ویٹو پاورزمقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا نوٹس لیں

سلامتی کونسل کے ارکان کو اس حوالے سے اپنا حقیقی رول ادا کرنا چاہیے

سلامتی کونسل کے ارکان کو اس حوالے سے اپنا حقیقی رول ادا کرنا چاہیے۔ فوٹو : اے ایف پی

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے سربراہان کو خطوط تحریر کیے ہیں جن میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت پر مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت فوری طور پر بند کرنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے نفاذ کے لیے دباؤ ڈالیں۔ دفتر خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان چین، فرانس، روسی فیڈریشن، برطانیہ اور امریکا کے سربراہان مملکت و حکومت کو خطوط تحریر کیے ہیں۔

ان خطوط میں مقبوضہ کشمیر کی گھمبیر صورتحال کے علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر انتہائی منفی اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے اور وہاں بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی خلاف ورزیوں کو نمایاں کرتے ہوئے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمے داری پوری کریں۔ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے دیرینہ بین الاقوامی طور پر مسلمہ تصفیہ طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔ متعدد قراردادوں کی منظوری کے بعد 68 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود کشمیر کے عوام ان قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں جن میں ان سے اقوام متحدہ کے تحت آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے انعقاد کے ذریعے حق خودارادیت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کا حل نہ ہونا خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کا مسلسل باعث ہے اور یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں اڑی میں بھارتی فوجی بیس پر حملے کے بعد بھارتی میڈیا کے شور شورابے اور بھارتی لیڈروں کی جارحانہ بیان بازی نے پاک بھارت تعلقات میں خاصا کھچاؤ پیدا کر دیا ہے اور صورت حال خاصی سنگین نظر آ رہی ہے ۔اڑی حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر عالمی قوتوں کی توجہ مرکوز کرانا انتہائی ضروری ہو گیا ہے' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے سربراہان کو خطوط لکھ کر درست سمت میں قدم اٹھایا ہے کیونکہ حالات کا تقاضا یہی ہے۔

اقوام متحدہ کی ویٹو پاور کی حامل سپر طاقتوں کو اس معاملے میں اپنا رول ادا کرنا چاہیے تاکہ جنوبی ایشیاء میں تناؤ کم ہو سکے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے لیے مظاہرے کرنے والے کشمیریوں پر مسلسل پیلٹ گن استعمال کر رہا ہے جس سے بے شمار لوگ بینائی سے محروم ہو رہے ہیں لیکن بھارت کی حرکت کو عالمی برادری مسلسل نظر انداز کرتی چلی آ رہی ہے' پاکستان کو اقوام متحدہ میں بھارت کی اس دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ اس دہشت گردی پر آنکھیں بند نہ رکھے۔


برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں کی مقامی جدوجہد آزادی نے نئی کروٹ لی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں' مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت سے مکمل طور پر علیحدگی کے خواہاںہیں اور نئی دہلی کے کسی فارمولے پر آنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ مقبوضہ کشمیر میں نئی پیش رفت ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جنرل اسمبلی میں متوقع تقریر کو بڑی سنجیدگی سے دیکھا جائے گا کیونکہ وہ بھارت سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی جنرل اسمبلی میں تقریر ایسے موقعے پر ہو گی جب دونوں ملکوں کے درمیان شدید کشیدگی کی فضا ہے' اس لیے وزیراعظم میاں نواز شریف کی تقریر پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے بھی اہم ہو گی۔

بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے متنازعہ امور کو طے کرنا انتہائی ضروری ہے' ان متنازعہ امور میں کشمیر سرفہرست ہے' جب تک کشمیر کا تنازعہ طے نہیں ہوتا' اس وقت تک پاک بھارت تعلقات میں دوستی یا قربت کا عنصر داخل نہیں ہو سکتا۔ بلاشبہ کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے دیرینہ تنازعہ ہے جسے ابھی حل ہونا ہے۔

سلامتی کونسل کے ارکان کو اس حوالے سے اپنا حقیقی رول ادا کرنا چاہیے۔ تنازعہ کشمیر کو طے کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس تنازعے کے فریق دونوں ملک ایٹمی قوت ہیں اور ماضی میں ان دونوں ملکوں کے درمیان جنگیں بھی ہو چکی ہیں لہٰذا عالمی قوتوں کو اس پر تشویش ہونی چاہیے۔ اس تنازعے کا بہتر حل یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کرایا جائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اس حوالے سے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔

 
Load Next Story