چیف جسٹس کا نئے وکلاء سے خطاب
کسی بھی ملک کے نظام کی کامیابی اور حکومت پر عوامی اعتماد و اعتبار کا انحصار انصاف کی فراہمی پر ہوتا ہے۔
ہر چھوٹا بڑا آئین و قانون کی پیروی کا پابند ہے، چیف جسٹس ۔ فوٹو: فائل
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ہفتے کو سپریم کورٹ میں نئے وکلا کی انرولمنٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر چھوٹا بڑا آئین و قانون کی پیروی کا پابند ہے اور چاہے کوئی بھی ہو کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں' آج پاکستانی عدلیہ آزاد ہے' عوام کو اس پر بھرپور اعتماد ہے' ملک میں آئین کی بالا دستی قائم ہو چکی ہے۔ ماورائے عدالت فیصلوں کا دور ختم ہو گیا' آئین سے انحراف کرنے والے ماضی کے عفریتوں کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ آج نیا پاکستان ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ سب اس تبدیلی کو محسوس کریں۔
کسی بھی ملک کے نظام کی کامیابی اور حکومت پر عوامی اعتماد و اعتبار کا انحصار انصاف کی فراہمی پر ہوتا ہے۔یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جس ملک میں آئین کی حکمرانی ہوگی وہاں کے سرکاری افسر و اہلکار کرپشن' بدعنوانی اور بدانتظامی سے دور ہوں گے۔یوں معاشرے میں نظم و ضبط قائم ہوگا۔آئین کی حکمرانی کے بغیر سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ممکن نہیں ہے۔ اچھی حکمرانی بھی آئین کی بالادستی سے ہی ممکن ہے۔ آئین سب سے پہلے حکمران پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کے بعدعوام کی باری آتی ہے۔ چیف جسٹس نے بجا فرمایا کہ کوئی ملک آئین و قانون کی عمل داری کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ ملک کی بقا بھی آئین و قانون کی عمل داری ہی پر منحصر ہوتی ہے۔
جس خطے سے انصاف اٹھ جائے اور مظلوم کی داد گستری و حق رسی نہ ہو وہاں افراتفری' انتشار اور بدامنی راج کرنے لگتی ہے۔ ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر اہلیت اور اعلیٰ کارکردگی کے معیار سے گر جاتے ہیں۔ نا اہل لوگ اداروں کی باگ ڈور سنبھال لیتے اور رہی سہی کسر بھی پوری کر دیتے ہیں۔آئین کی حکمرانی جب کمزور پڑتی ہے تب جا بجا چھوٹے چھوٹے طاقتور گروہ سر اٹھا لیتے اور ملک کے امن و امان کو دائو پر لگا دیتے ہیں۔دنیا کے بدامنی کا شکار ملکوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان ملکوں میں آئین اور قانون نام کی چیز نہیں ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے خوش قسمت ہے کہ یہاں آئین اور قانون موجود ہے۔ آئینی ادارے کام کر رہے ہیں۔ جمہوریت بھی موجود ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں انتشار اور بدامنی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسے فوری طور پر نہ روکا گیا تو پاکستان کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جیسی دنیا کے دیگر انتشار زدہ ملکوں میں موجود ہے۔ بد امنی،بم دھماکوں اور دہشت گردی نے ہر شخص کو خوف کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ ملک کی معیشت کی حالت سب کے سامنے ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے جرات مندانہ اور انصاف پر مبنی فیصلوں نے عدلیہ کے وقار کو بلند کرتے ہوئے ایک نئے پاکستان کی تشکیل کی ہے۔ اس سے قبل عدلیہ کے فیصلوں پر انگلی اٹھائی جاتی رہی ہے۔ عدلیہ نے جمہوریت کا بوریا بستر گول کرنے والے آمروں کو نظریہ ضرورت کے تحت تحفظ اور حکمرانی کا جواز بخشا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بھی جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے پیشتر ہی آمریت کے بوٹوں تلے روند دی گئی۔ آج آزاد عدلیہ ہی کی برکت ہے کہ موجودہ اسمبلیاں تمام تر نامساعد حالات کے باوجود اپنی آئینی مدت پوری اور نئے انتخابات کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ آزاد عدلیہ ہی نے آئین و قانون کی بالادستی قائم کر کے آمریت کا راستہ روکا، اپنے فیصلوں اور کردار سے یہ واضح طور پر ثابت کیا کہ عدلیہ ہی وہ واحد ادارہ ہے جس میں جمہوری اداروں کی بقا ہے۔ اگر جمہوری ادارے اپنا تسلسل برقرار رکھنا اور آمریت کے عفریت سے ہمیشہ کے لیے نجات کے متمنی ہیں تو انھیں آزاد عدلیہ کا ساتھ دیتے ہوئے آئین و قانون کی بالا دستی کے علم کو بلند کرنا ہو گا اور کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا ہو گا جس سے عدلیہ کے احترام پر حرف آئے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ عوام کو آج عدلیہ پر بھرپور اعتماد ہے۔ یہی سبب ہے کہ کسی بھی اہم مسئلے کے درپیش آنے پر داد رسی کے لیے عوام کی نظریں عدلیہ ہی کی جانب اٹھتی ہیں۔ قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ خواہ کوئی حاکم وقت ہو یا کوئی عام آدمی آئین و قانون کی پیروی سب پر لازم آتی ہے۔ آئین و قانون کی بالا دستی کے لیے ناگزیر ہے کہ اہل اقتدار سمیت سب پر اس کا نفاذ یکساں ہو۔پاکستان میں اس کی عملی مثال بھی سامنے آئی ہے جب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے الزام میں سزا دی تو اس کے بعد انھیں اپنے منصب اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے علیحدہ ہونا پڑا۔اس سے ثابت ہوا کہ پاکستان میں آئین کی بالادستی قائم ہو گئی ہے۔
پاکستانی آئین میں چند اعلیٰ حکومتی عہدوں کو استثنیٰ حاصل ہے۔اس سے تو بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ کسی شخص کو کوئی استثنیٰ نہیں البتہ کسی خاص عہدے کو مخصوص حالات میں چند رعایتیں حاصل ہیں۔اس پیچیدہ آئینی معاملے پرمزید کوئی بات کیے بغیر ہم صرف یہ کہنا چاہیں گے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کا یہ فرمانا بجا ہے کہ ہر چھوٹا بڑا آئین و قانون کی پیروی کا پابند ہے اور چاہے کوئی بھی ہو اسے استثنیٰ حاصل نہیں۔ پاکستان کی بقاء اور ترقی کا انحصار آئین و قانون کی بالادستی ہی میں مضمر ہے۔
کسی بھی ملک کے نظام کی کامیابی اور حکومت پر عوامی اعتماد و اعتبار کا انحصار انصاف کی فراہمی پر ہوتا ہے۔یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جس ملک میں آئین کی حکمرانی ہوگی وہاں کے سرکاری افسر و اہلکار کرپشن' بدعنوانی اور بدانتظامی سے دور ہوں گے۔یوں معاشرے میں نظم و ضبط قائم ہوگا۔آئین کی حکمرانی کے بغیر سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا ممکن نہیں ہے۔ اچھی حکمرانی بھی آئین کی بالادستی سے ہی ممکن ہے۔ آئین سب سے پہلے حکمران پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کے بعدعوام کی باری آتی ہے۔ چیف جسٹس نے بجا فرمایا کہ کوئی ملک آئین و قانون کی عمل داری کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ ملک کی بقا بھی آئین و قانون کی عمل داری ہی پر منحصر ہوتی ہے۔
