4 لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ

فغان مہاجرین کےقیام میں مزید توسیع کی بات کرنے والوں کوملکی اقتصادی و سماجی حالات کی سنگینی کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے

فوٹو: فائل

وفاقی وزیر برائے سرحدی و ریاستی امور (سیفران) لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ رواں سال ماہ اکتوبر 2016میں 4 لاکھ افغان مہاجرین واپس اپنے وطن چلے جائیں گے، حکومت پاکستان ہمسایہ ملک سے ان کی آبادکاری کے لیے رابطہ میں ہے۔ یہ بات انھوں نے بدھ کو پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کی آل پارٹیز کانفرنس میں کہہ کر سیاسی حلقوں کو اطمینان دلایا ہے کہ ان کی جبری بے دخلی کاتاثر درست نہیں جب کہ وفاقی حکومت نے قیام پذیر افغان کے حوالے سے مہاجرین کی واپسی کی تاریخ بڑھا کر 31 مارچ2017 کی ہے، واضح رہے افغان مہاجرین کے تحفظ کے حوالہ سے سیفران نے ایک سرکاری نوٹس اخبار میں مشتہر کیا ہے۔


جس کے مطابق ایسے افغان مہاجرین جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن کارڈ (POR) موجود ہیں وہ2017 تک کار آمد ہیں، ایسے کارڈ ہولڈرز کے خلاف کوئی غیر قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی، ان کارڈز کو ضبط کیا جا سکتا ہے نہ واپس جمع کرایا جائے اور نہ ہی ضایع کیا جائے جب کہ انھیں فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

یہ قانونی اقدامات ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت کی تسلی کے لیے کافی ہیں و گرنہ برطانیہ میں غیر قانونی مقیم مزید 25 پاکستانی باشندوں کو ڈیپورٹ کر کے امیگریشن حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے، ذرایع کے مطابق بینظیر ایئرپورٹ پر لندن سے آنیوالی پرواز کے ذریعے 25 پاکستانیوں کو منتقل کر کے امیگریشن حکام کے حوالے کیا جہاں ان کے کوائف کی تصدیق کے بعد گھروں کو جانے کی اجازت دی گئی۔ افغان مہاجرین کے قیام میں مزید توسیع کی بات کرنے والوں کو ملکی اقتصادی و سماجی حالات کی سنگینی کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے، فاٹا ابھی اصلاحات کے مرحلے میں ہے اس لیے ہر اقدام کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔
Load Next Story