پی سی بی راہداریوں میں پراسرار خاموشیاں
پی سی بی راہداریوںمیں ان دنوں پراسرار خاموشیاںچھائی ہوئی ہیں
پی سی بی راہداریوںمیں ان دنوں پراسرار خاموشیاںچھائی ہوئی ہیں فوٹو: فائل
پی سی بی راہداریوںمیں ان دنوں پراسرار خاموشیاںچھائی ہوئی ہیں، چیئرمین شہریارخان آپریشن کے بعد سے لندن میں مقیم ہیں،اطلاعات ہیں کہ وہ رواں ہفتے واپس آجائینگے، مگر یہ بات ابھی واضح نہیں کہ دوبارہ عہدہ کب سنبھالیں گے، دوسری جانب نجم سیٹھی کا ایک وقت میں چیئرمین بننا یقینی دکھائی دے رہا تھا مگر شہریارخان کوان کے بعض قریبی افراد نے مستعفی ہونے سے باز رکھا، اس وجہ سے وہ خود بھی اب احتیاط سے معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں، صورتحال ابھی پیچیدہ دکھائی دیتی ہے،ماحول میں طوفان کے آنے سے پہلے جیسی خاموشی ہے۔
بظاہر سکون نظر آرہا ہے مگر قریبی افراد جانتے ہیں کہ اندر ہی اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے، بیچارے شہریارصاحب کی طبیعت اب بھی ٹھیک نہیں مگر ایک قریبی شخصیت نہیں چاہتی کہ وہ عہدہ چھوڑیں، حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں آئندہ چند روز میں واضح ہو جائے گا، مگر ایک بات طے ہے کہ بغیر چیئرمین کے کرکٹ بورڈ میں معاملات درست انداز میں نہیں چل رہے ہیں، خوش قسمتی سے ابھی ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز مل گئی،فیس بک پر ایک صاحب نے اسے ''چائنا کی ورلڈ چیمپئن'' کا لقب دیا جو بالکل درست لگتا ہے۔
ورنہ تینوں ٹی ٹوئنٹی میچز میں اتنی بدترین شکست کا شکار نہ ہوتی، ابتدائی دونوں ون ڈے میں بھی یکطرفہ مقابلوں نے شائقین کو بور کیا، میں حیران ہوں کہ آئی پی ایل میں جو پلیئرز ورلڈکلاس بولرز کے سامنے چھکے چوکے لگاتے ہیں وہ یو اے ای میں بالکل بھیگی بلی کیوں بنے ہوئے ہیں، سیریز میں فتح سے پاکستانی ٹیم کی ون ڈے رینکنگ میں ایک درجے بہتری آئے گی، اسی طرح اظہر علی کی کپتانی بھی بچ جائے گی، یوں سرفراز احمد کو ون ڈے کپتان بنانے کی مہم چلانے والوں کو مزید انتظار کرنا پڑے گا، ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ سیریز کا پاکستانی ٹیم کو تو یقیناً فائدہ ہوا ہے، عمدہ کھیل پر پلیئرز بھی سراہے جانے کے قابل ہیں۔
اب کچھ دیگر معاملات پر بھی بات کر لیتے ہیں، ان دنوں ملک میں ''ٹیلنٹ کی تلاش'' زوروں پر ہے، جہاں دیکھو ٹرائلز کرائے جا رہے ہیں، پی سی بی کے ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نذرجو ڈائریکٹر لاہور قلندرز زیادہ لگتے ہیں، وہ بھی اس میں مصروف ہیں،انھوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعداندرون ملک دورے کیے اور ''نیا ٹیلنٹ'' ڈھونڈنے کیلیے انگلینڈ تک پہنچ گئے مگر اب تک ان کے ٹھوس اقدامات دکھائی نہیں دیے ہیں، مدثرکی نظر پی ایس ایل فرنچائز پر ہی مرکوز دکھائی دے رہی ہے، یہ سوچ غلط ہے، انھیں پورے ملک کا ٹیلنٹ دیکھنا ہوگا۔
