ترقیاتی پروگرام پر سندھ اور کے پی کے تحفظات

وفاق دونوں صوبوں سے بات کرے ان کے تحفظات دور کیے جائیں

ایک اخباری اطلاع کے مطابق وزیراعظم کے قومی ترقیاتی پروگرام برائے 2016-17کی سندھ اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے حمایت نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اسے ایک سیاسی حربہ قرار دیا ہے، رپورٹ میں سرکاری ذرایع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دونوں صوبائی حکومتوں نے عدم رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے پروگرام کے سلسلہ میں تعاون کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ اور خیبر پختونخوا ترقیاتی پروگرام کو وفاقی حکومت کے انتخابی مہم کا حصہ سمجھتے ہیں تا کہ اس کے ذریعے ووٹرز کی بڑی تعداد کے دل جیتے جا سکیں۔ واضح رہے قومی ترقیاتی پروگرام کے تحت جس کا اعلان وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت 31 اگست2016 کو کابینہ کے اجلاس میں ہوا تھا دیہات کو بجلی فراہم کی جائیگی، جب کہ وفاقی حکومت پیکیج کے تحت پایہ تکمیل کو پہنچنے والے منصوبوں کے لیے مساوی فنڈز مہیا کریگی جو گیس، بجلی، قدرتی وسائل اور سوشل سیکٹر میں منصوبوں کے لیے خرچ کیے جائیں گے، صوبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس دیرپا ترقیاتی پروگرام کے لیے اپنے وسائل شیئر کریں جس کے بغیر اس پر عمل درآمد ممکن نہیں، اس ضمن میں پالیسی گائیڈ لائنز کی تیاری کے بعد منصوبوں کا اعلان کیا جائیگا۔


رپورٹ کے مطابق انفرادی منصوبہ کم سے کم 2.5 ملین روپے سے شروع ہوگا جب کہ 30 ملین روپے سے زاید لاگت کے منصوبوں کو غور کے لیے وزیراعظم کو بھیجا جائیگا۔ کابینہ کے توسط سے صوبوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اس پروگرام میں وسائل سمیت شریک ہوں تاکہ ترقیاتی ایجنڈہ کی تکمیل ہوسکے تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سندھ و خیبر پختونخوا کی حکومتوں کے تحفظات اور خدشات بدستور موجود ہیں جن کے ازالے کے لیے وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت6 ستمبرکو ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اس بات پر زور دیا کہ اس قومی ترقیاتی پیکیج کو سیاسی ایشو نہ بنایا جائے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاق دونوں صوبوں سے بات کرے ان کے تحفظات دور کیے جائیں، تاکہ عوامی فلاح و بہبود اور انفرااسٹرکچرسمیت دیگر منصوبوں پر کام جلد شروع ہو ۔ صوبوں کو مزاحمانہ طرز عمل کے بجائے مل بیٹھ کر ترقیاتی اسکیموں کے قابل عمل پہلوؤں پر اتفاق رائے کا ماحول پیدا کرنا چاہیے۔ ضروری نہیں کہ ہر مسئلہ کالا باغ ڈیم کی طرح اچھا لا جائے اور ملکی ترقی اور کم ترقی یافتہ علاقے ڈیولپمنٹ کو ترستے رہ جائیں، اگر پیکیج کی تفصیل پر عدم اتفاق اور عدم تعاون کی بنیادی وجہ وفاق اور دونوں صوبوں کے مابین رابطہ ، مشاورت کے میکنزم، خیر سگالی اور اعتماد کے فقدان کا ہے تو اسے دور کرنے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
Load Next Story