مردم شماری لازم ہے

وفاقی حکومت نے ملک میں مردم شماری کے لیے مالی معاملات سمیت دیگر انتظامات مکمل کر لیے ہیں

۔ فوٹو؛ فائل

ISLAMABAD:
ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک میں مردم شماری کے لیے مالی معاملات سمیت دیگر انتظامات مکمل کر لیے ہیں، سرحدی حالات کے پیش نظر جونہی فوج کے جوانوں کی دستیابی ہو گی مردم شماری کرا دی جائے گی۔ اس سلسلے میں پاکستان شماریات بیورو کا 10 واں اجلاس گزشتہ روز چیئرمین گورننگ کونسل وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا۔ اس موقع پر چیف شماریات نے مردم شماری اور خانہ شماری کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ اجلاس کو بتایا گیا حکومت ملک میں مردم شماری کا مکمل ارادہ رکھتی ہے، اس حوالے سے مالی اور دیگر انتظامات کر لیے ہیں تاہم موجودہ سرحدی صورتحال کے پیش نظر فوج کی دستیابی کا انتظار ہے۔

یہ عجیب مضحکہ خیز صورتحال ہے قبل ازیں فوج کے آپریشن ضرب عضب میں مصروفیت کی وجہ سے مردم شماری سے معذرت کر لی گئی تھی حالانکہ اگر حکومت کا ارادہ مضبوط ہو تو نادرا کے ادارے کی توسیع کے ذریعے سارے ملک کی آبادی کے مکمل اعداد و شمار حاصل کیے جاسکتے ہیں جن میں سے بیشتر پہلے ہی نادرا کے ریکارڈ پر آ چکے ہوں گے۔


اس حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مردم شماری کی صورت میں انتخابی فہرستیں از سر نو تیار کرنا پڑیں گی جو کئی سیاسی پارٹیوں کو قبول نہیں۔ محکمہ شماریات کے اجلاس کو بتایا گیا شماریات بیورو نے شہری اور دیہی علاقہ فریم ورک پر کام شروع کرتے ہوئے653 اربن بلاکس کو مکمل اطلاعات کے ساتھ ڈیجیٹل کرنے اور رورل ایریا فریم کی ورکنگ شروع کر دی ہے، ابتک ایک لاکھ پندرہ ہزار بلاکس میں سے ساٹھ ہزار بلاکس پر کام مکمل ہو گیا، چیئرمین نے کونسل کے کام میں بہتری کے لیے کشمیر، گلگت بلتستان اور سندھ سے ماہرین شامل کرنیکی تجویز پیش کی۔ بہرحال کسی ملک کے لیے اپنے ترقیاتی منصوبے بنانے اور وفاقی محاصل کی تقسیم کے لیے اس کی آبادی کا درست تخمینہ انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان کی آبادی اٹھارہ سے بیس کروڑ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے' لیکن یہ محض ایک تخمینہ ہے۔یوں دیکھا جائے تو پاکستان میں جو ترقیاتی منصوبے بن رہے ہیں وہ بھی محض اندازوں پر مبنی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ملک میں جلد از جلد مردم شماری کرائی جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ پاکستان کی کل آبادی کتنی ہے۔ مردم شماری شفاف ہونی چاہیے اور اس میں کسی کمیونٹی یا قومیت کی تعداد کو بڑھانے یا گھٹانے سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ کسی کو گلہ شکوہ پیدا نہ ہو۔ ایسا اہتمام بھی ہونا چاہیے کہ کوئی غیرملکی بطور پاکستانی اپنا اندراج نہ کرا سکے۔
Load Next Story