اقوام متحدہ اور ویٹو پاورز کی ذمے داری
کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر بطور عالمی تنازعے کے گذشتہ سات دہائیوں سے موجود ہے
۔ فوٹو:فائل
ISLAMABAD:
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ویٹو پاور کے حامل ممالک کے اسلام آباد میں تعینات سفیروں کو کنٹرول لائن کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا کے سفیروں کو کنٹرول لائن پر پیش آنیوالے حالیہ واقعات پر بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان میں بھارت کی دہشتگردانہ سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان پر زور دیا ہے کہ بھارتی جارحیت کے پیش نظر اس خطے میں قیام امن کے لیے وہ اپنا کردار ادا کریں۔ ادھر سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو کنٹرول لائن کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار کرتا ہے جب کہ پاکستان کا تقاضہ ہے کہ یو این مبصرین کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب امریکا نے بھارت کے آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کے بعد دونوں ممالک پر کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے خیال میں حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے ان رابطوں کا جاری رہنا بہت ضروری ہے لہٰذا دونوں ممالک کو ہمارا پیغام یہی ہو گا کہ وہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔
امریکی ترجمان کے بیان کا اگر تجزیہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ درپردہ وہ بھارت کی حمایت کر رہے ہیں۔ امریکا کا بار بار مذاکرات پر زور دینا جب کہ بھارت مذاکرات کے لیے تیار ہی نہیں۔
اس حقیقت کے باوجود کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر بطور عالمی تنازعے کے گذشتہ سات دہائیوں سے موجود ہے لیکن بھارت مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے پر مصر ہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے مقبوضہ ریاست میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی ضمیر نے بھی اس ظلم وتشدد اور صریح بے انصافی سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
یہ کہنا تو بہت آسان ہے کہ ایٹمی طاقت کی حامل ریاستوں کو جوہری ہتھیاروں اور میزائل ٹیکنالوجی کے استعمال کے سلسلے میں ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر اشتعال کا باعث بننے والے عوامل کو ہی ٹھیک نہیں کیا جاتا، اس وقت تک جنگ کے خطرات تو موجود رہیں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی بھارتی رویے پر رنجیدہ ہیں جب کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پانچ بڑوں کو بھی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہے لیکن یہ سب سوائے بیانات جاری کرنے یا کسی اجلاس میں بیٹھ کر مسائل پر غور کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔ بھارت کی اشتعال انگیزیاں مسلسل جاری ہیں، وہ سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا دعویٰ مسلسل کر رہا ہے۔
پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ایسی نقل و حرکت کر رہا ہے جیسے جنگ ہونیوالی ہے۔ پاکستان میں ہونیوالی سارک سربراہ کانفرنس کو وہ ملتوی کرا چکا ہے۔ ایسے حالات میں محض پاکستان کو مشورہ دینا کہ وہ صبر سے کام لے، عجیب منطق ہے۔ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور مسئلہ کشمیر حل کروانا ہو گا۔ اگر تنازع کشمیر حل ہو جاتا ہے تو پورے خطے میں امن قائم ہو جائے گا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ویٹو پاور کے حامل ممالک کے اسلام آباد میں تعینات سفیروں کو کنٹرول لائن کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا کے سفیروں کو کنٹرول لائن پر پیش آنیوالے حالیہ واقعات پر بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان میں بھارت کی دہشتگردانہ سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان پر زور دیا ہے کہ بھارتی جارحیت کے پیش نظر اس خطے میں قیام امن کے لیے وہ اپنا کردار ادا کریں۔ ادھر سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو کنٹرول لائن کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار کرتا ہے جب کہ پاکستان کا تقاضہ ہے کہ یو این مبصرین کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب امریکا نے بھارت کے آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کے بعد دونوں ممالک پر کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے خیال میں حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے ان رابطوں کا جاری رہنا بہت ضروری ہے لہٰذا دونوں ممالک کو ہمارا پیغام یہی ہو گا کہ وہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔
امریکی ترجمان کے بیان کا اگر تجزیہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ درپردہ وہ بھارت کی حمایت کر رہے ہیں۔ امریکا کا بار بار مذاکرات پر زور دینا جب کہ بھارت مذاکرات کے لیے تیار ہی نہیں۔
اس حقیقت کے باوجود کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر بطور عالمی تنازعے کے گذشتہ سات دہائیوں سے موجود ہے لیکن بھارت مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے پر مصر ہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے مقبوضہ ریاست میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی ضمیر نے بھی اس ظلم وتشدد اور صریح بے انصافی سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
یہ کہنا تو بہت آسان ہے کہ ایٹمی طاقت کی حامل ریاستوں کو جوہری ہتھیاروں اور میزائل ٹیکنالوجی کے استعمال کے سلسلے میں ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر اشتعال کا باعث بننے والے عوامل کو ہی ٹھیک نہیں کیا جاتا، اس وقت تک جنگ کے خطرات تو موجود رہیں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی بھارتی رویے پر رنجیدہ ہیں جب کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پانچ بڑوں کو بھی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہے لیکن یہ سب سوائے بیانات جاری کرنے یا کسی اجلاس میں بیٹھ کر مسائل پر غور کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔ بھارت کی اشتعال انگیزیاں مسلسل جاری ہیں، وہ سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا دعویٰ مسلسل کر رہا ہے۔
پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ایسی نقل و حرکت کر رہا ہے جیسے جنگ ہونیوالی ہے۔ پاکستان میں ہونیوالی سارک سربراہ کانفرنس کو وہ ملتوی کرا چکا ہے۔ ایسے حالات میں محض پاکستان کو مشورہ دینا کہ وہ صبر سے کام لے، عجیب منطق ہے۔ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور مسئلہ کشمیر حل کروانا ہو گا۔ اگر تنازع کشمیر حل ہو جاتا ہے تو پورے خطے میں امن قائم ہو جائے گا۔