ایک ٹیم سے منسلک ہونے کے بعد تو ان کو اسی کے پلیئرز زیادہ بہتر دکھائی دیں گے اور دیگر کی حق تلفی ہو گی، ہمارے سابق کرکٹرز نوٹ کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے بورڈ نے اتنی بڑی تنخواہ پر ملازمت دے دی اب اپنے اصل کام پر توجہ دیں مگر افسوس ایسا نہیں ہے، اسی طرح بعض دیگر افسران کی توجہ کا محور بھی چند فرنچائزز ہی ہیں، یہ صریحاً مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے، بورڈ کے کسی افسر کو کسی بھی فرنچائز کیساتھ منسلک نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر اکیڈمی کے ڈائریکٹرکا کام پورے ملک سے ٹیلنٹ کی تلاش ہے ایک شہر یا صوبے سے نہیں، ویسے ان دنوں بورڈ نے فرنچائزز کو کھلی چھوٹ بھی دی ہوئی ہے، پورے پورے اسٹیڈیم دیے جا رہے ہیں، اس معاملے میں اعتدال سے کام لینا ضروری ہے۔
بورڈ کے بعض افسران بھی ڈبل گیم کھیل رہے ہیں، جیسے ایک صاحب جنھیں پی ایس ایل میں رکھا گیا، وہ بورڈ کے ترجمان بن کر ٹویٹر پر پالیسی معاملات پر بھی لوگوں کے سوالات کا جواب دیتے رہے، پھر انھوں نے تنخواہ بڑھوانے کیلیے ملازمت چھوڑنے کی خبر چلوائی، جب تنخواہ بڑھ گئی تو اب بورڈ کو لگتا ہے کہ وہ اس کے مفادات کا تحفظ نہیں کر پا رہے ہیں،ایک اور صاحب نے پی سی بی کے ذریعے فرنچائزز سے تعلقات بنائے اور اب ایک ٹیم سے وابستہ ہو گئے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام چونکہ خود معاملات پر توجہ نہیں دیتے اس کا فائدہ ملازمین اٹھاتے ہیں،اب بھی وقت ہے مدثر نذر و دیگر لوگوں کو احساس دلانا ہو گا کہ بھائی آپ اپنے اصل کام پر توجہ دیں ورنہ وہ دو، دو جگہ سے تنخواہیں لے کر بھی قومی کرکٹ کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گے، معاف کیجیے گا مگر حقیقت بیان کرنا ضروری ہے کہ ٹیلنٹ ہنٹ جیسے پروگرامز کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا، وسیم اکرم نے بھی لاکھوں روپے لے کر کیمپ لگائے ، پھر کہا گیا ہمیں اسپیڈ اسٹارز مل گئے کہاں ہیں وہ بیچارے اب،اگر حقیقی ٹیلنٹ تلاش کرنا ہے تو پی سی بی خود ملک بھر میں ٹرائلز کرائے اور منتخب کھلاڑیوںکو اپنی اکیڈمیز میں تربیت دے یقیناً اس کے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
افسوس اس وقت غلطیوں کی نشاندہی کا کام زیادہ لوگ نہیں کر رہے ہیں، پی سی بی کے سابق سربراہان بھی اپنے مفادات کیلیے ہی سامنے آتے ہیں، ورنہ جو غلط ہوتا رہے انھیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ، جیسے ایک صاحب نے اپنے بیٹے کو ملازمت دلا دی انھیں اب بورڈ میں سب کچھ اچھا لگنے لگا، ایک اور سابق چیئرمین جو اپنے دور میں ملازمین کے بونس بھی روک لیتے تھے، کافی عرصے تک اپنے ایک منظور نظر افسرکے معاہدے کی تجدید کراتے رہے، دلچسپ بات یہ تھی ان صاحب نے کئی برس بورڈ میں گذارے مگر کوئی کام نہ کیا۔
