پر امن احتجاج جمہوری حق ہے مگر

قوم دھرنوں ،گھیراؤ جلاؤ اور ماس ایجی ٹیشن کے ہولناک نتائج پہلے ہی بھگت چکی ہے

۔ فوٹو:فائل

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ30ستمبر کوہرحال میں رائیونڈ مارچ کیا جائے گا، ملک کا آئین ہمیںاحتجاج کا حق دیتا ہے، روکنے کا کوئی جوازنہیں، رائیونڈ کسی کی جاگیر نہیں۔ عمران خان کے اس استدلال کی آئینی بنیاد مسلمہ اور اصولی کہی جاسکتی ہے کیونکہ دنیا کے تمام جمہوری ملکوں میں احتجاج اور جلسے جلوس کا حق کسی سیاسی جماعت سے چھینا نہیں جاسکتا مگرایجی ٹیشن اور اشتعال انگیز نعروں سے ماحول کو تیزی سے مسلسل گرمایا جائے تو کوئی ذی شعور سیاسی کارکن ، مدبران سیاست اور مین اسٹریم پولیٹیکل پارٹیز اس کے ہولناک نتائج سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتیں، اس لیے پی ٹی آئی اور ن لیگ کی قیادت کو احتجاجی سیاست میں تلخی،دشنام طرازی، بہتان بازی اور طعن وتشنیع سے گریز کرتے ہوئے خطے کی مجموعی اور ملک کی تشویشناک داخلی صورتحال کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

کرپشن ، بد امنی، انتظامی عدم شفافیت اور طرز حکمرانی سے اختلاف پر آواز اٹھانے کی ہر سیاسی جماعت کو آزادی ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں، مگر نوبت تصادم تک نہ پہنچے،اس میں سیاسی ناکامی کا پہلو ابھر کر ساری دنیا میں وطن عزیز کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارا دھرنا فیصلہ کن ہو گا ۔


یہ سیاسی بیان ہے ، چنانچہ تحریک انصاف نے حکومت مخالف مہم اوررائے ونڈ مارچ کے سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دوبارہ رابطے شروع کردیے ہیں، یہ بھی سیاسی و جمہوری عمل ہے جس کے ذریعے موجودہ نظام کی خرابیوں پر حکمرانوں کا احتساب کیا جنا چاہیے ۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ قانونی ماہرین نے احتجاج کے حق کو ڈنڈا بردار تنظیم کے ذریعے رکوانے کی کسی بھی کوشش کو غیردانش مندانہ اور جمہوری نظام کے لیے خطرناک قراردیا ہے ، ان کی رائے کے مطابق پانامالیکس فوجداری معاملہ ہے، اسے سیاسی ایشو بناکر عوام کے جذبات سے نہیں کھیلا جانا چاہیے۔

ان اکابرین نے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں، اگر سیاسی جماعتوں نے تدبر اور دور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا تو ماڈل ٹاؤن سے بڑا حادثہ رونما ہونے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا چنانچہ پی ٹی آئی اور حکمراں ن لیگ کے مرکزی رہنماؤں کے لیے پاناما لیکس ٹیسٹ کیس ہے اسے وہ قومی مشن یا اہم ذمے داری سمجھ کر منطقی انجام تک پہنچائیں، ایک جلسہ یا مارچ ملکی تعمیر اور سیاسی و معاشی نظام میں شفافیت لانے کا سبب بن جائے تو کسی کو بھی اس سے انکار نہیں ہوگا، مگر اس مقصد کے حصول کے لیے دوطرفہ سیاسی ضابطہ اخلاق کا پامال ہونا المیہ ہوگا۔ پی ٹی آئی کو داخلی تنظیمی مسائل اور اپوزیشن کے مارچ کی حمایت سے گریز کے مختلف پہلوؤں پر گہری سوچ بچار کرنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔

حکمراں بھی اپنی بے نیازی پر غور کریں ، قوم دھرنوں ،گھیراؤ جلاؤ اور ماس ایجی ٹیشن کے ہولناک نتائج پہلے ہی بھگت چکی ہے ، اس لیے جمود شکن تحریک کسی بھی احتجاجی مظاہرہ اور مارچ کی شکل میں ہو اسے بہرحال پر امن ، قانون و آئین اورعالمگیر مسلمہ اصولوں کے مطابق انجام پزیر ہونا چاہیے ۔ یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ملکی مفاد میں قومی ضمیر کی صدا بر حق ہے۔
Load Next Story