جنگ نہیں مذاکرات کا راستہ اختیارکیا جائے

بھارت کے پالیسی سازوں کو خطے میں قیام امن کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔

فوٹو:فائل

گزشتہ کچھ روز سے جاری بھارتی جنگی جنون میں کمی آنے کے بجائے شدت آتی جا رہی ہے' ایک جانب بھارتی حکام پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیکس کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو دوسری جانب بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف زہر افشانی کر رہا ہے۔ بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک آ پہنچی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ملٹری آپریشن روم جا پہنچے جہاں انھوں نے جمعرات کو سارا دن گزارا اور لائن آف کنٹرول پر فوج کی نقل و حرکت کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیتے رہے۔

بی بی سی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی جگہوں پر بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیار اگلے مورچوں پر پہنچانا شروع کر دیے ہیں جن مقامات پر بوفرز اور درمیانی رینج کی توپیں اور دوسرے بھاری ہتھیار نصب کیے جا رہے ہیں وہاں سے آزاد کشمیر میں پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

بھارتی فوج کی اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل و حمل سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی عملی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ بعض ذرایع کے مطابق سرحد پر کسی بھی جنگی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بھارتی فوج یہ تیاری کر رہی ہے۔ ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارت پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیکس کی تیاریاں کر رہا ہے دوسری جانب نریندر مودی کی زیرصدارت اجلاس میں پاکستان پر حملے کے منصوبے پر غور کیا گیا۔

جب سے نریندر مودی کی حکومت آئی ہے اس کی جانب سے پاکستان کے لیے مسائل اور پریشانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ کبھی پاکستان کے خلاف بیان بازی کی جاتی ہے تو کبھی سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری شروع کرکے کشیدگی پیدا کی جاتی ہے۔ چند روز پیشتر مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کے قصبے اڑی میں بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کواٹرز پر ہونے والے حملے جس میں 17فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے' کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف اپنی پروپیگنڈا مہم اور جنگی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔

پاکستان کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دینے میں بھارتی میڈیا کسی سے پیچھے نہیں' وہ اپنے تبصروں اور تجزیوں کے ذریعے مسلسل پاکستان کے خلاف نفرت میں اضافہ کر رہا اور حکومت کو پاکستان پر حملے کے لیے اکسا رہا ہے۔ جہاں تک اڑی حملے کا تعلق ہے تو پاکستان مسلسل کہہ رہا ہے کہ بھارتی حکومت اس کے ثبوت فراہم کرے۔


جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اڑی حملے کے حوالے سے بھارتی الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ نئی دہلی قابل قبول ثبوت فراہم کرے۔ ترجمان نے واضح کہا کہ بھارتی جارحیت کی صورت میں ملک کے دفاع میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جائے گی۔

پاکستان نے پٹھانکوٹ اور ممبئی حملوں سے متعلق کی جانے والی تحقیقات میں بھارت کے ساتھ تعاون کیا جب کہ بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس سمیت کئی واقعات میں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزامات لگائے لیکن جب ان واقعات کی تحقیقات کی گئی تو خود بھارتی باشندے اور بھارتی فوج کے اہلکار ان واقعات میں ملوث نکلے، بھارت کی طرف سے پاکستان میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے اور شدت پسندی کو ہوا دینے کے متعدد ثبوت موجود ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کو کلبھوشن یادیو سے حاصل تازہ معلومات سے آگاہ کیا جا رہا ہے' کلبھوشن سے تحقیقات مکمل ہونے پر ڈوزئیر بانکی مون کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بھارتی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے پاکستان کے خلاف کوئی شرارت کی تو اس کا انھیں بھرپور جواب دیا جائے گا' بھارتی جرنیل اپنی حکومت سے یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان پر کسی قسم کا حملہ مہنگا پڑ سکتا ہے۔

بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ جدید ترین ہتھیاروں اور میزائلوں سے لیس ہے لہٰذا جنگ کی صورت میں اگر پاکستان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو بھارت بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔ اگر ایٹمی اور دیگر مہلک ہتھیار استعمال ہوتے ہیں تو پھر اس جنگ میں نہ کوئی فاتح ہو گا اور نہ مفتوح' بس ہر طرف تباہی ہی تباہی کے خوفناک مناظر ہوں گے۔

پٹھانکوٹ پر ہونے والے حملے کے بعد تحقیقات کے دوران بھارتی حکام نے یہ خود تسلیم کیا تھا کہ پاکستان کی حکومت کسی بھی طور اس میں ملوث نہیں یہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کی کارروائی ہے۔ اڑی حملہ بھی نان اسٹیٹ ایکٹرز کی کارروائی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ہوش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں ملک جنگ کے آپشن کو ڈکشنری سے نکال کر تنازعات کے حل کے آپشن کی طرف بڑھیں۔ تنازعات حل کرنے کا بہترین طریقہ مذاکرات ہیں۔ پاکستان بھارت کو بار بار مذاکرات کی دعوت دے رہا لیکن بھارتی حکومت مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار نہیں۔ بھارت کے پالیسی سازوں کو خطے میں قیام امن کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔

 
Load Next Story