درست انتخاب کیسے
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو کسی خاص شعبے کے انتخاب کے لئے مجبور ہرگز نہ کریں۔
پیشے کے معاملے میں بھیڑ چال کا شکار ہوئے بغیر، اپنی دلچسپی اور استعداد کو مدنظر رکھنا چاہیے. فوٹو : فائل
SUZUKA:
والدین سے اگر پوچھا جائے کہ وہ اپنی اولاد کو کیا بنانا چاہتے ہیں، زیادہ تر والدین بے ساختہ کہیں گے ڈاکٹر یا انجینئر اور آج کل اس میں بی بی اے اور ایم بی اے کا ایک اضافہ ہوگیا ہے۔
ہمارے ہاں جب کسی ایک پیشے کی طرف لوگوں کا زیادہ رجحان ہونے لگتا ہے، تو سب اس میں ہی اپنا ''شاندار مستقبل'' دیکھنے لگتے ہیں اور بہت پرُامید ہو کر اس میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا سوچنا کوئی بُری بات بھی نہیں، ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اور اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لئے اچھے سے اچھے شعبے کا انتخاب کرے، مگر غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کہیں آپ دوسروں کی دیکھا دیکھی بلا سوچے سمجھے اس پیشے کا انتخاب تو نہیں کر رہے۔ ایسی صورت میں یہ جہاں آپ کے بچوں کے مستقبل کے لئے انفرادی طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، وہاں اس سے معاشرے کو مجموعی طور پر بہت سے کثیر الجہتی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
جس طرح ایک نارمل انسانی جسم کے لئے متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے، اس طرح ایک نارمل معاشرہ بھی تبھی تشکیل پاتا ہے، جب اس میں ضرورت کے مطابق ایک توازن کے ساتھ مختلف پروفیشنلز، سکالر، بزنس مین، ہنر مند، مزدور، آرٹسٹ وغیرہ موجود ہوں۔ جب کسی ایک پروفیشن میں ضرورت سے زیادہ لوگ آ جاتے ہیں، تو ہم پیشہ لوگوں میں مسابقت بڑھ جاتی ہے اور معاشی اعتبا ر سے بھی اس کی پہلے جیسی اہمیت برقرار نہیں رہتی۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسرے شعبوں میں، جنہیں عام طور پر لا علمی کی وجہ سے لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں، اوسط درجے کے لوگ اوپر آ جاتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے کو ترقی کے لئے صرف اچھے ڈاکٹروں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اچھے برنس مین اور اچھے مکینک بھی درکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح صرف اچھے انجینئرز سے کام نہیں کام نہیں چلایا جا سکتا، تربیت یافتہ لیبر اور اچھے سول سرونٹ بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔
کسی بھی پروفیشن کا انتخاب کرتے ہوئے مختلف باتوں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ سب سے پہلے تو والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو کسی خاص شعبے کے انتخاب کے لئے مجبور ہرگز نہ کریں۔ بچے کی ذاتی پسند اور طبعی موزونیت کا ضرور خیال رکھیں۔ ہو سکتا ہے آپ کسی پر اپنی مرضی ٹھونس کر اسے اوسط درجے کا ڈاکٹر بنانے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن اس طرح معاشرے کو ایک اچھے وکیل سے محروم کر دیں۔ نالائق انجینئر بنا کر، لائق بزنس مین نہ بننے دیں۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ کرئیر کا انتخاب کرتے وقت اس سے وابستہ روزگار کے مواقع اور معاشی پہلو پر بھی غور کیا جاتا ہے، اور اس پر غور کرنا بھی چاہیے۔