ایک فائل بغل میں دبائے آتے اور شام کو وہی لے کر چلے جاتے، اب30 ستمبر کو وہ فارغ ہو گئے تو ان کے حمایتی سابق چیئرمین آگ بگولہ ہیں، وہ دھمکیاں دیتے پھر رہے ہیں کہ ''اب دیکھو میں بورڈ کو کیسے میڈیا میں اڑاتا ہوں''۔ یہی حال سابق کرکٹرز کا بھی ہے جسے ملازمت مل گئی وہ خوش اور اسے کوئی خامی نظر نہیں آتی،چیک ملنے کے بعد اسے بورڈ میں دودھ کی نہریں بہتی محسوس ہوتی ہیں مگر جیسے ہی ملازمت ختم ہوتمام خامیاں آشکار ہو جاتی ہیں، یہ سوچ ختم ہونی چاہیے، یقین مانیے اگر سابق کرکٹرز و آفیشلز سچائی سے خامیوں کی نشاندہی کریں تو پی سی بی میں بہتری بھی آ جائے گی، ابھی تو موجودہ حکام یہی سمجھتے ہیں کہ ''ان کا فلاںکام کر دو چپ کر کے بیٹھ جائے گا'' اسی وجہ سے ملکی کرکٹ زیادہ ترقی نہیں کر پا رہی ہے۔
بظاہر سکون نظر آرہا ہے مگر قریبی افراد جانتے ہیں کہ اندر ہی اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے، بیچارے شہریارصاحب کی طبیعت اب بھی ٹھیک نہیں مگر ایک قریبی شخصیت نہیں چاہتی کہ وہ عہدہ چھوڑیں، حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں آئندہ چند روز میں واضح ہو جائے گا، مگر ایک بات طے ہے کہ بغیر چیئرمین کے کرکٹ بورڈ میں معاملات درست انداز میں نہیں چل رہے ہیں، خوش قسمتی سے ابھی ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز مل گئی،فیس بک پر ایک صاحب نے اسے ''چائنا کی ورلڈ چیمپئن'' کا لقب دیا جو بالکل درست لگتا ہے۔
ورنہ تینوں ٹی ٹوئنٹی میچز میں اتنی بدترین شکست کا شکار نہ ہوتی، ابتدائی دونوں ون ڈے میں بھی یکطرفہ مقابلوں نے شائقین کو بور کیا، میں حیران ہوں کہ آئی پی ایل میں جو پلیئرز ورلڈکلاس بولرز کے سامنے چھکے چوکے لگاتے ہیں وہ یو اے ای میں بالکل بھیگی بلی کیوں بنے ہوئے ہیں، سیریز میں فتح سے پاکستانی ٹیم کی ون ڈے رینکنگ میں ایک درجے بہتری آئے گی، اسی طرح اظہر علی کی کپتانی بھی بچ جائے گی، یوں سرفراز احمد کو ون ڈے کپتان بنانے کی مہم چلانے والوں کو مزید انتظار کرنا پڑے گا، ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ سیریز کا پاکستانی ٹیم کو تو یقیناً فائدہ ہوا ہے، عمدہ کھیل پر پلیئرز بھی سراہے جانے کے قابل ہیں۔
اب کچھ دیگر معاملات پر بھی بات کر لیتے ہیں، ان دنوں ملک میں ''ٹیلنٹ کی تلاش'' زوروں پر ہے، جہاں دیکھو ٹرائلز کرائے جا رہے ہیں، پی سی بی کے ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نذرجو ڈائریکٹر لاہور قلندرز زیادہ لگتے ہیں، وہ بھی اس میں مصروف ہیں،انھوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعداندرون ملک دورے کیے اور ''نیا ٹیلنٹ'' ڈھونڈنے کیلیے انگلینڈ تک پہنچ گئے مگر اب تک ان کے ٹھوس اقدامات دکھائی نہیں دیے ہیں، مدثرکی نظر پی ایس ایل فرنچائز پر ہی مرکوز دکھائی دے رہی ہے، یہ سوچ غلط ہے، انھیں پورے ملک کا ٹیلنٹ دیکھنا ہوگا۔
ایک ٹیم سے منسلک ہونے کے بعد تو ان کو اسی کے پلیئرز زیادہ بہتر دکھائی دیں گے اور دیگر کی حق تلفی ہو گی، ہمارے سابق کرکٹرز نوٹ کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے بورڈ نے اتنی بڑی تنخواہ پر ملازمت دے دی اب اپنے اصل کام پر توجہ دیں مگر افسوس ایسا نہیں ہے، اسی طرح بعض دیگر افسران کی توجہ کا محور بھی چند فرنچائزز ہی ہیں، یہ صریحاً مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے، بورڈ کے کسی افسر کو کسی بھی فرنچائز کیساتھ منسلک نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر اکیڈمی کے ڈائریکٹرکا کام پورے ملک سے ٹیلنٹ کی تلاش ہے ایک شہر یا صوبے سے نہیں، ویسے ان دنوں بورڈ نے فرنچائزز کو کھلی چھوٹ بھی دی ہوئی ہے، پورے پورے اسٹیڈیم دیے جا رہے ہیں، اس معاملے میں اعتدال سے کام لینا ضروری ہے۔
