وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب
خطے میں جوہری سرگرمیوں پر یکطرفہ پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں اور نہ ہی پاکستان کا ایٹمی پروگرام محدود ہو سکتا ہے
فوٹو: اے ایف پی
وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کی شہادتوں پر ''فیکٹ فائنڈنگ مشن'' بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ وادی کو غیر فوجی علاقہ قرار دے اور اپنی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے کرائے۔
انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سلامتی کونسل کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ثبوت دیں گے' مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت میں امن نہیں ہو سکتا، بھارت مذاکرات کے عمل کو مشروط کر رہا ہے اور اس نے پیشگی شرائط رکھیں جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں' پاکستان بھارت کے ساتھ امن اور کشمیر سمیت ہر مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات چاہتا ہے کیونکہ مذاکرات ہی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں لیکن بھارت کی شرائط کے باعث مذاکراتی عمل شروع نہیں ہو سکتا' بھارت کی جانب سے ہتھیار جمع کرنے پر تشویش ہے، پاکستان بھارت کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتا۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت سے متعلق کہا کہ پاکستان اس گروپ کی رکنیت کا حقدار ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں خطے کے مسائل' مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم' بھارت کے جنگی جنون کے باعث خطے کو لاحق خطرات' افغانستان میں امن و امان کی صورتحال' مسئلہ فلسطین اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر اپنا موقف اقوام عالم کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کرتے ہوئے بالکل صائب کہا کہ دنیا میں قیام امن کے لیے ان مسائل کا حل ناگزیر ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے اقوام عالم سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریںاور بے گناہ کشمیریوں کی شہادت پر عالمی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں پر پیلٹ گن استعمال کر رہی ہے لیکن بھارتی مظالم سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے' کشمیریوں نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کا 70 سال انتظار کیا ہے' اقوام متحدہ وادی میں کرفیو ختم کرائے اور اسے غیر فوجی علاقہ قرار دے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز انسانیت سوز تشدد کر رہی اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انتہائی خوفناک ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ اقوام متحدہ ان بھارتی مظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہی اور اپنے ہی قوانین کو پاؤں تلے روندنے والے بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہی ہے۔ انصاف اس عالمی قوت سے مانگا جا رہا ہے جو کشمیریوں اور انسانیت کے دشمن بھارت سے دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ دوغلا عمل دیکھتے ہوئے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس طرح تو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کا مطالبہ کرتے کرتے مزید 70 سال گزر جائیں گے۔
ادھر امریکا کی بھارت سے دوستی کا ثبوت پوری دنیا کے سامنے اس وقت آشکار ہو گیا جب امریکی کانگریس میں پاکستان کو دہشتگردی کی معاون ریاست قرار دینے کا بل پیش کر دیا گیا' یہ بل ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف امریکا میں موجود ہیں۔ ایک جانب امریکا دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں کی ستائش کرتا ہے تو دوسری جانب امریکی کانگریس کے کچھ ارکان پاکستان کو دہشتگرد ریاست قرار دینے کے لیے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بننے سے بھی باز نہیں آتے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے نیویارک میں پریس کانفرنس کے دوران واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جاری رہے گا' خطے میں جوہری سرگرمیوں پر یکطرفہ پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں اور نہ ہی پاکستان کا ایٹمی پروگرام محدود ہو سکتا ہے لہٰذا امریکا بھارت سے بھی وہی تقاضا کرے جو ہم سے کیا جاتا ہے' دنیا پہلے بھارت کی جوہری سرگرمیوں کو روکے۔ اس حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل صائب ہے کہ بھارت کو نہ صرف جوہری سرگرمیوں کی کھلی اجازت دے دی گئی بلکہ امریکا اسے جدید ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے بھی معاہدے کرے اور دوسری جانب پاکستان پر یہ دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرے۔ یہ رویہ پاکستان کو قطعی قبول نہیں۔ خطے میں بڑھتا ہوا بھارت کا جنگی جنون اور پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کے باعث یہ ناگزیر ہے کہ پاکستان اپنی جوہری سرگرمیوں کو مزید فروغ دے۔
اگر امریکا جنوبی ایشیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا چاہتا ہے تو اسے بھارتی ایٹمی سرگرمیوں کو بھی محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہو گا۔ ادھر بھارت پاکستان پر مختلف حوالوں سے دباؤ بڑھانے کے لیے منفی ہتھکنڈے استعمال کرنے سے باز نہیں آ رہا' اڑی سیکٹر حملے پر نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو دفتر خارجہ طلب کر لیا گیا لیکن پاکستان نے اڑی سیکٹر پر حملے پر بھارتی موقف مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں' بھارت تحقیقات سے پہلے ہی پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بند کرے اور اس کے پاس اگر کوئی ٹھوس شواہد ہیں تو انھیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔
بھارت کشمیریوں پر مظالم کرتے ہوئے جس انداز میں اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے اس پر اس عالمی ادارے کی خاموشی چہ معنی دارد۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے عالمی امن' استحکام اور ترقی میں اقوام متحدہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے بالکل درست کہا کہ امن' خوشحالی اور آزادی کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کو مرکز و محور کی حیثیت سے اپنی ساکھ کو بحال کرنا چاہیے۔
پاکستانی وزیراعظم نے خطے میں قیام امن کے لیے بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی تاکہ باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے لیکن بھارت کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا بلکہ ایسی خبریں منظرعام پر آ رہی ہیں کہ بھارت پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیکس کے منصوبے بنا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کو بخوبی معلوم ہے کہ اس نے اگر کوئی ایسی غلطی کی تو پاکستان خاموش نہیں بیٹھے گا اور اسے اس کی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔ بھارت خطے میں قیام امن کے لیے جنگی جنون کو ہوا دینے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے یہی اس کے لیے بہتر ہے۔
انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سلامتی کونسل کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ثبوت دیں گے' مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت میں امن نہیں ہو سکتا، بھارت مذاکرات کے عمل کو مشروط کر رہا ہے اور اس نے پیشگی شرائط رکھیں جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں' پاکستان بھارت کے ساتھ امن اور کشمیر سمیت ہر مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات چاہتا ہے کیونکہ مذاکرات ہی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں لیکن بھارت کی شرائط کے باعث مذاکراتی عمل شروع نہیں ہو سکتا' بھارت کی جانب سے ہتھیار جمع کرنے پر تشویش ہے، پاکستان بھارت کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتا۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت سے متعلق کہا کہ پاکستان اس گروپ کی رکنیت کا حقدار ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں خطے کے مسائل' مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم' بھارت کے جنگی جنون کے باعث خطے کو لاحق خطرات' افغانستان میں امن و امان کی صورتحال' مسئلہ فلسطین اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر اپنا موقف اقوام عالم کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کرتے ہوئے بالکل صائب کہا کہ دنیا میں قیام امن کے لیے ان مسائل کا حل ناگزیر ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے اقوام عالم سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریںاور بے گناہ کشمیریوں کی شہادت پر عالمی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں پر پیلٹ گن استعمال کر رہی ہے لیکن بھارتی مظالم سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے' کشمیریوں نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کا 70 سال انتظار کیا ہے' اقوام متحدہ وادی میں کرفیو ختم کرائے اور اسے غیر فوجی علاقہ قرار دے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز انسانیت سوز تشدد کر رہی اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انتہائی خوفناک ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ اقوام متحدہ ان بھارتی مظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہی اور اپنے ہی قوانین کو پاؤں تلے روندنے والے بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہی ہے۔ انصاف اس عالمی قوت سے مانگا جا رہا ہے جو کشمیریوں اور انسانیت کے دشمن بھارت سے دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ دوغلا عمل دیکھتے ہوئے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس طرح تو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کا مطالبہ کرتے کرتے مزید 70 سال گزر جائیں گے۔
ادھر امریکا کی بھارت سے دوستی کا ثبوت پوری دنیا کے سامنے اس وقت آشکار ہو گیا جب امریکی کانگریس میں پاکستان کو دہشتگردی کی معاون ریاست قرار دینے کا بل پیش کر دیا گیا' یہ بل ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف امریکا میں موجود ہیں۔ ایک جانب امریکا دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں کی ستائش کرتا ہے تو دوسری جانب امریکی کانگریس کے کچھ ارکان پاکستان کو دہشتگرد ریاست قرار دینے کے لیے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بننے سے بھی باز نہیں آتے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے نیویارک میں پریس کانفرنس کے دوران واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جاری رہے گا' خطے میں جوہری سرگرمیوں پر یکطرفہ پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں اور نہ ہی پاکستان کا ایٹمی پروگرام محدود ہو سکتا ہے لہٰذا امریکا بھارت سے بھی وہی تقاضا کرے جو ہم سے کیا جاتا ہے' دنیا پہلے بھارت کی جوہری سرگرمیوں کو روکے۔ اس حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل صائب ہے کہ بھارت کو نہ صرف جوہری سرگرمیوں کی کھلی اجازت دے دی گئی بلکہ امریکا اسے جدید ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے بھی معاہدے کرے اور دوسری جانب پاکستان پر یہ دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرے۔ یہ رویہ پاکستان کو قطعی قبول نہیں۔ خطے میں بڑھتا ہوا بھارت کا جنگی جنون اور پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کے باعث یہ ناگزیر ہے کہ پاکستان اپنی جوہری سرگرمیوں کو مزید فروغ دے۔
اگر امریکا جنوبی ایشیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا چاہتا ہے تو اسے بھارتی ایٹمی سرگرمیوں کو بھی محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہو گا۔ ادھر بھارت پاکستان پر مختلف حوالوں سے دباؤ بڑھانے کے لیے منفی ہتھکنڈے استعمال کرنے سے باز نہیں آ رہا' اڑی سیکٹر حملے پر نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو دفتر خارجہ طلب کر لیا گیا لیکن پاکستان نے اڑی سیکٹر پر حملے پر بھارتی موقف مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں' بھارت تحقیقات سے پہلے ہی پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بند کرے اور اس کے پاس اگر کوئی ٹھوس شواہد ہیں تو انھیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔
بھارت کشمیریوں پر مظالم کرتے ہوئے جس انداز میں اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے اس پر اس عالمی ادارے کی خاموشی چہ معنی دارد۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے عالمی امن' استحکام اور ترقی میں اقوام متحدہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے بالکل درست کہا کہ امن' خوشحالی اور آزادی کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کو مرکز و محور کی حیثیت سے اپنی ساکھ کو بحال کرنا چاہیے۔
پاکستانی وزیراعظم نے خطے میں قیام امن کے لیے بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی تاکہ باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے لیکن بھارت کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا بلکہ ایسی خبریں منظرعام پر آ رہی ہیں کہ بھارت پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیکس کے منصوبے بنا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کو بخوبی معلوم ہے کہ اس نے اگر کوئی ایسی غلطی کی تو پاکستان خاموش نہیں بیٹھے گا اور اسے اس کی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔ بھارت خطے میں قیام امن کے لیے جنگی جنون کو ہوا دینے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے یہی اس کے لیے بہتر ہے۔