آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے قرض کی آخری قسط کی منظوری دیدی

پاکستان نےآیہ اہ، اہف کے ساتھ پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا ہے جس کے بعد پاکستان آئی ایم ایف سے آزاد ہوگیا ہے

قرضے کی آخری قسط ملنے کے بعد اب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام سے نکل جائے گا، وزارت خزانہ فوٹو: فائل

JOHARABAD:
پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے ساتھ پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا ہے جس کے بعد پاکستان آئی ایم ایف سے آزاد ہوگیا ہے تاہم آرٹیکل فورکے تحت مشاورت اور جائزہ جاری رہے گا۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے بارہویں اورآخری اقتصادی جائزہ کی منظوری دیتے ہوئے دس کروڑ20 لاکھ ڈالرکی آخری قسط جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ گزشتہ روزمنعقد ہونیوالے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن اورپاکستان کی اقتصادی ٹیم کے درمیان 3 سالہ ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کے تحت بارہویں اورآخری اقتصادی جائزہ مذاکرات ہوئے جس میں اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کی گئی۔


ایگزیکٹوبورڈ نے آئی ایم ایف جائزہ مشن کی پاکستان کے بارہویں اقتصادی جائزہ رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد منظوری دیدی ہے۔ پاکستان کو دس کروڑ بیس لاکھ ڈالرکی آخری قسط اگلے دودن میں منتقل ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت بننے کے بعد آئی ایم ایف نے تین سالہ ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تحت 6.15 ارب ڈالرکے قرضے کی منظوری دی تھی جو پاکستان کو اقساط میں ملنا تھا اور ہر قسط کیلئے پاکستان کو آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنا تھیں۔

پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ یہ پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا ہے ۔وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق قرضے کی آخری قسط ملنے کے بعد اب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام سے نکل جائیگا البتہ اس کے بعد آرٹیکل فور کے تحت اقتصادی کارکردگی کا جائزہ جاری رہے گا ۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ پندرہ سال کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ مکمل ہونے والا یہ پاکستان کا پہلا پروگرام ہوگا ۔اس سے قبل پاکستان نے 2001ء میں آئی ایم ایف کے ساتھ ایک سال کا سٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام مکمل کیا تھا۔
Load Next Story