ٹوکیونے تمام جاپانی کمپنیوں کوٹیکس چھوٹ کامطالبہ کردیا
جائیکاکے تحت پاکستان میں جاری ترقیاتی فنڈزوسودپرٹیکس معافی کی درخواست
جاپان کی طرف سے ایک درخواست یہ بھی کی گئی ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے تمام جاپانی ملازمین کو ان کی ذاتی آمدنی پر عائد تمام فسکل لیویز اور ٹیکسوں سے بھی چھوٹ دی جائے۔ فوٹو: فائل
لاہور:
جاپان نے پاکستان میں کام کرنے والی جاپانی کمپنیوں،جاپانی ملازمین کو انکم ٹیکس سمیت دیگر تمام ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے چھوٹ دینے کا مطالبہ کردیا ہے، جبکہ اس سے قبل جاپان نے 2 ارب 60کروڑ ڈالر مالیت کے کراچی سرکلر ریلوے منصوبے پر عائد 34ارب روپے کے ٹیکس معاف کرنے کا کہا تھا۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق جاپان کی طرف سے پاکستان سے کی جانے والی درخواست میں 4 مختلف نوعیت کے جاپانی سرمایہ کاروں، کمپنیوں و جاپانی باشندوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا کہا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق جاپانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے جاپان کے ذیلی ادارے جائیکا کے ذریعے پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلیے حاصل کردہ قرضوں اور سود کی رقم پر ٹیکس معاف کیے جائیں، اس کے علاوہ پاکستان میں قائم جاپانی کمپنیوں کو پاکستان میں اشیاء و خدمات کی سپلائی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو تمام فسکل لیویز اور ٹیکسوں سے چھوٹ دی جائے۔ دستاویز کے مطابق پاکستان میں قائم جاپانی کمپنیوں کی طرف سے اپنے آلات و خام مال کی درآمد اور اسکی ری ایکسپورٹ کو بھی ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دی جائے۔
اس کے علاوہ جاپان کی طرف سے ایک درخواست یہ بھی کی گئی ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے تمام جاپانی ملازمین کو ان کی ذاتی آمدنی پر عائد تمام فسکل لیویز اور ٹیکسوں سے بھی چھوٹ دی جائے۔ اس بارے میں جب وزارت خزانہ کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ معمول کے مطابق جاپان سمیت دیگر ڈونرز کی طرف سے جو رعایتی قرضہ دیا جاتا ہے، اس قرضے سے جو منصوبے شروع کیے جاتے ہیں انکو ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے معاف کرنے کی درخواست کی جاتی ہے، لیکن جاپان کی طرف سے جن 4 مختلف نوعیت کے سرمایہ کاروں، منصوبوں اور جاپانی باشندوں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کا کہا گیا ہے وہ بالکل الگ کیس ہے اور اس کا جائزہ لیا جارہا ہے، کہ پاکستان کس حد تک جاپان کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں رعایت دے سکتا ہے تاہم تمام نوعیت کے مذکورہ کیسوں میں ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں چھوٹ دینا پاکستان کیلیے ممکن نہیں ہوگا۔
جاپان نے پاکستان میں کام کرنے والی جاپانی کمپنیوں،جاپانی ملازمین کو انکم ٹیکس سمیت دیگر تمام ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے چھوٹ دینے کا مطالبہ کردیا ہے، جبکہ اس سے قبل جاپان نے 2 ارب 60کروڑ ڈالر مالیت کے کراچی سرکلر ریلوے منصوبے پر عائد 34ارب روپے کے ٹیکس معاف کرنے کا کہا تھا۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق جاپان کی طرف سے پاکستان سے کی جانے والی درخواست میں 4 مختلف نوعیت کے جاپانی سرمایہ کاروں، کمپنیوں و جاپانی باشندوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا کہا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق جاپانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے جاپان کے ذیلی ادارے جائیکا کے ذریعے پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کیلیے حاصل کردہ قرضوں اور سود کی رقم پر ٹیکس معاف کیے جائیں، اس کے علاوہ پاکستان میں قائم جاپانی کمپنیوں کو پاکستان میں اشیاء و خدمات کی سپلائی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو تمام فسکل لیویز اور ٹیکسوں سے چھوٹ دی جائے۔ دستاویز کے مطابق پاکستان میں قائم جاپانی کمپنیوں کی طرف سے اپنے آلات و خام مال کی درآمد اور اسکی ری ایکسپورٹ کو بھی ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ دی جائے۔
اس کے علاوہ جاپان کی طرف سے ایک درخواست یہ بھی کی گئی ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے تمام جاپانی ملازمین کو ان کی ذاتی آمدنی پر عائد تمام فسکل لیویز اور ٹیکسوں سے بھی چھوٹ دی جائے۔ اس بارے میں جب وزارت خزانہ کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ معمول کے مطابق جاپان سمیت دیگر ڈونرز کی طرف سے جو رعایتی قرضہ دیا جاتا ہے، اس قرضے سے جو منصوبے شروع کیے جاتے ہیں انکو ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے معاف کرنے کی درخواست کی جاتی ہے، لیکن جاپان کی طرف سے جن 4 مختلف نوعیت کے سرمایہ کاروں، منصوبوں اور جاپانی باشندوں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کا کہا گیا ہے وہ بالکل الگ کیس ہے اور اس کا جائزہ لیا جارہا ہے، کہ پاکستان کس حد تک جاپان کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں رعایت دے سکتا ہے تاہم تمام نوعیت کے مذکورہ کیسوں میں ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں چھوٹ دینا پاکستان کیلیے ممکن نہیں ہوگا۔