گڈز ٹرانسپورٹرز کا سپر ہائی وے پر دھرنا 2گاڑیاں نذر آتش بد ترین ٹریفک جام
احتجاج موٹروے پولیس اور ٹریفک پولیس کے نارواسلوک و رشوت ستانی کے خلاف کیا گیا.
گڈزٹرانسپورٹرز نے احتجاجاً کاٹھور سپرہائی پرٹرک اورٹریلرز کھڑے کرکے سڑک بلاک کردی جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ فوٹو: ایکسپریس
گڈز ٹرانسپورٹرز نے موٹروے پولیس اور ٹریفک پولیس کے نارواسلوک و رشوت ستانی کے خلاف پیر کو احتجاجی ریلی ماڑی پور ٹرک اسٹینڈ سے سپرہائی وے کاٹھور موڑ تک نکالی۔
جہاں مشتعل افراد نے دھرنا دے کر ٹریفک معطل کر دیا، اس موقع پر نامعلوم افراد نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے موٹروے پولیس کی موبائل سمیت2 گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا جبکہ لاٹھی ، ڈنڈے اور پتھرائو سے کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے ، ہنگامہ آرائی کے باعث سپر ہائی وے کا علاقہ کئی گھنٹوں تک میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا،اس دوران کراچی اور حیدر آباد کا زمینی راستہ 4 گھنٹوں سے زائد معطل رہا اور اس کا خمیازہ مسافروں اور دیگر شہریوں نے شدید مشکلات اور طویل انتظار کی صورت میں برداشت کیا، سپر ہائی وے پر ہنگامہ آرائی کے باعث حیدر آباد سے کراچی آنے اور جانے والی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
جس کے باعث سپر ہائی وے پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا، تفصیلات کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے مسلسل نویں روز گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال رہی اور کراچی پورٹ وپورٹ قاسم پر مال بردار گاڑیوں میں لوڈنگ یا سامان اتارنے کا عمل مکمل طور پر بند رہا، گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات منظور نہ ہونے کے باعث پیر کو ہاکس بے ٹرک اسٹینڈ گیٹ نمبر 4سے ریلی نکالی، ہزاروں ٹرانسپورٹرز اپنے ٹرک وٹرالرز سمیت ہاکس بے کاٹھور کے مقام پر جمع ہوئے جہاں انھوں نے کئی گھنٹوں تک دھرنا دیا اور مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبات کی منظوری کیلیے نعرے بازی کی، ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ ریلی کے آغاز پر نادرن بائی پاس کے مقام پر پولیس نے ریلی کو روکنے کی کوشش کی تاہم ریلی کے شرکا کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باعث پولیس اپنی کوشش میں ناکام رہی۔
انھوں نے کہاکہ ریلی میں تقریباً 13 ہزار ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیوں سمیت شریک تھے، یونائیٹڈ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر خالدخان نے بتایا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی مسلسل نویں روز ہڑتال کے باعث خام واجناس کی رسد وفراہمی مکمل طور پر بند ہے تاہم ابھی تک وفاقی وصوبائی حکومت نے رابطہ نہیں کیا، صرف درآمد وبرآمدکنندگان نے رابطہ کرکے ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی ہے، انھوں نے کہاکہ موٹروے پولیس وٹریفک پولیس کی جانب سے بلاجواز جرمانے، رشوت ستانی اور ہائی ویز پر بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں کے خلاف ہڑتال کرنے پر مجبور ہیں،۔
انھوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو موٹروے کی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں تاہم موٹروے پولیس بلاجواز بھاری جرمانے عائد کرتی ہے، انھوں نے کہاکہ شہر کی اندرونی شاہراہوں پر ٹریفکپولیس ناکے لگاکر ٹرانسپورٹرز کو تنگ کرتے ہیں اور رشوت طلب کرتے ہیں، خالد خان نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز ہڑتال مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی دریں اثنا گڈز ٹرنسپورٹرز کی جانب سے سپر ہائی کاٹھور موڑ کے قریب احتجاجی کے دوران نامعلوم افراد نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے 2 گاڑیوں کو نذر آتش کردیا جبکہ لاٹھی ، ڈنڈوں اور پتھرائو کر کے کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے ۔
جہاں مشتعل افراد نے دھرنا دے کر ٹریفک معطل کر دیا، اس موقع پر نامعلوم افراد نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے موٹروے پولیس کی موبائل سمیت2 گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا جبکہ لاٹھی ، ڈنڈے اور پتھرائو سے کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے ، ہنگامہ آرائی کے باعث سپر ہائی وے کا علاقہ کئی گھنٹوں تک میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا،اس دوران کراچی اور حیدر آباد کا زمینی راستہ 4 گھنٹوں سے زائد معطل رہا اور اس کا خمیازہ مسافروں اور دیگر شہریوں نے شدید مشکلات اور طویل انتظار کی صورت میں برداشت کیا، سپر ہائی وے پر ہنگامہ آرائی کے باعث حیدر آباد سے کراچی آنے اور جانے والی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
جس کے باعث سپر ہائی وے پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا، تفصیلات کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے مسلسل نویں روز گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال رہی اور کراچی پورٹ وپورٹ قاسم پر مال بردار گاڑیوں میں لوڈنگ یا سامان اتارنے کا عمل مکمل طور پر بند رہا، گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات منظور نہ ہونے کے باعث پیر کو ہاکس بے ٹرک اسٹینڈ گیٹ نمبر 4سے ریلی نکالی، ہزاروں ٹرانسپورٹرز اپنے ٹرک وٹرالرز سمیت ہاکس بے کاٹھور کے مقام پر جمع ہوئے جہاں انھوں نے کئی گھنٹوں تک دھرنا دیا اور مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبات کی منظوری کیلیے نعرے بازی کی، ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ ریلی کے آغاز پر نادرن بائی پاس کے مقام پر پولیس نے ریلی کو روکنے کی کوشش کی تاہم ریلی کے شرکا کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باعث پولیس اپنی کوشش میں ناکام رہی۔
انھوں نے کہاکہ ریلی میں تقریباً 13 ہزار ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیوں سمیت شریک تھے، یونائیٹڈ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر خالدخان نے بتایا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی مسلسل نویں روز ہڑتال کے باعث خام واجناس کی رسد وفراہمی مکمل طور پر بند ہے تاہم ابھی تک وفاقی وصوبائی حکومت نے رابطہ نہیں کیا، صرف درآمد وبرآمدکنندگان نے رابطہ کرکے ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی ہے، انھوں نے کہاکہ موٹروے پولیس وٹریفک پولیس کی جانب سے بلاجواز جرمانے، رشوت ستانی اور ہائی ویز پر بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں کے خلاف ہڑتال کرنے پر مجبور ہیں،۔
انھوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو موٹروے کی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں تاہم موٹروے پولیس بلاجواز بھاری جرمانے عائد کرتی ہے، انھوں نے کہاکہ شہر کی اندرونی شاہراہوں پر ٹریفکپولیس ناکے لگاکر ٹرانسپورٹرز کو تنگ کرتے ہیں اور رشوت طلب کرتے ہیں، خالد خان نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز ہڑتال مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی دریں اثنا گڈز ٹرنسپورٹرز کی جانب سے سپر ہائی کاٹھور موڑ کے قریب احتجاجی کے دوران نامعلوم افراد نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے 2 گاڑیوں کو نذر آتش کردیا جبکہ لاٹھی ، ڈنڈوں اور پتھرائو کر کے کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے ۔