاہم ان کا الزام پاکستان پر لگایا گیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں ہونے والا حملہ قابل مذمت ہے۔ بھارت کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ آئے دن اس کے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے ہوتے رہتے ہیں' اتوار کو بھی پشاور کے نواحی علاقے خزانہ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے تین سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔ دہشت گردی کے واقعات سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں اس وقت نان اسٹیٹ ایکٹر سرگرم ہیں جو دونوں ملکوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اڑی سیکٹر میں ہونے والا یہ حملہ بھی نان اسٹیٹ ایکٹرز کی کارروائی ہو سکتا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو کشیدہ کرکے جنگ کا ماحول بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے کسی بھی واقعے پر تحقیقات کے بغیر بھارت کو پاکستان پر الزام تراشیوں کا سلسلہ نہیں شروع کرنا چاہیے۔


خصوصاً بھارتی میڈیا کو زیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بعض تجزیہ نگار اڑی سیکٹر میں ہونے والے حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ علاقہ لائن آف کنٹرول سے صرف بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں پر بھارتی سیکیورٹی کا نظام انتہائی سخت ہے ایسے میں حملہ آوروں کا ہیڈکوارٹرز کے گرد لگی تاروں کو کاٹ کر اندر داخل ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔

بھارتی فوج کی 15ویں کور کے ترجمان کا یہ الزام کہ جدید ہتھیاروں سے لیس چاروں حملہ آور چند روز پہلے ہی کنٹرول لائن عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے تھے' سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بھارتی فورسز کا سیکیورٹی لیپس ہے یا پھر ان کی جانب سے ڈرامہ رچایا گیا ہے' سیکیورٹی کے اتنے سخت پہرے میں کنٹرول لائن پر لگی ہوئی خار دار تاروں میں سے گزر کر بھارتی فوج کے علاقے میں جانا ممکن ہی نہیں۔ بھارتی میڈیا اور وہاں کے کچھ ذمے دار حکام پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیکس کی بات کر رہے ہیں' بعض حلقے بھارتی حکومت کو پاکستان پر حملے کے لیے اکسا رہے ہیں۔ پاکستان پر حملے کی باتوں سے نان اسٹیٹ ایکٹرز کی کامیابی عیاں ہوتی ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کرانے کے لیے سرگرم ہیں۔ بھارتی حکومت کو پاکستان پر الزامات لگانے سے قبل معاملے کی تحقیقات کر لینا چاہیے۔

بہرحال پاکستان کو اپنے اینڈ سے اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے' اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ اڑی حملے سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو گا اور پاک بھارت تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہوں گے' خارجہ پالیسی کی سطح پر بھی پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں کیونکہ امریکا کے محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اڑی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا بھارت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔

پاکستانی پالیسی سازوں کو اس صورتحال کو سامنے رکھنا چاہیے اور بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں' بھارتی پالیسی سازوں کو بھی خطے کی صورتحال خصوصاً مقبوضہ کشمیر کے حالات کو سامنے رکھ کر جامع مذاکرات بحال کرنے کی جانب قدم اٹھانا چاہیے۔ جامع مذاکرات کی بحالی کی راہ میں بھارت ہی رکاوٹ ہے لیکن یہ درست پالیسی نہیں ہے'لہذا اسے اس معاملے میں پہل کرنی چاہیے۔ دونوں ملکوں کو جامع مذاکرات فوری بحال کرنا چاہئیں اور متنازعہ معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی جانب قدم بڑھانا چاہیے کیونکہ مذاکرات ہوتے رہیں گے تو نان اسٹیٹ ایکٹرز اپنا کھیل نہیں کھیل سکیں گے۔
Load Next Story