اگر دیکھا جائے تو نوکری ایک ایسی سرگرمی کا نام ہے، جس میںحصہ لینے کا مقصد پیسے کا حصول ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کوئی بھی عام آدمی اپنی پوری زندگی میں تقریباً چودہ مرتبہ اپنی نوکری تبدیل کرتا ہے۔ اورآج کے دور میں تو نوجوان دو سے تین نوکریاں ایک ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔ جنھیں پارٹ ٹائم جاب کا نام دیا جاتا ہے۔ ایسے نوجوانوں میں طالب علم بھی شامل ہوتے ہیں جن کی کوشش رہتی ہے کہ وہ والدین پر بوجھ بننے کے بجائے اپنا پڑھائی کا خرچ خود برداشت کرسکیں۔
یہ ملازمتیں ان کا کرئیر یا پیشہ نہیں ہوتیں، کیوں کہ وہ انھیں طویل مدت کے لیے نہیں اپناتے۔ اس ذیل میں اگر دیکھا جائے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ کسی بھی ملازمت سے منسلک ہونے سے قبل اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ وہ آپ کی آنے والی زندگی میں آپ کے پیشے کے ساتھ کتنا تعلق رکھتی ہے اور آگے چل کر آپ کے کرئیر کے لئے کتنا سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ جتنا سوچ بچار اور احتیاط سے کیا جائے بہتر ہے۔
کرئیر کا انتخاب کرتے ہوئے صرف معاشی پہلو کو مد نظر نہیں رکھنا چاہیے۔ آج کل جب نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں، تو انہیں عام طور پر دو مسائل درپیش آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس بھی پروفیشن کا وہ انتخاب کررہے ہیں، آج سے 10یا 15سال بعد اس کا کیا سکوپ ہوگا، اس بات کو وہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ ہمارے نوجوان اتنی عجلت کا شکار ہیں کہ گھڑی کی چوتھائی میں ہر کام کرنا چاہتے ہیں۔ راتوں رات امیر بننے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
یعنی دنیا کی ہر چیز چاہیے، وہ بھی ایک قلیل وقت میں۔ ایک طرح سے یہ سوچ آدمی کے اندر تحریک (Motivation) بھی پیدا کرتی ہے، کیوں کہ اگر کوئی ایسی سوچ رکھے گا تو محنت بھی کرے گا اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ لیکن راتوں رات کامیابی کا حصول، خلاف فطرت بات ہے۔ پائیدار ترقی کی راہ میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ اس کے لئے پیہم جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ قسمت کا بھی کچھ عمل دخل ہوتا ہے، مگر صرف قسمت پر بھروسہ کرنے والا انسان زندگی میں کامیابی حاصل کرنے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا مطلق علم اور سوچ صرف چند ایک روایتی پروفیشنز تک محدود ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں جہاں ہمیں خود اپ ٹو ڈیٹ رہنے کی ضرورت ہے، وہاں مختلف شعبوں کے ماہرین اور کامیاب افراد سے رہنمائی بھی لی جا سکتی ہے۔ اگر بہت سے لوگ ایک ہی پروفیشن کا انتخاب کریں گئے، تو انھیں ملازمت ملنا کتنا مشکل ہوگا۔
دنیا میں لوگ اُس پیشے کا انتخاب کرتے ہیں، جس میں انھیں جنون کی حد تک دل چسپی ہوتی ہے۔ ذرا غور کریں کہ کسی پیشے میں 4سے5سال گزارنے کے بعد اگرآپ کو یہ احساس ہو کہ آپ تو اس پیشے کے لیے بنے ہی نہیں ہیں، تو گویا آپ کا پچھلا سارا وقت ضائع چلا گیا۔ اس لیے آپ پہلے ہی سے یہ دیکھیں کہ کس شعبے میں اپنی دل چسپی اور شوق سے آپ اپنا مستقبل روشن بناسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی CV میں تعلیمی ریکارڈ اور Achievements کے ساتھ ساتھ اپنے مشاغل اور پسند کے متعلق بھی معلومات شامل کرتے ہیں۔
