رائیونڈ مارچ تصادم سے بچا جائے
پی ٹی آئی نے دھرنے اور جلسے جلوسوں کی مزاحمتی سیاست کی نئی روایت ڈالی ہے
۔ فوٹو؛ فائل
پی ٹی آئی نے رائیونڈ مارچ کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، جس کے لیے جوش وخروش کی فضا انتہا کو پہنچ گئی ہے، نعرے نغمے گونج رہے ہیں، پارٹی کی ہدایت کے مطابق بیشتر قافلے لاہور پہنچ چکے ہیں، شہر لاہور جھنڈیوں، بینروں، پوسٹروں اور بل بورڈز سے سجایا گیا ہے، بڑی سیاسی ہلچل ہے جسے جمہوریت کا حسن کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا، اپوزیشن احتجاج کا آئینی حق رکھتی ضرور ہے۔
پی ٹی آئی نے دھرنے اور جلسے جلوسوں کی مزاحمتی سیاست کی نئی روایت ڈالی ہے، جملہ سیکیورٹی انتظامات کے لیے تحریک انصاف کے عہدیداروں نے ذمے داری اٹھائی ہے تاہم صوبائی حکومت کے ساتھ اشتراک عمل کی یقین دہانی بھی کرائی ہے جب کہ چیف سیکریٹری پنجاب نے زور دیا ہے کہ مارچ پر امن ہونا چاہیے، کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جائے گی۔
ادھر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں، میرے لیے نہیں ملک کے لیے کل سب کو رائیونڈ آنا ہو گا، 30 ستمبر کو نتائج نہیں ملتے تو پھر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، پاناما لیکس پر بھرپور قانونی جنگ لڑینگے، کرپشن سے متعلق تمام ثبوت عدالت کے سامنے رکھیں گے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ انصاف کے تمام ادارے ڈرے ہوئے ہیں، ہم نے اداروں کو متحرک کرنا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے کل رائے ونڈ لاہور کے ایک مقام اڈہ پلاٹ پر جلسہ کے لیے انتظامات مکمل کر لیے ہیں، تینوں صوبوں، آزاد کشمیر سمیت پنجاب کے دور دراز علاقوں سے روانہ ہونے والے کارکنوں کے سیکڑوں گاڑیوں پر مشتمل قافلے آج لاہور پہنچ رہے ہیں۔
ضلع انتظامیہ نے تحریک انصاف کو رائیونڈ اڈا پلاٹ پر جلسے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے 39 نکاتی ضابطہ اخلاق منتظمین کے حوالے کر دیا جس کے مطابق قانون نافذ کرنیوالے اداروں، فوج اور عدلیہ کے خلاف تقاریر نہیں کی جائیں گی جب کہ کسی ناخوشگوار واقعے کی ذمے دار پی ٹی آئی ہو گی تاہم یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ رائیونڈ مارچ ایسے کڑے وقت میں ہو رہا ہے جب پوری قوم ایک آزمائش سے گزر رہی ہے۔
بھارت پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، وطن عزیز حالت جنگ میں ہے اور کوئی بھی بھارتی چنگاری خطے کے امن اور دو ارب آبادی کے اس کرہ ارض کے لیے تباہی و بربادی کا سامان لا سکتی ہے۔ چنانچہ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے لیے یہ گھڑی امتحان کی ہے، سیاست، ایجی ٹیشن، لانگ مارچ، جلسے جلوس سب جمہوری عمل کا حصہ ہیں مگر ملکی سالمیت، داخلی امن و استحکام اور قومی یکجہی کی جتنی ضرورت ملک کو آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔
