کراچی کے ساحل پرنایاب کبڑی وہیل مچھلیاں دیکھی گئی ہیں
دنیامیں صرف80کبڑی وہیل رہ گئی ہیں،ہمپ بیک وہیل کی نسل کوخطرات لاحق ہیں
حکومت سندھ نے تحفظ کیلیے قانون بنایاہے پراسے وائلڈلائف میں شامل کیاجائے،معظم خان ۔ فوٹو : ایکسپریس
کراچی کے ساحل پر نایاب وہیل مچھلی دیکھی گئی ہے جسے کبڑی وہیل (Humpback) کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
ادارہ تحفظ جنگلی حیات (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے مطابق کراچی کے ساحل پر ستمبر کے مہینے میں 2 بار یہ کبڑی وہیل مچھلیاں دیکھی گئی ہیں جوکہ4 سے 6 کے گروپ میں سفر کررہی تھیں، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر معظم خان کے مطابق یہ ایک انتہائی نایاب نسل ہے جس کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا میں ان کی تعداد 80 رہ گئی ہے اس کا ٹھکانہ پاکستان ، عمان اور بھارت ہے.
معظم خان کے مطابق یہ واحد مچھلی ہے جو گہرے پانیوں کے بجائے سطح سمندر پر پائی جاتی ہے، اسی وجہ سے اس کی نسل کو شدید خطرات لاحق ہیں ماہر ماحولیات کے مطابق ماہی گیروں کو آگاہی فراہم کرنے کے باعث اب اس مچھلی کی بقا کو درپیش خطرات میں کمی آگئی ہے معظم خان نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے مچھلیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی گئی ہے لیکن ضروری ہے کہ اسے وائلڈ لائف میں بھی شامل کیا جائے جیسا کہ بلوچستان حکومت نے کیا ہے۔
ادارہ تحفظ جنگلی حیات (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے مطابق کراچی کے ساحل پر ستمبر کے مہینے میں 2 بار یہ کبڑی وہیل مچھلیاں دیکھی گئی ہیں جوکہ4 سے 6 کے گروپ میں سفر کررہی تھیں، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر معظم خان کے مطابق یہ ایک انتہائی نایاب نسل ہے جس کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا میں ان کی تعداد 80 رہ گئی ہے اس کا ٹھکانہ پاکستان ، عمان اور بھارت ہے.
معظم خان کے مطابق یہ واحد مچھلی ہے جو گہرے پانیوں کے بجائے سطح سمندر پر پائی جاتی ہے، اسی وجہ سے اس کی نسل کو شدید خطرات لاحق ہیں ماہر ماحولیات کے مطابق ماہی گیروں کو آگاہی فراہم کرنے کے باعث اب اس مچھلی کی بقا کو درپیش خطرات میں کمی آگئی ہے معظم خان نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے مچھلیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی گئی ہے لیکن ضروری ہے کہ اسے وائلڈ لائف میں بھی شامل کیا جائے جیسا کہ بلوچستان حکومت نے کیا ہے۔