اگر آپ کا شمار معاشرے کے ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھیں اپنے مستقبل اور کرئیر کے حوالے سے کوئی الجھن نہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں تو آپ بہت خوش قسمت ہیں، لیکن اگر آپ اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح سوچ نہیں رکھتے اور اس حوالے سے یکسو نہیں ہیں، تو بھی افسوس کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمارے ہاں 15سال کی عمر سے40 سال تک کی عمر کے حضرات ایسے ہیں جن کے پاس اس سوال کاجواب خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہوگا کہ آخر وہ اپنی زندگی میں کرنا کیا چاہتے ہیں؟ Job Satisfaction زندگی میں بہت اہم ہے ۔ لیکن اگر آپ اپنا پیشہ اس ملازمت سے منسلک کر بیٹھے ہیں جہاں آپ کو زیادہ پیسہ نظر آتاتھا، تو آپ کا Passionآپ کے پروفیشن میں نظر نہیں آئے گا، آپ کا کام اوسط درجے کا ہو گا اور آپ اس شعبے میں کسی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ بھی نہیں کر سکیں گئے۔
اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آپ کسی مینڈک کی چیرپھاڑ نہیں کرسکتے تو صاف ظاہر ہے کہ آپ ڈاکٹر نہیں بن سکتے، لیکن ہوسکتا ہے کہ آپ اچھے گرافک ڈیزائینر بن سکتے ہوں۔ اگر آپ واقعی اپنی پسند کے شعبے کو اپنا پروفیشن بناناچاہتے ہیں تو اس طرح کے تجربے کیجئے، ہر پروفیشن کے بارے میں سوچیں اور اس میں خودکو فٹ کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گاکہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں، آپ کی دلچسپی کس شعبے میں ہے اور آپ کس طرف مائل ہیں۔ یہ ٹھیک اس طرح ہے کہ آپ کو کہیں جانا ہے اور یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا ہے کہ آپ کو کون سالباس پہننا ہے، ایسے میں آپ باری باری تمام کپڑے پہن کر دیکھتے ہیں۔
اگر آپ واقعی اپنے کریئر کے بارے میں سنجیدہ ہیں توآپ کو مرحلہ وار چلنا چاہیے۔ سب سے پہلے اپنے بارے میں یہ تجزیہ کریں کہ آپ کو اپنے منتخب کردہ پروفیشن کے حوالے سے کتنی Improvement کی ضرورت ہے، آپ کہاں کمزور ہیں اور بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔ اس پیشے کے حوالے سے جتنی ہوسکے، معلومات اکٹھی کریں۔ اس کے لیے اس فیلڈ سے منسلک لوگوں کی رائے لی جاسکتی ہے۔ انٹرنیٹ سے مدد لی جاسکتی ہے، آپ اس مقصد کے لئے مختلف کنسلٹنٹس سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ انتخاب کردہ پروفیشن کے لیے ڈگری زیادہ بہتر ہے یا ڈپلومہ کرنا ٹھیک رہے گا۔ اچھی ملازمت کے لئے اس کی ضروریات (Requirements)کیا ہیں؟ آج کل بہت سے سرٹیفکیٹ کورسز بھی مختلف کریئرز میں مدد دیتے ہیں۔ ان تمام معلومات کو اکٹھا کرنے کے بعد اپنی پڑھائی کا آغاز، اپنی پسند کے کسی اچھے تعلیمی ادارے سے کریں۔
اچھی شہرت کے حامل تعلیمی ادارے سے ڈگری حاصل کرنے سے بھی آپ کو ملازمت کے حصول میں مدد ملتی ہے۔ پڑھائی کے دوران عملی تجربہ حاصل کرنے کے لئے کی گئی انٹرن شپ بھی، پڑھائی کی تکمیل کے بعد ملازمت کے وقت کام آتی ہیں۔ اس سے آپ کو کام کی نوعیت سمجھنے میں بھی مدد مل سکے گئی، فیلڈ میں موجود لوگوں سے تعلق استوار ہو گا اور اپنی ملازمت کے آغاز سے ہی آپ کو اپنے کام کے متعلق تمام ضروری باتوں کا علم ہو گا، جس کی وجہ سے آپ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی ملازمت کا آغاز کر سکیں گئے۔ ان سب مراحل کوطے کرنے کے بعد آپ ایک شاندار مستقبل بنا سکتے ہیں، جہاں پیسے کے ساتھ ساتھ Job Satisfaction بھی ہوگی، پھر آپ پوری ایمان داری اورلگن کے ساتھ کام کریں اور ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔
والدین سے اگر پوچھا جائے کہ وہ اپنی اولاد کو کیا بنانا چاہتے ہیں، زیادہ تر والدین بے ساختہ کہیں گے ڈاکٹر یا انجینئر اور آج کل اس میں بی بی اے اور ایم بی اے کا ایک اضافہ ہوگیا ہے۔
ہمارے ہاں جب کسی ایک پیشے کی طرف لوگوں کا زیادہ رجحان ہونے لگتا ہے، تو سب اس میں ہی اپنا ''شاندار مستقبل'' دیکھنے لگتے ہیں اور بہت پرُامید ہو کر اس میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا سوچنا کوئی بُری بات بھی نہیں، ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اور اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لئے اچھے سے اچھے شعبے کا انتخاب کرے، مگر غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کہیں آپ دوسروں کی دیکھا دیکھی بلا سوچے سمجھے اس پیشے کا انتخاب تو نہیں کر رہے۔ ایسی صورت میں یہ جہاں آپ کے بچوں کے مستقبل کے لئے انفرادی طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، وہاں اس سے معاشرے کو مجموعی طور پر بہت سے کثیر الجہتی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
جس طرح ایک نارمل انسانی جسم کے لئے متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے، اس طرح ایک نارمل معاشرہ بھی تبھی تشکیل پاتا ہے، جب اس میں ضرورت کے مطابق ایک توازن کے ساتھ مختلف پروفیشنلز، سکالر، بزنس مین، ہنر مند، مزدور، آرٹسٹ وغیرہ موجود ہوں۔ جب کسی ایک پروفیشن میں ضرورت سے زیادہ لوگ آ جاتے ہیں، تو ہم پیشہ لوگوں میں مسابقت بڑھ جاتی ہے اور معاشی اعتبا ر سے بھی اس کی پہلے جیسی اہمیت برقرار نہیں رہتی۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسرے شعبوں میں، جنہیں عام طور پر لا علمی کی وجہ سے لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں، اوسط درجے کے لوگ اوپر آ جاتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے کو ترقی کے لئے صرف اچھے ڈاکٹروں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اچھے برنس مین اور اچھے مکینک بھی درکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح صرف اچھے انجینئرز سے کام نہیں کام نہیں چلایا جا سکتا، تربیت یافتہ لیبر اور اچھے سول سرونٹ بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔
کسی بھی پروفیشن کا انتخاب کرتے ہوئے مختلف باتوں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ سب سے پہلے تو والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو کسی خاص شعبے کے انتخاب کے لئے مجبور ہرگز نہ کریں۔ بچے کی ذاتی پسند اور طبعی موزونیت کا ضرور خیال رکھیں۔ ہو سکتا ہے آپ کسی پر اپنی مرضی ٹھونس کر اسے اوسط درجے کا ڈاکٹر بنانے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن اس طرح معاشرے کو ایک اچھے وکیل سے محروم کر دیں۔ نالائق انجینئر بنا کر، لائق بزنس مین نہ بننے دیں۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ کرئیر کا انتخاب کرتے وقت اس سے وابستہ روزگار کے مواقع اور معاشی پہلو پر بھی غور کیا جاتا ہے، اور اس پر غور کرنا بھی چاہیے۔