حکومت پنجاب کو اس مرحلے پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی قسم کے ایسے اقدام سے بچنا چاہیے جس سے تصادم کی صورتحال پیدا ہو۔سیاسی احتجاج اور کرپشن اور پاناما آف شور کمپنیوں اور غیر ملکی املاک کے خلاف مارچ تو یہ اگر جمہوری اسپرٹ، رواداری اور امن اور قومی یکجہتی کے عظیم مشن کے تناظر میں اختتام پذیر ہو تو اس کا کریڈٹ پی ٹی آئی کو ہی جائے گا۔ لہٰذا کوشش ہونی چاہیے کہ مارچ پرامن اور پر جوش جمہوری طریقے سے اختتام کو پہنچے۔
پی ٹی آئی نے دھرنے اور جلسے جلوسوں کی مزاحمتی سیاست کی نئی روایت ڈالی ہے، جملہ سیکیورٹی انتظامات کے لیے تحریک انصاف کے عہدیداروں نے ذمے داری اٹھائی ہے تاہم صوبائی حکومت کے ساتھ اشتراک عمل کی یقین دہانی بھی کرائی ہے جب کہ چیف سیکریٹری پنجاب نے زور دیا ہے کہ مارچ پر امن ہونا چاہیے، کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جائے گی۔
ادھر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں، میرے لیے نہیں ملک کے لیے کل سب کو رائیونڈ آنا ہو گا، 30 ستمبر کو نتائج نہیں ملتے تو پھر اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، پاناما لیکس پر بھرپور قانونی جنگ لڑینگے، کرپشن سے متعلق تمام ثبوت عدالت کے سامنے رکھیں گے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ انصاف کے تمام ادارے ڈرے ہوئے ہیں، ہم نے اداروں کو متحرک کرنا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے کل رائے ونڈ لاہور کے ایک مقام اڈہ پلاٹ پر جلسہ کے لیے انتظامات مکمل کر لیے ہیں، تینوں صوبوں، آزاد کشمیر سمیت پنجاب کے دور دراز علاقوں سے روانہ ہونے والے کارکنوں کے سیکڑوں گاڑیوں پر مشتمل قافلے آج لاہور پہنچ رہے ہیں۔
ضلع انتظامیہ نے تحریک انصاف کو رائیونڈ اڈا پلاٹ پر جلسے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے 39 نکاتی ضابطہ اخلاق منتظمین کے حوالے کر دیا جس کے مطابق قانون نافذ کرنیوالے اداروں، فوج اور عدلیہ کے خلاف تقاریر نہیں کی جائیں گی جب کہ کسی ناخوشگوار واقعے کی ذمے دار پی ٹی آئی ہو گی تاہم یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ رائیونڈ مارچ ایسے کڑے وقت میں ہو رہا ہے جب پوری قوم ایک آزمائش سے گزر رہی ہے۔
بھارت پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، وطن عزیز حالت جنگ میں ہے اور کوئی بھی بھارتی چنگاری خطے کے امن اور دو ارب آبادی کے اس کرہ ارض کے لیے تباہی و بربادی کا سامان لا سکتی ہے۔ چنانچہ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے لیے یہ گھڑی امتحان کی ہے، سیاست، ایجی ٹیشن، لانگ مارچ، جلسے جلوس سب جمہوری عمل کا حصہ ہیں مگر ملکی سالمیت، داخلی امن و استحکام اور قومی یکجہی کی جتنی ضرورت ملک کو آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔
حکومت پنجاب کو اس مرحلے پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی قسم کے ایسے اقدام سے بچنا چاہیے جس سے تصادم کی صورتحال پیدا ہو۔سیاسی احتجاج اور کرپشن اور پاناما آف شور کمپنیوں اور غیر ملکی املاک کے خلاف مارچ تو یہ اگر جمہوری اسپرٹ، رواداری اور امن اور قومی یکجہتی کے عظیم مشن کے تناظر میں اختتام پذیر ہو تو اس کا کریڈٹ پی ٹی آئی کو ہی جائے گا۔ لہٰذا کوشش ہونی چاہیے کہ مارچ پرامن اور پر جوش جمہوری طریقے سے اختتام کو پہنچے۔