گڈزٹرانسپورٹ کی ہڑتال اجناس سمیت تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
این ایچ اے نے اچانک زیادہ لوڈنگ کے نام پر ٹرکوں سے د گنی ٹول فیس لینا شروع کردی
فیکٹریوں میں تیار مال مارکیٹ تک نہ پہنچائے جانے کی وجہ سے مارکیٹ میں اشیاء کی قلت پیدا ہوگئی ہے. فوٹو: ایکسپریس / فائل
PESHAWAR:
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے اچانک زیادہ لوڈنگ کے نام پر فیکٹریوں تک خام مال اور منڈیوں سے مارکیٹ تک اجناس لے جانے والے ٹرکوں سے د گنی ٹول فیس لینا شروع کردی گئی ہے۔
جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ اس کے اثرات عوام کو بھگتنا پڑیں گے، روز مرہ اجناس سمیت تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا،کراچی میں گندم کی ترسیل بھی رک گئی جس سے آٹے کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اس فیصلے کی وجہ سے ملک کی تمام صنعتیں بشمول زراعت، ٹیکسٹائل، اسٹیل، سیمنٹ، شوگر، ماربل، الیکٹرانک، انجینئرنگ اور دیگر صنعتیں متاثر ہوئی ہیں، آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ آنرز ایسوسی ایشن نے پہلے ہی سیمنٹ انڈسٹری کو این ایچ اے کے غیر منصفانہ سلوک کی وجہ سے خام مال پہنچانے سے انکار کردیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ ٹول میں دگنا اضافہ یا لوڈ کم کرنے پر این ایچ اے کا اصرار غیر منطقی ہے، ذرائع کے مطابق اتھارٹی کے فیصلے کی وجہ سے ملک میں سیمنٹ کی قیمتیں فی بیگ دسروپے سے 30 روپے مزید بڑھ جائیں گی، سیمنٹ کے کارخانوں کو خام مال پہنچانے والے ٹرکوں کو دگنا کرایہ دینا پڑ رہا ہے۔
سیمنٹ کے کارخانوں کو کوئلے کی شدید کمی کا سامنا ہے کیونکہ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے گزشتہ ایک ہفتے سے این ایچ اے کے خلاف ہڑتال کی ہوئی ہے جبکہ فیکٹریوں میں تیار مال مارکیٹ تک نہ پہنچائے جانے کی وجہ سے مارکیٹ میں اشیاء کی قلت پیدا ہوگئی ہے،ذرائع کے مطابق عوام کو مہنگائی کا مزید سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ گندم فلور ملوں تک نہ پہنچنے کی وجہ سے آٹے کی قلت پیدا ہوجائے گی، اس کے علاوہ شوگر ملیں، کھانے پینے کی دیگر اشیاء تیار کرنے والی صنعتیں اور فیکٹریاں خام مال نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ تیار کیا ہوا مال فیکٹریوں میں خراب ہورہا ہے اور دوسری طرف مارکیٹ میں بھی قلت کا سامنا ہے،ذرائع کے مطابق این ایچ اے کے فیصلے کی وجہ سے سپلائی اور رسد کا توازن بگڑ جائے گا۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے اچانک زیادہ لوڈنگ کے نام پر فیکٹریوں تک خام مال اور منڈیوں سے مارکیٹ تک اجناس لے جانے والے ٹرکوں سے د گنی ٹول فیس لینا شروع کردی گئی ہے۔
جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ اس کے اثرات عوام کو بھگتنا پڑیں گے، روز مرہ اجناس سمیت تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا،کراچی میں گندم کی ترسیل بھی رک گئی جس سے آٹے کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اس فیصلے کی وجہ سے ملک کی تمام صنعتیں بشمول زراعت، ٹیکسٹائل، اسٹیل، سیمنٹ، شوگر، ماربل، الیکٹرانک، انجینئرنگ اور دیگر صنعتیں متاثر ہوئی ہیں، آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ آنرز ایسوسی ایشن نے پہلے ہی سیمنٹ انڈسٹری کو این ایچ اے کے غیر منصفانہ سلوک کی وجہ سے خام مال پہنچانے سے انکار کردیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ ٹول میں دگنا اضافہ یا لوڈ کم کرنے پر این ایچ اے کا اصرار غیر منطقی ہے، ذرائع کے مطابق اتھارٹی کے فیصلے کی وجہ سے ملک میں سیمنٹ کی قیمتیں فی بیگ دسروپے سے 30 روپے مزید بڑھ جائیں گی، سیمنٹ کے کارخانوں کو خام مال پہنچانے والے ٹرکوں کو دگنا کرایہ دینا پڑ رہا ہے۔
سیمنٹ کے کارخانوں کو کوئلے کی شدید کمی کا سامنا ہے کیونکہ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے گزشتہ ایک ہفتے سے این ایچ اے کے خلاف ہڑتال کی ہوئی ہے جبکہ فیکٹریوں میں تیار مال مارکیٹ تک نہ پہنچائے جانے کی وجہ سے مارکیٹ میں اشیاء کی قلت پیدا ہوگئی ہے،ذرائع کے مطابق عوام کو مہنگائی کا مزید سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ گندم فلور ملوں تک نہ پہنچنے کی وجہ سے آٹے کی قلت پیدا ہوجائے گی، اس کے علاوہ شوگر ملیں، کھانے پینے کی دیگر اشیاء تیار کرنے والی صنعتیں اور فیکٹریاں خام مال نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ تیار کیا ہوا مال فیکٹریوں میں خراب ہورہا ہے اور دوسری طرف مارکیٹ میں بھی قلت کا سامنا ہے،ذرائع کے مطابق این ایچ اے کے فیصلے کی وجہ سے سپلائی اور رسد کا توازن بگڑ جائے گا۔