جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے

عجیب سا لگتا ہے نا کہ جسم تو مارے تپش کے جل بھن رہا ہو اور اس کے باوجود بھی ’’قبا‘‘ گیلی ہو

barq@email.com

عجیب سا لگتا ہے نا کہ جسم تو مارے تپش کے جل بھن رہا ہو اور اس کے باوجود بھی ''قبا'' گیلی ہو بلکہ اس حد تک گیلی ہو کہ اس سے ٹپکنے والے قطرے پانامہ، دبئی اور سوئٹزر لینڈ تک پہنچ رہے ہو لیکن دنیا کے عجوبہ عجیب خطے بمقام پاکستان میں ایسا ہی ہو رہا ہے بلکہ اوپر والی جو ''قبا'' گیلی ہے وہ اندر والے آگ میں جھلستے ہوئے جسم ہی کا پسینہ ہوتا ہے اور یہ تو بتانے والی بات ہے ہی نہیں کہ ''پسینہ'' اصل میں خون ہی ہوتا ہے بلکہ خون کی ''بالائی'' سمجھ لیجیے یغنی

سنی سنائی بات نہیں یہ اپنے اوپر بیتی ہے

پھول نکلتے ہیں شعلوں سے ''کوئی'' آگ لگائے تو یہ اندازہ ہمیں ان خطوط سے ہو جاتا ہے جو ہفتے میں تقریباً دو یا تین کی تعداد میں آتے ہیں جو اس غرض کے لیے بھیجے جاتے ہیں کہ ہم ان کو اپنے کالم میں شایع کریں تاکہ یہ فریاد کسی کے کانوں تک پہنچ جائے اور ان کے دکھوں کا کچھ مداوا ہو، کتنے نادان ہیں یہ لوگ، نادان نہ ہوتے تو ان کا یہ حال کیوں ہوتا، کوئی دوا کے لیے ترس رہا ہے ۔

ان بے پناہ لمبے چوڑے اسپتالوں اور صحت کارڈوں اور روزانہ اخباروں میں ڈھول بجاتے ہوئے ''صحت کی سہولیات'' اور حکومت کے کارنامہ جات کے باوجود کوئی معذوری کا شکار ہے کسی کے گھر میں بن بیاہی بیٹیاں بیٹھی ہوئی ملک میں آزادی نسواں کے سیلاب سے فیض یاب ہو رہی ہیں، کسی کو بیروزگاری کا کتا بھنبھوڑ رہا ہے اور وہ چیخ رہا ہے کہ اے چائلڈ لیبر کے موضوع پر تقریریں کرنے والو این جی اوز کی لمبی لمبی چھ سلنڈر کی گاڑیوں میں ائرکنڈیشنڈ خدمت کرنے والو ہم نے تو تمہارے بھروسے پر چائلڈ لیبر کے بجائے تعلیم حاصل کی ہوئی ہے اب کچھ زیادہ نہیں ایسی کوئی نوکری دلا دو کہ ہم دو وقت کی روکھی سوکھی ہی کھا کما سکیں، ہم نے ایسے خطوں کو کالم میں جگہ دینا چھوڑ دیا ہے اس لیے نہیں کہ اخبار کی طرف سے کوئی ممانعمت ہے بلکہ اس لیے کہ

فائدہ کیا، سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
دوستی ''ظالم'' کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا

جو خطوط ہم نے شایع کیے جو دوسرے اخباروں اور کالموں میں آئے جو اخبارات میں ''فلاں فلاں'' سے درد مندانہ اپیلوں کی صورت میں آئے ان کا کیا کچھ بنا؟ کسی نے پڑھا؟ کسی نے سنا؟ بہروں کے آگے چیخنے اور اندھے کے آگے آنسو بہانے سے کبھی کچھ بنا ہے؟ جو اب بنے گا۔

رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہئے کہ آرزو کیا ہے؟

یہ جن جن سے اپیلیں کی جاتی ہیں کیا ان کو پتہ نہیں کہ ''جسم'' سے آگ نکل رہی ہے، وہ تو قبا ہے اسے کیسے پتہ نہیں ہو گا کہ جس ''جسم'' کے خون پسینے سے وہ تربتر ہو رہا ہے اس کا درجہ حرارت کیا ہے؟ سب کو سب کچھ پتہ ہے بلکہ اس ''سب کچھ'' کی بدولت تو ان کو ''جسم'' کا لبادہ بننے کا موقع ملا ہے اتنا اپنے بارے میں ان فریادیوں کو پتہ نہیں ہو گا جتنا ان ''فلاں فلاں'' کو ہے مثلاً ان فریادیوں کو پتہ نہیں کہ ان کی اس حالت کا ذمے دار کون ہے، لیکن فلاں فلاں کا پتہ ہے کیوں کہ مقتول کو یہ پتہ ہونا ضروری نہیں کہ اسے کس نے مارا ہے لیکن قاتل کو پتہ ہوتا ہے کہ میں نے کس کو مارا ہے اور کیوں مارا ہے ضروری نہیں کہ ہر کسی کو میرؔ کی طرح پتہ ہو کہ جس عطار کے لونڈے سے وہ دوا لے رہا ہے یہ سارا کچھ اسی عطار کے لونڈے کا کیا دھرا ہے، چنانچہ ''جسم'' کو بھی یہ پتہ نہیں کہ اس سے یہ جو آگ نکل رہی ہے یہ اسی اوپر والی گیلی قباء ہی نے لگائی ہوئی ہے ہم صرف سوچ کر رہ جاتے ہیں ایسا کیوں ہے صرف یہی سوچ کر رہ جاتے ہیں کہ


اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے
جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے

یہ کم بخت قبا ہی تو ہے جو ''برسات'' کی ایک بوند بھی جسم پر پڑنے نہیں دے رہی ہے سب کچھ اوپر ہی اوپر اپنے اندر جذب کر لیتی ہے اور بے چارا جسم آگ میں تپتے رہ جاتا ہے اور جسم کی یہ ''بے خبری'' ہی اس کی ساری بدنصیبی کی جڑ ہے اگر اسے پتہ چل جائے کہ یہ قبا ہی اسے تپا رہی ہے تو قبا کو تار تار کر کے پھینک نہیں دے گا، لیکن وہ بھی انجان بن رہے ہیں ایسے میں ہم درمیان والے کر بھی کیا سکتے ہیں اگر ہم نے کچھ کاغذ سیاہ کر دیے تو پڑھے گا کون؟ اور اگر پڑھ بھی لیا تو ''ہونہہ'' کہہ کر پھینک دے گا اور ہماری سادہ لوحی پر مسکرا دے گا کہ ان بے خبروں کو دیکھو جسے ہم جانتے نہیں؟ مطلب یہ کہ

سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں
کوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں

یہ ایک بھیڑ ہے جس میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے ہر کوئی دوڑ رہا ہے ہر ایک کو اپنی پڑی ہوئی ہے اگر ایسے میں کوئی گرتا ہے تو اس کی چیخ و پکار کا کوئی فائدہ نہیں کہ سب اسے دیکھ رہے ہیں لیکن دیکھنے کے باوجود اسے اٹھانے، سہارا دینے کے لیے کوئی رک نہیں سکتا اگر رکے گا تو خود اس کے کچلے جانے کا ڈر ہے ایسا نہیں کہ کسی کو گرے ہوؤں سے ہمدردی نہیں ہوتی وہ دیکھ بھی رہے ہیں دل میں ہمدردی بھی ہے لیکن پیچھے سے پڑنے والے دباؤ کو بھی محسوس کر رہا ہے

یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا ہے
مجھے گرا کے اگر تم نکل سکو تو چلو

اس لیے ہم نے ایسے خطوط کو شایع کرنا چھوڑ دیا ہے ممکن ہے وہ ہم سے بھی ناراض ہو جائیں گے لیکن ایک دن تو ان کو ہم تم سب سے ہو کر منہ موڑنا ہی ہے، اس وقت ہمارے سامنے جو تازہ ترین فریاد نامہ پڑا ہوا ہے اس نے لکھا ہے کہ اس نے جو بھی جتن ممکن تھے سب کر ڈالے ہیں زکوٰۃ و عشر سے لے کر حکومت کے ان تمام اداروں سے فریاد کی جو ''فریاد رسی'' کے لیے قائم ہیں یا قائم بتائے جاتے ہیں اس کا مسئلہ اپنی بہن کی شادی کرانا ہے لیکن خود چھوٹا ہے اور باپ معذور ہے، جس کسی نے اس بے چارے کو یہ بتا کر بھٹکایا ہے۔

اس کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ کسی نے تم کو غلط اطلاع دی ہے کہ کالموں میں لکھی ہوئی باتوں کو کوئی پڑھتا یا سنتا بھی ہے بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ ان کو اپنی قبائیں مزید تربتر کرنے سے اتنی فرصت کہاں کہ کالم پڑھنے میں اپنا وقت ضایع کریں،اتنے وقت میں جو ایک کالم کے پڑھنے میں ''ضایع'' ہوتا ہے اپنے وقت میں دو چار لوٹے یا گھڑے یا مٹکے اور ''کیوں نہ اپنے قبا'' پر ڈالیں کہ یہ بہتی گنگا ہر وقت تو نہیں بہتی، آج وقت ہے کل ہو نہ ہو

برسات کا ہے موسم اور موج میں ہے دریا
کھیتوں کو دے لو پانی اٹھتی جوانیاں ہیں
Load Next Story