اگر دیکھا جائے تو نوکری ایک ایسی سرگرمی کا نام ہے، جس میںحصہ لینے کا مقصد پیسے کا حصول ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کوئی بھی عام آدمی اپنی پوری زندگی میں تقریباً چودہ مرتبہ اپنی نوکری تبدیل کرتا ہے۔ اورآج کے دور میں تو نوجوان دو سے تین نوکریاں ایک ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔ جنھیں پارٹ ٹائم جاب کا نام دیا جاتا ہے۔ ایسے نوجوانوں میں طالب علم بھی شامل ہوتے ہیں جن کی کوشش رہتی ہے کہ وہ والدین پر بوجھ بننے کے بجائے اپنا پڑھائی کا خرچ خود برداشت کرسکیں۔
یہ ملازمتیں ان کا کرئیر یا پیشہ نہیں ہوتیں، کیوں کہ وہ انھیں طویل مدت کے لیے نہیں اپناتے۔ اس ذیل میں اگر دیکھا جائے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ کسی بھی ملازمت سے منسلک ہونے سے قبل اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ وہ آپ کی آنے والی زندگی میں آپ کے پیشے کے ساتھ کتنا تعلق رکھتی ہے اور آگے چل کر آپ کے کرئیر کے لئے کتنا سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ جتنا سوچ بچار اور احتیاط سے کیا جائے بہتر ہے۔
کرئیر کا انتخاب کرتے ہوئے صرف معاشی پہلو کو مد نظر نہیں رکھنا چاہیے۔ آج کل جب نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں، تو انہیں عام طور پر دو مسائل درپیش آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس بھی پروفیشن کا وہ انتخاب کررہے ہیں، آج سے 10یا 15سال بعد اس کا کیا سکوپ ہوگا، اس بات کو وہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ ہمارے نوجوان اتنی عجلت کا شکار ہیں کہ گھڑی کی چوتھائی میں ہر کام کرنا چاہتے ہیں۔ راتوں رات امیر بننے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
یعنی دنیا کی ہر چیز چاہیے، وہ بھی ایک قلیل وقت میں۔ ایک طرح سے یہ سوچ آدمی کے اندر تحریک (Motivation) بھی پیدا کرتی ہے، کیوں کہ اگر کوئی ایسی سوچ رکھے گا تو محنت بھی کرے گا اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ لیکن راتوں رات کامیابی کا حصول، خلاف فطرت بات ہے۔ پائیدار ترقی کی راہ میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ اس کے لئے پیہم جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ قسمت کا بھی کچھ عمل دخل ہوتا ہے، مگر صرف قسمت پر بھروسہ کرنے والا انسان زندگی میں کامیابی حاصل کرنے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا مطلق علم اور سوچ صرف چند ایک روایتی پروفیشنز تک محدود ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں جہاں ہمیں خود اپ ٹو ڈیٹ رہنے کی ضرورت ہے، وہاں مختلف شعبوں کے ماہرین اور کامیاب افراد سے رہنمائی بھی لی جا سکتی ہے۔ اگر بہت سے لوگ ایک ہی پروفیشن کا انتخاب کریں گئے، تو انھیں ملازمت ملنا کتنا مشکل ہوگا۔
دنیا میں لوگ اُس پیشے کا انتخاب کرتے ہیں، جس میں انھیں جنون کی حد تک دل چسپی ہوتی ہے۔ ذرا غور کریں کہ کسی پیشے میں 4سے5سال گزارنے کے بعد اگرآپ کو یہ احساس ہو کہ آپ تو اس پیشے کے لیے بنے ہی نہیں ہیں، تو گویا آپ کا پچھلا سارا وقت ضائع چلا گیا۔ اس لیے آپ پہلے ہی سے یہ دیکھیں کہ کس شعبے میں اپنی دل چسپی اور شوق سے آپ اپنا مستقبل روشن بناسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی CV میں تعلیمی ریکارڈ اور Achievements کے ساتھ ساتھ اپنے مشاغل اور پسند کے متعلق بھی معلومات شامل کرتے ہیں۔