جس خطے سے انصاف اٹھ جائے اور مظلوم کی داد گستری و حق رسی نہ ہو وہاں افراتفری' انتشار اور بدامنی راج کرنے لگتی ہے۔ ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر اہلیت اور اعلیٰ کارکردگی کے معیار سے گر جاتے ہیں۔ نا اہل لوگ اداروں کی باگ ڈور سنبھال لیتے اور رہی سہی کسر بھی پوری کر دیتے ہیں۔آئین کی حکمرانی جب کمزور پڑتی ہے تب جا بجا چھوٹے چھوٹے طاقتور گروہ سر اٹھا لیتے اور ملک کے امن و امان کو دائو پر لگا دیتے ہیں۔دنیا کے بدامنی کا شکار ملکوں کا تجزیہ کیا جائے تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان ملکوں میں آئین اور قانون نام کی چیز نہیں ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے خوش قسمت ہے کہ یہاں آئین اور قانون موجود ہے۔ آئینی ادارے کام کر رہے ہیں۔ جمہوریت بھی موجود ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں انتشار اور بدامنی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسے فوری طور پر نہ روکا گیا تو پاکستان کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جیسی دنیا کے دیگر انتشار زدہ ملکوں میں موجود ہے۔ بد امنی،بم دھماکوں اور دہشت گردی نے ہر شخص کو خوف کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ ملک کی معیشت کی حالت سب کے سامنے ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے جرات مندانہ اور انصاف پر مبنی فیصلوں نے عدلیہ کے وقار کو بلند کرتے ہوئے ایک نئے پاکستان کی تشکیل کی ہے۔ اس سے قبل عدلیہ کے فیصلوں پر انگلی اٹھائی جاتی رہی ہے۔ عدلیہ نے جمہوریت کا بوریا بستر گول کرنے والے آمروں کو نظریہ ضرورت کے تحت تحفظ اور حکمرانی کا جواز بخشا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بھی جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے پیشتر ہی آمریت کے بوٹوں تلے روند دی گئی۔ آج آزاد عدلیہ ہی کی برکت ہے کہ موجودہ اسمبلیاں تمام تر نامساعد حالات کے باوجود اپنی آئینی مدت پوری اور نئے انتخابات کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ آزاد عدلیہ ہی نے آئین و قانون کی بالادستی قائم کر کے آمریت کا راستہ روکا، اپنے فیصلوں اور کردار سے یہ واضح طور پر ثابت کیا کہ عدلیہ ہی وہ واحد ادارہ ہے جس میں جمہوری اداروں کی بقا ہے۔ اگر جمہوری ادارے اپنا تسلسل برقرار رکھنا اور آمریت کے عفریت سے ہمیشہ کے لیے نجات کے متمنی ہیں تو انھیں آزاد عدلیہ کا ساتھ دیتے ہوئے آئین و قانون کی بالا دستی کے علم کو بلند کرنا ہو گا اور کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا ہو گا جس سے عدلیہ کے احترام پر حرف آئے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ عوام کو آج عدلیہ پر بھرپور اعتماد ہے۔ یہی سبب ہے کہ کسی بھی اہم مسئلے کے درپیش آنے پر داد رسی کے لیے عوام کی نظریں عدلیہ ہی کی جانب اٹھتی ہیں۔ قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ خواہ کوئی حاکم وقت ہو یا کوئی عام آدمی آئین و قانون کی پیروی سب پر لازم آتی ہے۔ آئین و قانون کی بالا دستی کے لیے ناگزیر ہے کہ اہل اقتدار سمیت سب پر اس کا نفاذ یکساں ہو۔پاکستان میں اس کی عملی مثال بھی سامنے آئی ہے جب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے الزام میں سزا دی تو اس کے بعد انھیں اپنے منصب اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے علیحدہ ہونا پڑا۔اس سے ثابت ہوا کہ پاکستان میں آئین کی بالادستی قائم ہو گئی ہے۔
پاکستانی آئین میں چند اعلیٰ حکومتی عہدوں کو استثنیٰ حاصل ہے۔اس سے تو بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ کسی شخص کو کوئی استثنیٰ نہیں البتہ کسی خاص عہدے کو مخصوص حالات میں چند رعایتیں حاصل ہیں۔اس پیچیدہ آئینی معاملے پرمزید کوئی بات کیے بغیر ہم صرف یہ کہنا چاہیں گے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کا یہ فرمانا بجا ہے کہ ہر چھوٹا بڑا آئین و قانون کی پیروی کا پابند ہے اور چاہے کوئی بھی ہو اسے استثنیٰ حاصل نہیں۔ پاکستان کی بقاء اور ترقی کا انحصار آئین و قانون کی بالادستی ہی میں مضمر ہے۔