نریندر مودی کانیا پینترا

امریکا‘ برطانیہ‘ یورپی یونین اور روس پاک بھارت معاملات میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں

فوٹو: فائل

KARACHI:
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اڑی حملے کے بعد خطے میں جنگ کا ماحول بنا دیا تھا' جمعرات کو وزیراعظم نریندر مودی ملٹری آپریشن روم گئے جہاں انھوں نے سارا دن گزارا اور لائن آف کنٹرول پر فوج کی نقل و حرکت کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا۔ پھر جمعے کو بھارت کی آرمڈ فورسز کے کمانڈرز نے دہلی میں ان سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیار اگلے مورچوں پر پہنچائے جا رہے تھے' جہاں سے آزاد کشمیر میں پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

بھارتی فوج کی اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل و حمل سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی عملی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ بھارت کی ان جنگی تیاریوں اور دھمکیوں کے پیش نظر پاکستانی فوج بھی الرٹ ہو گئی اور بھارت پر واضح کر دیا اگر اس نے سرجیکل اسٹرائیکس کے نام پر کوئی بھی غلطی کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔یہ خطرہ تھا کہ ابھی جنگ چھڑی،ابھی چھڑی لیکن ہفتے کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جنوبی ریاست کیرالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بڑی مہارت سے پینترا بدلا اور پاکستان کو جنگ بھول کر غربت اور جہالت سے لڑنے کی دعوت دے ڈالی۔

گزشتہ چند روز سے بھارتی حکومت نے جو جنگی ماحول بنا رکھا تھا' نریندر مودی کی تقریر کے بعد صورت حال میں تبدیلی آئی ہے' ایسا لگتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم پر حقائق واضح ہو گئے ہیں' امکان یہی ہے کہ بھارتی فوج نے انھیں گرین سگنل نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پینترا بدلنے پر مجبور ہو گئے۔ بہر حال کیرالہ میں اپنی تقریر میں انھوں نے پاکستان کے بارے میں سخت لب و لہجہ اختیار کیا۔


پاکستان کو غربت کے خلاف جنگ لڑنے کی دعوت دیتے ہوئے وہ اپنے تعصب پر قابو نہ پا سکے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ ڈالا کہ وہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے میں کامیاب ہو گئے' انھوں نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دیا۔ جہاں تک جنگ بھولنے کا تعلق ہے تو یہ امر مدنظر رہنا چاہیے کہ سارا جنگی ماحول بھارت ہی نے پیدا کیا تھا پاکستان تو اب بھی اسے اڑی حملے کی تحقیقات میں اپنے بھرپور تعاون اور متنازعہ معاملات پر مذاکرات کی دعوت دے رہا ہے۔ یہ بھارت ہی ہے جو مذاکرات کی راہ سے فرار اختیار کر کے جنگ کی دھمکیاں دینے پر تلا ہوا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ کسی بھی حملے کے بعد بھارت ہمیشہ تحقیقات سے قبل ہی پاکستان کے ملوث ہونے کا اعلان کر دیتا ہے' ان کا مطالبہ ہے اس حملے کی بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائے تاکہ غیرجانبدارانہ تفتیش ہو سکے' اڑی کے جس علاقے میں حملہ ہوا وہاں بھارتی فوج اتنی بڑی تعداد میں تعینات ہے کہ وہاں سے کسی قسم کی دراندازی نا ممکن ہے۔ ادھر امریکا میں ترجمان وائٹ ہاؤس جوش ارنسٹ نے پاکستان اور بھارت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک اپنے مسائل کا حل تشدد کے بجائے سفارتکاری کے ذریعے نکالیں۔

امریکا بیانات تک محدود رہنے کے بجائے بھارت پر حقیقی معنوں میں دباؤ ڈالے کہ وہ سفارت کاری کی جانب آئے۔امریکا کے صدر اوباما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جو تقریر کی اس میں انھوں نے کشمیر اور افغانستان کا نام نہیں دیا۔ اگر وہ وہاں تنازع کشمیر کا ذکر کر دیتے اور وہی کچھ کہہ دیتے جووائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے تو بھارتی حکمرانوں پر خاصی حد تک صورت حال واضح ہو جانی تھی۔بہر حال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر جلد ہی یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان کا جنگ کے ذریعے پاکستان کو دباؤ میں لانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔بھارت کے اندر جہاں انتہا پسند جنگ کا شور مچا رہے تھے وہیں جنگ کے مخالفین بھی نریندر مودی اور بی جے پی کے انتہا پسندوں کو آڑے ہاتھوں سے لے رہے تھے۔ لہٰذا حقیقت سامنے آنے پر نریندر مودی کو پاکستان کے ساتھ جنگ کا راستہ چھوڑ کر متنازعہ امور طے کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے جس میں اس خطے کی بقا اور سلامتی مضمر ہے۔

امریکا' برطانیہ' یورپی یونین اور روس پاک بھارت معاملات میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں' یہ بات واضح ہے کہ جب تک تنازعہ کشمیر طے نہیں ہوتا' پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات نارمل نہیں ہو سکتے' بھارت اگر چاہتا ہے کہ اس کے لیے وسط ایشیا کی منڈیاں کھل جائیں اور پاکستان اسے ایف ایم این اسٹیٹس دے دے تو اسے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر تنازعہ کشمیر اور دیگر تنازعات طے کرنا ہوں گے۔
Load Next Story