اگر آپ کا شمار معاشرے کے ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھیں اپنے مستقبل اور کرئیر کے حوالے سے کوئی الجھن نہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں تو آپ بہت خوش قسمت ہیں، لیکن اگر آپ اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح سوچ نہیں رکھتے اور اس حوالے سے یکسو نہیں ہیں، تو بھی افسوس کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمارے ہاں 15سال کی عمر سے40 سال تک کی عمر کے حضرات ایسے ہیں جن کے پاس اس سوال کاجواب خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہوگا کہ آخر وہ اپنی زندگی میں کرنا کیا چاہتے ہیں؟ Job Satisfaction زندگی میں بہت اہم ہے ۔ لیکن اگر آپ اپنا پیشہ اس ملازمت سے منسلک کر بیٹھے ہیں جہاں آپ کو زیادہ پیسہ نظر آتاتھا، تو آپ کا Passionآپ کے پروفیشن میں نظر نہیں آئے گا، آپ کا کام اوسط درجے کا ہو گا اور آپ اس شعبے میں کسی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ بھی نہیں کر سکیں گئے۔
اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آپ کسی مینڈک کی چیرپھاڑ نہیں کرسکتے تو صاف ظاہر ہے کہ آپ ڈاکٹر نہیں بن سکتے، لیکن ہوسکتا ہے کہ آپ اچھے گرافک ڈیزائینر بن سکتے ہوں۔ اگر آپ واقعی اپنی پسند کے شعبے کو اپنا پروفیشن بناناچاہتے ہیں تو اس طرح کے تجربے کیجئے، ہر پروفیشن کے بارے میں سوچیں اور اس میں خودکو فٹ کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گاکہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں، آپ کی دلچسپی کس شعبے میں ہے اور آپ کس طرف مائل ہیں۔ یہ ٹھیک اس طرح ہے کہ آپ کو کہیں جانا ہے اور یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا ہے کہ آپ کو کون سالباس پہننا ہے، ایسے میں آپ باری باری تمام کپڑے پہن کر دیکھتے ہیں۔
اگر آپ واقعی اپنے کریئر کے بارے میں سنجیدہ ہیں توآپ کو مرحلہ وار چلنا چاہیے۔ سب سے پہلے اپنے بارے میں یہ تجزیہ کریں کہ آپ کو اپنے منتخب کردہ پروفیشن کے حوالے سے کتنی Improvement کی ضرورت ہے، آپ کہاں کمزور ہیں اور بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔ اس پیشے کے حوالے سے جتنی ہوسکے، معلومات اکٹھی کریں۔ اس کے لیے اس فیلڈ سے منسلک لوگوں کی رائے لی جاسکتی ہے۔ انٹرنیٹ سے مدد لی جاسکتی ہے، آپ اس مقصد کے لئے مختلف کنسلٹنٹس سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ انتخاب کردہ پروفیشن کے لیے ڈگری زیادہ بہتر ہے یا ڈپلومہ کرنا ٹھیک رہے گا۔ اچھی ملازمت کے لئے اس کی ضروریات (Requirements)کیا ہیں؟ آج کل بہت سے سرٹیفکیٹ کورسز بھی مختلف کریئرز میں مدد دیتے ہیں۔ ان تمام معلومات کو اکٹھا کرنے کے بعد اپنی پڑھائی کا آغاز، اپنی پسند کے کسی اچھے تعلیمی ادارے سے کریں۔
اچھی شہرت کے حامل تعلیمی ادارے سے ڈگری حاصل کرنے سے بھی آپ کو ملازمت کے حصول میں مدد ملتی ہے۔ پڑھائی کے دوران عملی تجربہ حاصل کرنے کے لئے کی گئی انٹرن شپ بھی، پڑھائی کی تکمیل کے بعد ملازمت کے وقت کام آتی ہیں۔ اس سے آپ کو کام کی نوعیت سمجھنے میں بھی مدد مل سکے گئی، فیلڈ میں موجود لوگوں سے تعلق استوار ہو گا اور اپنی ملازمت کے آغاز سے ہی آپ کو اپنے کام کے متعلق تمام ضروری باتوں کا علم ہو گا، جس کی وجہ سے آپ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی ملازمت کا آغاز کر سکیں گئے۔ ان سب مراحل کوطے کرنے کے بعد آپ ایک شاندار مستقبل بنا سکتے ہیں، جہاں پیسے کے ساتھ ساتھ Job Satisfaction بھی ہوگی، پھر آپ پوری ایمان داری اورلگن کے ساتھ کام کریں اور ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