جرائم پیشہ افراد نت نئے طریقوں سے شہریوں کو لوٹنے لگے
شہری وارداتوں سے پریشان، پولیس چین کی بانسری بجانے میں مصروف
لسبیلہ چوک سے گارڈن اور رنچھوڑ لائن جانے والا راستہ رات کے اوقات میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے جنت بن گیا. فوٹو: فائل
جرائم پیشہ اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان شہریوں کو لوٹنے کے نئے طریقے تلاش کرکے لوٹ مار کے بعد فرار ہونے لگے۔
منصوبہ بندی کے تحت موٹر سائیکل سوار ایک ملزم گاڑی کو عقب سے ٹکر مارتا ہے جسے دیکھنے کے لیے اترنے والے کار سوار اور اس کے اہلخانہ کو ملزم کے دیگر ساتھی اسلحے کے زور پر لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں جبکہ دوسرے طریقے میں ایک موٹر سائیکل سوار چلتی گاڑی کے ٹائر کی جانب اشارہ کرتا ہے،ملزمان گاڑی سائیڈ پر رکتے ہی لوٹنے پہنچ جاتے ہیں،لسبیلہ چوک سے گارڈن اور رنچھوڑ لائن جانے والا راستہ رات کے اوقات میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے جنت بن گیا ،نئے طریقے کی وارداتوں میں سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور اندھیرے نے جرائم پیشہ عناصر کے کام کو مزید آسان بنادیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایسی ہی ایک واردات گارڈن کے رہائشی محمد اسلم کے ساتھ پیش آئی وہ چند روز قبل شادی کی تقریب سے رات 12بجے اہلخانہ کے ہمراہ لسبیلہ چوک سے گارڈن کی جانب جا رہے تھے کہ نشتر روڈ البیلا سگنل سے آگے ایک نوجوان نے موٹر سائیکل عقب سے ان کی گاڑی کے بمپر سے ٹکرا دی جس پر وہ گاڑی روک کر دیکھنے کے لیے اترے تو قریب ہی سڑک کے کنارے کھڑے 2 افراد ٹہلتے ہوئے ان کے قریب آئے اور ٹی شرٹ کے اندر چھپایا اسلحہ نکال کر انھیں اور اہلخانہ کو یرغمال بنا کر نقدی ، موبائل فون ، طلائی زیورات ، چوڑیاں اور انگوٹھیاں چھین لیں اور بعدازاں اسی موٹر سائیکل سوار کے ہمراہ موقع سے فرار ہوگئے۔
ملزمان جاتے ہوئے انھیں موبائل سم واپس کر گئے، ملزمان جس اطمینان سے واردات کر رہے تھے کہ ایسا لگا انھیں پولیس کا کوئی خوف نہیں،اس قسم کا دوسرا واقعہ گلستان جوہر میں دانش صدیقی کے ساتھ پیش آیا جب وہ اپنی کار میں جوہر چورنگی سے کامران چورنگی جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار ایک شخص نے ان کی کار کے قریب آکر پچھلے ٹائر کی جانب اشارہ کیا اور آگے نکل گیا۔
جس پر وہ سمجھے کہ شاید ٹائر میں ہوا کم ہے یا پنکچر ہوگیا اس وجہ سے انھوں نے کار سڑک کے کنارے لگائی اور اتر کر ابھی ٹائروں کا جائزہ لے ہی رہے تھے عقب سے موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان ان کے قریب آکر رکے اور باقاعدہ ہاتھ ملا کر انھیں اسلحہ دکھا کر کار میں بیٹھنے کو کہا اس دوران ایک ملزم نے موٹر سائیکل سے اتر کر ان سے موبائل فون ،کار کی پچھلی سیٹ پر رکھا ہوا لیپ ٹاپ اور جیب میں موجود 4 ہزار روپے لوٹے اورباآسانی فرار ہوگئے،شہر بھر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتو میں ملوث ملزمان کی جانب سے نت نئے طریقوں سے شہریوں کو لوٹنا معمول بنتا جا رہا ہے جبکہ پولیس چین کی بانسری بجا رہی ہے۔
منصوبہ بندی کے تحت موٹر سائیکل سوار ایک ملزم گاڑی کو عقب سے ٹکر مارتا ہے جسے دیکھنے کے لیے اترنے والے کار سوار اور اس کے اہلخانہ کو ملزم کے دیگر ساتھی اسلحے کے زور پر لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں جبکہ دوسرے طریقے میں ایک موٹر سائیکل سوار چلتی گاڑی کے ٹائر کی جانب اشارہ کرتا ہے،ملزمان گاڑی سائیڈ پر رکتے ہی لوٹنے پہنچ جاتے ہیں،لسبیلہ چوک سے گارڈن اور رنچھوڑ لائن جانے والا راستہ رات کے اوقات میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے جنت بن گیا ،نئے طریقے کی وارداتوں میں سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور اندھیرے نے جرائم پیشہ عناصر کے کام کو مزید آسان بنادیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایسی ہی ایک واردات گارڈن کے رہائشی محمد اسلم کے ساتھ پیش آئی وہ چند روز قبل شادی کی تقریب سے رات 12بجے اہلخانہ کے ہمراہ لسبیلہ چوک سے گارڈن کی جانب جا رہے تھے کہ نشتر روڈ البیلا سگنل سے آگے ایک نوجوان نے موٹر سائیکل عقب سے ان کی گاڑی کے بمپر سے ٹکرا دی جس پر وہ گاڑی روک کر دیکھنے کے لیے اترے تو قریب ہی سڑک کے کنارے کھڑے 2 افراد ٹہلتے ہوئے ان کے قریب آئے اور ٹی شرٹ کے اندر چھپایا اسلحہ نکال کر انھیں اور اہلخانہ کو یرغمال بنا کر نقدی ، موبائل فون ، طلائی زیورات ، چوڑیاں اور انگوٹھیاں چھین لیں اور بعدازاں اسی موٹر سائیکل سوار کے ہمراہ موقع سے فرار ہوگئے۔
ملزمان جاتے ہوئے انھیں موبائل سم واپس کر گئے، ملزمان جس اطمینان سے واردات کر رہے تھے کہ ایسا لگا انھیں پولیس کا کوئی خوف نہیں،اس قسم کا دوسرا واقعہ گلستان جوہر میں دانش صدیقی کے ساتھ پیش آیا جب وہ اپنی کار میں جوہر چورنگی سے کامران چورنگی جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار ایک شخص نے ان کی کار کے قریب آکر پچھلے ٹائر کی جانب اشارہ کیا اور آگے نکل گیا۔
جس پر وہ سمجھے کہ شاید ٹائر میں ہوا کم ہے یا پنکچر ہوگیا اس وجہ سے انھوں نے کار سڑک کے کنارے لگائی اور اتر کر ابھی ٹائروں کا جائزہ لے ہی رہے تھے عقب سے موٹر سائیکل پر سوار 2 ملزمان ان کے قریب آکر رکے اور باقاعدہ ہاتھ ملا کر انھیں اسلحہ دکھا کر کار میں بیٹھنے کو کہا اس دوران ایک ملزم نے موٹر سائیکل سے اتر کر ان سے موبائل فون ،کار کی پچھلی سیٹ پر رکھا ہوا لیپ ٹاپ اور جیب میں موجود 4 ہزار روپے لوٹے اورباآسانی فرار ہوگئے،شہر بھر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتو میں ملوث ملزمان کی جانب سے نت نئے طریقوں سے شہریوں کو لوٹنا معمول بنتا جا رہا ہے جبکہ پولیس چین کی بانسری بجا رہی ہے۔