بورڈ کے بعض افسران بھی ڈبل گیم کھیل رہے ہیں، جیسے ایک صاحب جنھیں پی ایس ایل میں رکھا گیا، وہ بورڈ کے ترجمان بن کر ٹویٹر پر پالیسی معاملات پر بھی لوگوں کے سوالات کا جواب دیتے رہے، پھر انھوں نے تنخواہ بڑھوانے کیلیے ملازمت چھوڑنے کی خبر چلوائی، جب تنخواہ بڑھ گئی تو اب بورڈ کو لگتا ہے کہ وہ اس کے مفادات کا تحفظ نہیں کر پا رہے ہیں،ایک اور صاحب نے پی سی بی کے ذریعے فرنچائزز سے تعلقات بنائے اور اب ایک ٹیم سے وابستہ ہو گئے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام چونکہ خود معاملات پر توجہ نہیں دیتے اس کا فائدہ ملازمین اٹھاتے ہیں،اب بھی وقت ہے مدثر نذر و دیگر لوگوں کو احساس دلانا ہو گا کہ بھائی آپ اپنے اصل کام پر توجہ دیں ورنہ وہ دو، دو جگہ سے تنخواہیں لے کر بھی قومی کرکٹ کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں گے، معاف کیجیے گا مگر حقیقت بیان کرنا ضروری ہے کہ ٹیلنٹ ہنٹ جیسے پروگرامز کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا، وسیم اکرم نے بھی لاکھوں روپے لے کر کیمپ لگائے ، پھر کہا گیا ہمیں اسپیڈ اسٹارز مل گئے کہاں ہیں وہ بیچارے اب،اگر حقیقی ٹیلنٹ تلاش کرنا ہے تو پی سی بی خود ملک بھر میں ٹرائلز کرائے اور منتخب کھلاڑیوںکو اپنی اکیڈمیز میں تربیت دے یقیناً اس کے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
افسوس اس وقت غلطیوں کی نشاندہی کا کام زیادہ لوگ نہیں کر رہے ہیں، پی سی بی کے سابق سربراہان بھی اپنے مفادات کیلیے ہی سامنے آتے ہیں، ورنہ جو غلط ہوتا رہے انھیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ، جیسے ایک صاحب نے اپنے بیٹے کو ملازمت دلا دی انھیں اب بورڈ میں سب کچھ اچھا لگنے لگا، ایک اور سابق چیئرمین جو اپنے دور میں ملازمین کے بونس بھی روک لیتے تھے، کافی عرصے تک اپنے ایک منظور نظر افسرکے معاہدے کی تجدید کراتے رہے، دلچسپ بات یہ تھی ان صاحب نے کئی برس بورڈ میں گذارے مگر کوئی کام نہ کیا۔
ایک فائل بغل میں دبائے آتے اور شام کو وہی لے کر چلے جاتے، اب30 ستمبر کو وہ فارغ ہو گئے تو ان کے حمایتی سابق چیئرمین آگ بگولہ ہیں، وہ دھمکیاں دیتے پھر رہے ہیں کہ ''اب دیکھو میں بورڈ کو کیسے میڈیا میں اڑاتا ہوں''۔ یہی حال سابق کرکٹرز کا بھی ہے جسے ملازمت مل گئی وہ خوش اور اسے کوئی خامی نظر نہیں آتی،چیک ملنے کے بعد اسے بورڈ میں دودھ کی نہریں بہتی محسوس ہوتی ہیں مگر جیسے ہی ملازمت ختم ہوتمام خامیاں آشکار ہو جاتی ہیں، یہ سوچ ختم ہونی چاہیے، یقین مانیے اگر سابق کرکٹرز و آفیشلز سچائی سے خامیوں کی نشاندہی کریں تو پی سی بی میں بہتری بھی آ جائے گی، ابھی تو موجودہ حکام یہی سمجھتے ہیں کہ ''ان کا فلاںکام کر دو چپ کر کے بیٹھ جائے گا'' اسی وجہ سے ملکی کرکٹ زیادہ ترقی نہیں کر پا رہی ہے۔